اپریل 21, 2026

عالمی قانون یا امریکی طاقت کا قانون

تحریر : راجہ اظہر محمود

دنیا کی سیاست میں اکثر واقعات صرف خبر ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کے اصل خدو خال کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ وینزویلا کے صدر نکولس مادور کے خلاف امریکہ بہادر کی طرف سے کی جانے والی کاروائی بھی ہے جو عالمی قانون، ریاستی خودمختاری ،اورانصاف کے بلند بانگ دعوؤں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔سوال یہ نہیں کہ الزامات کیا ہیں سوال یہ ہے کہ فیصلے کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے اور کس قانون کے تحت ہونا ہےاور کن اصولوں کے مطابق دنیا کو چلانا ہے ۔امریکہ خود کو جمہوریت ، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا علمبردار کہتا آیا ہے امریکہ کے سرکاری بیانات ، اقوام متحدہ کی تقاریر اور عالمی فورمز پر اپنی پارسائی کے بلند بانگ دعوے ایک پُرامن اور مثالی دنیا کا نقشہ پیش کرتے ہیں ۔مگر عملی طور پر امریکہ قانون سے بالاتر ایک طاقتور کے طور پر سامنے آیا ہے
کسی خودمختار ملک کے منتخب صدر کے خلاف کاروائی اور عالمی سطح پر اسے مجرم ثابت کرنے کی کوشش نہ صرف سفارتی آداب بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے ۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب طاقتور خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے اصول اور قوانین کاغذ کی بے وقعت تحریریں بن کر رہ جاتی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے قبل عراق پر مہلک ہتھیاروں سے حملہ ، افغانستان میں بیس سال سے جنگ، لیبیا کی تباہی اور شام پر پابندیاں اور ایران پر حملہ صرف اور صرف طاقت کا استعمال ہی تو ہے۔خود ہی الزام لگانا،خود ہی عدالت لگانا اور خود ہی سزا دینا۔اس کے بر عکس عالمی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وینزویلا کے صدر کے خلاف اگر شواہد ہیں تو عالمی عدالت انصاف اور سفارتی فورمز سے رجوع کرنا چاہیئے ۔ سوال پھر وہی ہے کہ امریکہ نے ان عالمی اداروں کو نظر انداز کر کے یکطرفہ کاروائی کیوں کی کوئی امریکہ کو پوچھنے والا نہیں ہے امریکہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور کیا بڑی طاقتوں کےلئے احتساب کا کوئی نظام کیوں نہیں ہے۔امریکہ دوسروں کو تو انسانی حقوق کے سبق پڑھاتا ہے لیکن خود دیکھو تو عراق پر لاکھوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت ، افغانستان کی تباہی اور ڈرون حملوں میں لوگوں کا قتل عام اور گوانتانامو ےجیسے عقوبت خانے جہاں پر انسانوں پر ظلم کی لرزہ خیز داستانوں کے انکشافات جن کو بیان کرتے ہوئے زبان ساتھ نہیں دیتی۔ اگر انصاف کا کوئی عالمی اصول اور قانون ہے پھر ان جرائم اور ظلم کا احتساب کون کرے گا۔ وینزویلا کا اصل جرم یہ نہیں کہ اس پر الزامات عائد ہوۓ ہیں بلکہ یہ کہ اس نے امریکی بالادستی کو چیلنج کیا ہے اس نے تیل اور دیگر قدرتی وسائل پر قومی حق کی بات کی ہےاور اپنی خارجہ پالیسی واشنگٹن کی ھدایت کے مطابق فریم نہیں کی اور ایک آزادانہ قومی مؤقف اپنایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے یہ جرآت کی اس پر پابندیاں اور الزامات لگنا شروع ہو جاتے ہیں ۔پچھلے کچھ عرصہ سے امریکہ نے قانونی اور معاشی پابندیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ وینزویلا پر معاشی پابندیاں ،تیل کی تجارت پر پابندی اور دیگر مالیاتی اور سفارتی پابندیاں اور سختیاں برائے راست عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کے مترادف ہیں جس کی سزا عام شہری کو بھگتنے پر مجبور کیا گیا ہے
اس پورے کھیل میں میڈیا کا کردار لائق تحسین نہیں رہا۔ مغربی میڈیا تو امریکہ کے ہر اقدام کو حرفِ آخر سمجھتا ہے اور ہر الزام کو حقائق بنا کر پیش کرتا ہے ۔جبکہ آذاد صحافت کا تقاضا ہے کہ وہ طاقتور سے سوال کرے مگر بد قسمتی سے صحافت طاقتور کے مفادات کے گرد گھومتی ہے بلکہ ناچتی ہے۔ وینز ویلا کا موجودہ واقعہ عالمی اداروں کی بے بسی ظاہر کرتا ہے اگر یہ ادارے واقعی خود مختار ہوتے تو کسی طاقتور ملک کو اس طرح عالمی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی جرآت نہ ہوتی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی نظام انصاف طاقت ور کا اسیر ہے۔ لیکن یاد رکھیں آج وینزویلا کے صدر کو نشانہ بنایا گیا ھے تو کل کسی اور کی بھی باری آ سکتی ہے۔ عالمی دنیا میں قانون نہیں بلکہ طاقت کا قانون چل رہا ہے ۔وینزویلا کے معاملے میں امریکہ کے طرز عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ معاملات قانون،انصاف اور عدل کے مطابق نہیں بلکہ غلبے اور طاقت کے زور پر ہوتے ہیں اور یہی المیہ ہے جو عالمی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے ۔قانون کی بات ہوتی ہے مگر قانون کی حکمرانی نظر نہیں آتی