واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران "آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا” اور امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، تاہم اس کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے کچھ شہروں پر عوام قابض ہیں اور ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ بُرا سلوک کیا، جس کا آج انہیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایران میں مظاہرے مسلسل تیرہویں روز بھی جاری ہیں۔ اب تک پُرتشدد واقعات میں 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 15 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے نزدیک قصبے سے 100 مسلح فسادی گرفتار کر لیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ڈھائی ہزار سے زائد افراد حراست میں ہیں۔
ملک بھر میں مسلسل تیسرے روز انٹرنیٹ سروس بند ہے، جس سے معلومات کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔
یہ مظاہرے اور امریکی ردعمل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔




