اپریل 21, 2026

قد چھوٹا نہیں دل چھوٹا ہے پاکستان ریلوے بے حسی کی پٹڑی پر دوڑتا ایک المیہ

تحریر: محمدانوربھٹی

آج کی شام بندن میاں کی بیٹھک میں جو سکون تھا وہ اب آہستہ آہستہ ایک بوجھل خاموشی میں بدلنے لگا تھا چائے کا کپ وہیں تھا مگر بھاپ میں اب تلخی گھل چکی تھی بسکٹ کے ٹکڑے وہی تھے مگر کرنچ میں وہ مزہ نہ رہا کھڑکی سے آتی ہوا میں اب صرف مٹی نہیں بلکہ مزدور کے پسینے اور محرومی کی بو شامل ہو گئی تھی پڑوسیوں کی آوازیں مدھم پڑ گئیں اور بندن میاں اپنی کرسی پر ذرا سیدھے ہو کر بیٹھ گئے جیسے کسی فیصلے پر پہنچ رہے ہوں میں نے محسوس کیا کہ ان کی آنکھوں میں جو نرمی تھی اس میں اب سوال شامل ہو چکا ہے اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں بیٹھک کی گفتگو محض فلسفہ نہیں رہی بلکہ ایک اجتماعی چیخ بننے لگی بندن میاں نے آہستہ سے کہا بیٹا جب کسی ادارے کے کرتا دھرتا اصل مسائل کو سمجھنے سے انکار کر دیں جب وہ فائلوں کے پلندوں میں چھپ کر حقائق سے منہ موڑ لیں جب میٹنگز صرف تصویروں اور بیانات تک محدود ہو جائیں اور مسائل کو حل کرنے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جائے تو پھر ادارے اصلاح کی طرف نہیں تباہی اور بربادی کی طرف جاتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے میں محنت کش کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا پاکستان ریلوے بھی آج اسی موڑ پر کھڑی ہے کل بندن میاں نے فیس بک پر ایک خبر پڑھی اور دل واقعی بہت رنجیدہ ہوا کہ ریلوے کے وفاقی وزیر کے دورے کے دوران مزدور رہنماؤں سے ملاقات ہی نہ کی گئی گھگھر میں کراچی ڈویژن لانڈھی سیکشن مارشلنگ یارڈ پپری سیکشن کے ٹی ایل اے ملازمین اپنے حقوق کے لیے نعرے لگا رہے تھے مستقل نہ کیے جانے تین تین ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ایریرز کے بقایاجات ان کےمطالبات تھے مگر پولیس نے انہیں وزیر سے ملنے ہی نہ دیا بندن میاں نے گہری سانس لے کر کہا بیٹا یہ صرف ایک واقعہ نہیں یہ ایک سوچ کی عکاسی ہے جب وزیر مزدور سے نہ ملے تو سمجھ لو کہ ادارہ اپنی جڑوں سے کٹ رہا ہے اسی دوران ایک اور خبر سامنے آئی ریل بچاؤ ٹرین مارچ پیپلز ریلوے ورکرز پاکستان نے اعلان کیا ہےکہ 28 جنوری کو کوئٹہ سے لاہور تک جعفر خان جمالی ایکسپریس کے ذریعے یہ مارچ ہوگا بندن میاں نے کہا سوچو بیٹا جب مزدور ریل کو بچانے کے لیے خود ٹرین مارچ پر نکل آئے تو اس کا مطلب ہے کہ ادارے کے نگہبان سو رہے ہیں پریس ریلیز کے مطابق ریلوے اس وقت بدترین شارٹیج کا شکار ہے پچپن فیصد سے زائد آسامیاں خالی ہیں مگر اس کے باوجود نئی بھرتیوں کے بجائے ریشنلائزیشن کے نام پر سترہ ہزار سے زائد پوسٹیں ختم کر دی گئیں نتیجہ یہ نکلا کہ جو مزدور آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرنے کے پابند تھے ان پر بارہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹیاں ڈال دی گئیں ان کے آرام ان کی چھٹیاں ان کی صحت سب کچھ قربان ہو گیا ہےذہنی تناؤ کے سبب ملازمین ہائی بلڈ پریشر ،شگر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں کتنے ہی ملازمین دوران ڈیوٹی ہارٹ اٹیک کے سبب وفات پاچکے ہیں اور فالج کا شکار ہوچکے ہیں ۔