وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کئی گھنٹوں کے دورے کے بعد نمائش چورنگی پہنچے جہاں انہوں نے مختصر خطاب کیا اور روانہ ہوگئے۔ ان کے خطاب کے فوراً بعد نمائش چورنگی پر موجود پی ٹی آئی کارکن بھی منتشر ہوگئے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کیماڑی، بلدیہ اور کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور اپنے قافلے کے ہمراہ مزارِ قائد پر حاضری بھی دی۔ دوسری جانب شہر میں جلسے سے قبل صورتحال کشیدہ رہی۔ باغِ جناح کے قریب پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان دن بھر آنکھ مچولی جاری رہی جبکہ گرو مندر اور جلسہ گاہ کے اطراف مختلف علاقوں میں کارکنوں کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔
نمائش چورنگی کے قریب پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا جس کے دوران 30 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ پیپلز چورنگی، مزارِ قائد، خداداد کالونی، گرو مندر اور نمائش سمیت مختلف اہم سڑکوں کی بندش کے باعث شہر میں ٹریفک کا نظام متاثر ہوا اور کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی۔ تاہم ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں کہیں بھی مکمل ٹریفک جام کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
ادھر پی ٹی آئی قیادت نے جلسے کے انعقاد پر مؤقف برقرار رکھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سندھ حکومت بدمزگی پیدا نہ کرے اور اچھے ماحول کو چلنے دے، جلسہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے ہے۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ این او سی موجود ہے اور جلسہ ہر صورت ہوگا۔
