روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، اوریشنک ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کا استعمال، متعدد ہلاکتیں

روس نے گزشتہ شب یوکرین کے مختلف شہروں پر شدید حملہ کرتے ہوئے ڈرونز، میزائلوں کے ساتھ ساتھ اوریشنک (Oreshnik) ہائپرسونک بیلسٹک میزائل بھی استعمال کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق دارالحکومت کیف میں کئی گھنٹوں تک زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہو گئے۔
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دسمبر کے آخر میں یوکرین کی جانب سے مبینہ طور پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔ تاہم روسی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ اوریشنک میزائل کا اصل ہدف کیا تھا۔
مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے قبل سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مغربی شہر لویو کے مضافات میں متعدد دھماکے دیکھے گئے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور دیگر حکام نے تصدیق کی ہے کہ لویو میں بعض تنصیبات کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، یہ شہر پولینڈ کی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ دوسرا موقع ہے جب روس نے اوریشنک میزائل کا استعمال کیا ہے، اس سے قبل نومبر 2024 میں یوکرین کے شہر دنیپرو کو اس میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اوریشنک ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ہے جو ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا وارہیڈ آخری مرحلے میں کئی حصوں میں تقسیم ہو کر وقفے وقفے سے شدید دھماکوں کا باعث بنتا ہے۔
یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور نیٹو کی سرحد کے قریب اس نوعیت کا حملہ پورے یورپی براعظم کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

Exit mobile version