بندن میاں نے کہا بیٹا جس ادارے میں مزدور تھک کر گرنے لگے وہاں ٹرینیں کیسے محفوظ رہیں گی 2026 اور 2027 میں بڑے پیمانے پر ریٹائرمنٹس ہونے والی ہیں اگر ابھی بھرتیاں نہ ہوئیں تو آنے والے دنوں میں ریل کا پہیہ رک جانا کوئی بعید بات نہیں پھر کچے مزدوروں کا المیہ ہے جو اپنی جوانیاں اس ریل کو دے چکے ہیں عمر کی دہلیز پار کر چکے ہیں مگر آج بھی ریگولر نہیں یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں یہ انسانی المیہ ہے بندن میاں نے کہا بیٹا وزرا پریس کانفرنسوں میں آمدن کے اعداد و شمار سناتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے کہ ریل فائدے میں جا رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر ادارہ فائدے میں ہے تو مزدور کی تنخواہ کیوں تاخیر کا شکار ہے جی پی ایف جو مزدور کا اپنا پیسہ ہے اسے لینے میں مہینے کیوں لگتے ہیں 2019 سے ٹی اے کیوں بند ہے ریٹائرڈ اور فوت شدہ مزدوروں کی گریجویٹی سالوں بعد کیوں ملتی ہے گینگ مین جو ریل کی ریڑھ کی ہڈی ہیں آج بھی اپ گریڈیشن سے محروم کیوں ہیں اور پھر امداد حسین کا ذکر آیا وہ ٹی ایل اے پیٹرولر جس نے اپنی جان دے کر ریل اور مسافروں کو بچایا مگر چونکہ وہ کچا مزدور تھا اس لیے نہ شہید کہلایا نہ اس کے خاندان کو وہ حقوق ملے بندن میاں کی آواز بھرا گئی انہوں نے کہا بیٹا یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب نہ کسی فائل میں ہے نہ کسی پریس ریلیز میں یہ جواب صرف نیت میں ہوتا ہے اور یہاں نیت کا بحران ہے ریل بچاؤ ٹرین مارچ اسی بحران کا نتیجہ ہے یہ احتجاج نہیں یہ فریاد ہے یہ آخری کوشش ہے کہ شاید کوئی سن لے شاید کوئی جاگ جائے بندن میاں نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا افسوس یہ بھی ہے کہ کچھ یونینیں جان بوجھ کر مزدوروں کو نان ایشوز میں الجھائے ہوئے ہیں تاکہ اصل مسائل پس منظر میں چلے جائیں اور ٹھیکیداری اور نجکاری کے خلاف جو دیوار کھڑی ہونی چاہیے وہ کمزور پڑ جائے مگر پیپلز ریلوے ورکرز پاکستان نے واضح کہا ہے کہ وہ نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کی کسی بھی شکل کو قبول نہیں کرے گی اور سیسہ پلائی دیوار بنے گی آخر میں بندن میاں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر کہا بیٹا سوال یہ نہیں کہ ٹرین مارچ کیوں ہو رہا ہے سوال یہ ہے کہ یہ نوبت کیوں آئی یہ نوبت اس لیے آئی کہ افسران نے بے حسی کی چادر اوڑھ لی وزرا نے مزدور کے درد سے پہلو تہی کی ادارے کے اصل مسائل کو نظر انداز کیا گیا اگر آج بھی دل بڑا نہ کیا گیا اگر آج بھی چائے کی میز سے نکل کر مزدور کے درمیان نہ بیٹھا گیا تو یہ بیٹھکیں خاموش ہو جائیں گی اور ریل کی پٹڑیاں صرف زنگ آلود کہانیاں سنائیں گی اصلاح ابھی بھی ممکن ہے مگر شرط وہی ہے جو بندن میاں شروع سے کہتے آئے ہیں دل بڑا کرنا ہوگا انا چھوٹی کرنی ہوگی اور مزدور کو محض عدد نہیں انسان سمجھنا ہوگا ورنہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔
اور بندن میاں ذرا رکے نہیں تھے بات کا دھارا آگے بڑھ چکا تھا اور بیٹھک کی فضا میں اب صرف چائے کی خوشبو نہیں بلکہ ریلوے کے ریٹائرڈ ملازمین کی آہیں بھی شامل ہو چکی تھیں بندن میاں نے آہستہ مگر گہرے درد کے ساتھ کہا بیٹا ایک اور سچ بھی ہے جس پر بہت کم بات کی جاتی ہے وہ یہ کہ جو ملازم ریلوے کی خدمت کرتے کرتے ریٹائر ہو جاتا ہے اس کے لیے مشکلات کا اصل سفر ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوتا ہے میں نے خود ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں چہرے دیکھے ہیں جن کی آنکھوں میں سوال اور ہاتھوں میں خالی فائلیں تھیں بندن میاں نے کہا بیٹا سوچو کہ ایک شخص تیس پینتیس یا چالیس سال ریل کی پٹڑیوں کے ساتھ جیتا ہے سردی گرمی بارش دھوپ میں اپنی جوانی کھپا دیتا ہے اور جب وہ ریٹائر ہوتا ہے تو قانون کے مطابق اس کی گریجویٹی اس کا حق ہوتی ہے خیرات نہیں احسان نہیں بلکہ اس کی محنت کی کمائی مگر حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان ریلوے میں ایسے بے شمار ریٹائرڈ ملازمین ہیں جنہیں ریٹائر ہوئے تین تین سال گزر چکے ہیں مگر گریجویٹی کی ایک قسط تک نصیب نہیں ہوئی بندن میاں نے کہا بیٹا یہ تاخیر صرف مالی نہیں ہوتی یہ ذہنی جسمانی اور نفسیاتی اذیت بن جاتی ہے بزرگ ملازم جو ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کا خواب دیکھتا ہے وہ دفتر کے چکر لگاتے لگاتے تھک جاتا ہے کبھی فائل مکمل نہیں کبھی دستخط نہیں کبھی بجٹ نہیں کبھی فنڈ نہیں اور یوں سال گزرتے جاتے ہیں بیماری بڑھتی جاتی ہے اور عزت نفس روز بروز مجروح ہوتی جاتی ہے پھر بندن میاں نے ایک اور زخم کریدتے ہوئے کہا بیٹا شادی گرانٹ اور فیئر ویل گرانٹ کا حال بھی اس سے مختلف نہیں کئی سالوں سے یہ ادائگیاں عملاً بند پڑی ہیں ملازمین کی بچیوں کی شادیاں قرض پر ہوتی ہیں لوگ ساہوکاروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور جب کوئی بزرگ ملازم ریٹائر ہوتا ہے تو فیئر ویل کے نام پر صرف ایک کاغذی دعا دے دی جاتی ہے عملی طور پر کوئی مدد نہیں بندن میاں نے کہا بیٹا یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی ادارے کے کلچر کو ظاہر کرتی ہیں اگر ادارہ اپنے بزرگ ملازم کو عزت نہ دے تو وہ ادارہ عمارت تو ہو سکتا ہے مگر خاندان نہیں بن سکتا اس کے بعد بندن میاں کی آواز اور بھی بھاری ہو گئی جب بات بیواؤں اور میڈیکل بنیادوں پر ریٹائر ہونے والوں کی آئی انہوں نے کہا بیٹا یہ وہ طبقہ ہے جسے سب سے زیادہ تحفظ ملنا چاہیے مگر یہاں سب سے زیادہ نظر انداز بھی یہی لوگ ہیں بینویلنٹ فنڈ جس کا مقصد ہی یہ ہے کہ بیوہ کو سہارا ملے بیمار کو وقت پر مدد ملے وہ فنڈ تعطل اور غیر شفافیت کا شکار ہے بیوائیں سالوں فائلیں اٹھائے دفاتر کے چکر لگاتی ہیں کبھی کہا جاتا ہے کیس زیر التوا ہے کبھی کہا جاتا ہے لسٹ میں نام نہیں کبھی کہا جاتا ہے اگلے ماہ آ جائے گا مگر وہ اگلا ماہ کبھی نہیں آتا بندن میاں نے کہا بیٹا میں نے ایسی بیوائیں دیکھی ہیں جو شوہر کے انتقال کے بعد بچوں سمیت کمرے کا کرایہ ادا نہیں کر پائیں علاج چھوڑ دیا تعلیم رک گئی اور ادارہ جس نے ان کے شوہر سے زندگی بھر کام لیا خاموش تماشائی بنا رہا اسی طرح میڈیکل بنیادوں پر ریٹائر ہونے والے ملازمین جو بیماری کی وجہ سے کام کے قابل نہیں رہے ان کے لیے بینویلنٹ فنڈ زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے مگر افسوس یہاں بھی تاخیر یہاں بھی ابہام اور یہاں بھی بے حسی بندن میاں نے کہا بیٹا یہ سب محض بدانتظامی نہیں یہ ایک منظم بے حسی ہے جب فائلیں جان بوجھ کر روکی جائیں جب فنڈ ہونے کے باوجود ادائیگی نہ کی جائے جب شفافیت کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی جائے تو پھر سوال اٹھتے ہیں اور احتجاج جنم لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج محنت کش سڑک پر ہے ٹرین مارچ کر رہا ہے نعرے لگا رہا ہے کیونکہ اس کے پاس اب خاموش رہنے کا حوصلہ نہیں بچا بندن میاں نے طنزیہ انداز میں کہا بیٹا وزرا اور افسران کہتے ہیں کہ مسائل بڑھا چڑھا کر بیان کیے جاتے ہیں مگر کوئی ان بیواؤں سے پوچھے کوئی ان بیمار ریٹائرڈ ملازمین سے ملے جن کے پاس دوائیاں خریدنے کے پیسے نہیں تو شاید یہ سمجھ آ جائے کہ مسئلہ کتنا گہرا ہے پھر بندن میاں نے کرسی سے تھوڑا آگے جھکتے ہوئے کہا بیٹا اصلاح کی بات پھر وہیں آتی ہے کہ دل بڑا کرنا ہوگا افسر کو فائل سے نکل کر انسان دیکھنا ہوگا وزیر کو پروٹوکول سے نکل کر مزدور سے ملنا ہوگا اگر آج بھی گریجویٹی کے کیس بروقت نمٹا دیے جائیں شادی گرانٹ اور فیئر ویل گرانٹ بحال کی جائیں بینویلنٹ فنڈ میں شفافیت لائی جائے تو بہت سے احتجاج خود بخود ختم ہو سکتے ہیں مگر اگر یہی روش رہی اگر یہی بے حسی رہی تو یاد رکھو بیٹا یہ ٹرین مارچ صرف ایک شروعات ہے پھر آوازیں اور بلند ہوں گی بیٹھکوں میں صرف فلسفہ نہیں احتجاجی لائحہ عمل تیار ہوگا اور بندن میاں نے آخر میں وہی بات دہرائی جو اس پوری گفتگو کا خلاصہ تھی کہ قد چھوٹا ہونا مسئلہ نہیں مسئلہ دل کا چھوٹا ہونا ہے اگر دل بڑا ہو تو ریٹائرڈ ملازم کی آنکھ میں آنسو نہیں ہوں گے بیوہ در در کی ٹھوکریں نہیں کھائے گی اور ریلوے واقعی عوام کی ریل بن سکے گی ورنہ یہ پٹڑیاں صرف شور مچاتی رہیں گی اور انصاف کی گاڑی کبھی اسٹیشن پر نہیں رکے گی