اپریل 19, 2026

باپ کی خاموش چیخیں اور موبائل میں گم ہوتی اولاد

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں کی بیٹھک آج کچھ زیادہ ہی خاموش تھی وہی پرانی چارپائی وہی مٹی کی خوشبو وہی دیوار سے ٹکی ہوئی لاٹھی وہی چھت سے لٹکتا بلب جس کی روشنی میں نہ کوئی چمک تھی نہ کوئی دکھاوا بندن میاں بیٹھک کے ایک کونے میں بیٹھا تھا اس کی آنکھوں میں وقت کے تھکے ہوئے دریچے تھے اس کے ہاتھوں میں وہ کپکپاہٹ تھی جو صرف بڑھاپا نہیں دیتا بلکہ اولاد کی بے حسی بھی دے جاتی ہے یہ وہی ہاتھ تھے جنہوں نے جوانی میں اینٹیں اٹھائیں پسینے میں شرابور ہو کر مزدوری کی کبھی رکشہ چلایا کبھی فیکٹری میں راتیں کاٹیں کبھی گرمی میں تپتے فرش پر ننگے پاؤں چل کر رزق کمایا کبھی سردی کی یخ بستہ ہواؤں میں کپکپاتے جسم کے ساتھ محنت کی آگ جلائے رکھی یہ ہاتھ وہ تھے جو بچوں کے ماتھے پر بخار محسوس کرتے تو خود بیمار ہو جاتے تھے جو بچوں کے کھانسنے پر رات بھر جاگتے تھے جو بچوں کی فیس کتاب کاپی یونیفارم جوتے بیگ کے حساب میں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتے تھے بندن میاں کی بیٹھک میں آج بھی وہی خاموشی تھی مگر اس خاموشی میں شور تھا ایک ایسا شور جو صرف باپ سنتا ہے اولاد نہیں سن پاتی آج کی اولاد جو کمانے لگتی ہے تو سمجھتی ہے کہ زندگی کی ساری حقیقت اب اس کے ہاتھ میں ہے وہ موبائل کی اسکرین پر انگلیاں چلاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ دنیا اسی اسکرین کے اندر سمٹ آئی ہے وہ نہیں جانتی کہ باپ نے دنیا کو کیسے جھیلا تھا کیسے بغیر موبائل کے بغیر سہولت کے بغیر سہارا کے اس نے زمانے سے لڑائی لڑی تھی وہ اولاد جو آج کہتی ہے کہ باپ ساری کمائی خرچ کر دیتا ہے وہ یہ بھول جاتی ہے کہ اس کمائی کے پیچھے کتنی ہڈیاں ٹوٹی تھیں کتنی راتیں بھوکی گزری تھیں کتنے خواب دفن کیے گئے تھے باپ جب گرمی میں کام پر جاتا تھا تو اس کے سر پر چھت نہیں ہوتی تھی جب سردی میں نکلتا تھا تو اس کے پاس گرم کپڑے نہیں ہوتے تھے مگر اس کے دل میں ایک ہی آگ جلتی تھی کہ بچے آرام میں رہیں بچے پڑھیں بچے خوش رہیں بچے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں آج وہی بچے موبائل کی مصروفیات میں ایسے گم ہیں کہ باپ سامنے بیٹھا ہو تو بھی نظر نہیں آتا وہ واٹس ایپ فیس بک ویڈیوز ریلز میں ایسے الجھے ہیں کہ باپ کی خاموش آنکھیں انہیں نہیں دکھائی دیتیں وہ نہیں دیکھ پاتے کہ جب وہ تیز اور تکلیف دہ الفاظ بولتے ہیں تو باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے وہ نہیں جانتے کہ باپ جواب اس لیے نہیں دیتا کہ وہ کمزور ہے بلکہ اس لیے نہیں دیتا کہ وہ باپ ہے وہ اس لیے خاموش رہتا ہے کہ اس کی خاموشی میں دعا ہوتی ہے بددعا نہیں جب اولاد کہتی ہے آپ کو سمجھ نہیں آتی آپ پرانے خیالات کے ہیں آپ نے کیا ہی دیکھا ہے تو باپ کے اندر کچھ ٹوٹ جاتا ہے وہ سوچتا ہے کہ اگر میں نے کچھ نہ دیکھا ہوتا تو تم آج یہ الفاظ بولنے کے قابل بھی نہ ہوتے بندن میاں کی بیٹھک میں یہ سب باتیں ہوا میں معلق تھیں دیواریں بھی شاید یہ کہانیاں سن سن کر تھک گئی تھیں مگر اولاد کے کان بند تھے آج کے بیٹے اور بیٹیاں جو خود کو بہت عقل مند سمجھتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس دن باپ نے بولنا چھوڑ دیا وہ دن ان کی زندگی کا سب سے بھاری دن ہوگا باپ کی تڑپ وہی جانتا ہے جب بچہ بیمار ہوتا تھا تو وہ ڈاکٹر کے باہر کھڑا ہو کر اندر کی آوازیں سنتا تھا وہ دعا کرتا تھا کہ اللہ بیماری مجھے دے دے میرے بچے کو نہ دے وہ رات کو چھپ کر روتا تھا تاکہ بچے کو اس کی کمزوری نظر نہ آئے وہ اپنی تھکن اپنے دکھ اپنی تکلیف سب مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتا تھا مگر آج بڑھاپے میں جب اس کی کمر جھک گئی ہے جب اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں جب اس کی آواز میں لرزش آ گئی ہے تو اولاد کو اس کی یہ حالت بوجھ لگتی ہے وہ کہتی ہے آپ آرام سے بیٹھیں ہمیں اپنا کام کرنے دیں دراصل وہ کہنا چاہتی ہے کہ ہمیں تنگ نہ کریں بندن میاں کی بیٹھک میں بیٹھا باپ یہی سوچ رہا تھا کہ میں نے تو کبھی نہیں کہا تھا کہ تم مجھے تنگ کر رہے ہو میں نے تو تمہاری ہر ضد کو اپنی کمزوری سمجھ کر پورا کیا تھا آج تمہاری مصروفیات تمہاری دنیا تمہارے موبائل تمہارے دوست تمہارے اسٹیٹس تمہاری کہانیاں سب اہم ہیں مگر باپ کی خاموشی غیر اہم ہے اولاد یہ نہیں سمجھتی کہ الفاظ کے زخم جسم کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں جب باپ کو کہا جاتا ہے کہ آپ کو کچھ نہیں آتا آپ نے ہمیں کیا دیا ہے تو اس کے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر میں نے کچھ نہیں دیا تو تم یہاں تک کیسے پہنچے بندن میاں کی بیٹھک اس بات کی گواہ تھی کہ باپ نے اپنی زندگی کو اولاد کے نام لکھ دیا تھا مگر اولاد نے اپنے وقت کا ایک لمحہ بھی باپ کے نام نہیں لکھا آج یہ تحریر ہر اس اولاد کے لیے ہے جو کمانے لگتے ہی خود کو سب کچھ سمجھنے لگتی ہے جو باپ کے احسانات بھول جاتی ہے جو یہ نہیں جانتی کہ باپ کا سایہ کتنا قیمتی ہوتا ہے جب یہ سایہ اٹھ جاتا ہے تب احساس ہوتا ہے مگر تب ہاتھ میں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے اور بندن میاں کی بیٹھک میں بس ایک خالی چارپائی ایک ٹوٹی لاٹھی اور ایک خاموش دعا باقی رہ جاتی ہے
اور بندن میاں کی بیٹھک میں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا وہی وقت جو کبھی باپ کے لیے دوڑتا رہا کبھی اس کے ہاتھ سے پھسلتا رہا کبھی بچوں کی ضرورتوں میں گم ہو گیا آج وہی وقت باپ کے سامنے بیٹھا تھا اور اولاد کہیں اور مصروف تھی باپ سوچتا تھا کہ یہ موبائل جسے اولاد نے ہاتھ سے چپکا رکھا ہے اس میں آخر ایسا کیا ہے جو میرے چہرے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کیا اس اسکرین میں وہ راتیں محفوظ ہیں جو میں نے جاگ کر گزاریں کیا اس میں وہ چھالے ہیں جو میرے ہاتھوں پر پڑے کیا اس میں وہ آنسو ہیں جو میں نے چھپا کر بہائے کیا اس میں وہ دعائیں ہیں جو میں نے سجدوں میں مانگیں بندن میاں کی بیٹھک میں بیٹھا باپ یاد کرتا تھا جب بچے چھوٹے تھے تو موبائل نہیں تھے مگر باتیں تھیں ہنسی تھی سوال تھے کہ ابو یہ کیا ہے ابو وہ کیا ہے ابو ہمیں کہانی سنائیں ابو ہمیں گود میں اٹھائیں ابو ہمیں باہر لے جائیں اور آج سوال ختم ہو گئے باتیں ختم ہو گئیں کہانیاں ختم ہو گئیں بس اسکرین باقی رہ گئی ہے اور باپ اس اسکرین کے پیچھے گم ہو گیا ہے وہ سوچتا ہے کہ شاید میری جگہ اب اس موبائل نے لے لی ہے شاید میرے تجربے اب کسی کام کے نہیں رہے شاید میری باتیں اب بور لگتی ہیں شاید میرا وجود اب صرف خرچ سمجھا جاتا ہے بندن میاں کی بیٹھک میں یہ احساس بھی تھا کہ باپ جب کہتا ہے کہ پیسے سنبھال کر خرچ کرو تو وہ لالچی نہیں ہوتا وہ صرف آنے والے وقت کو دیکھ رہا ہوتا ہے وہ وقت جس کا تجربہ اسے سکھا چکا ہے کہ جوانی کا زور ہمیشہ نہیں رہتا کہ نوکری ہمیشہ نہیں رہتی کہ صحت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی مگر اولاد یہ نصیحت سن کر کہتی ہے کہ آپ پرانے زمانے کے ہیں آپ کو کچھ نہیں پتا اور باپ خاموش ہو جاتا ہے اس خاموشی میں اس کے اندر ایک چیخ ہوتی ہے جو باہر نہیں آتی وہ چیخ کہتی ہے کہ کاش تمہیں پتا ہوتا کہ میں نے کتنا دیکھا ہے کتنا جھیلا ہے کتنا برداشت کیا ہے بندن میاں کی بیٹھک میں بیٹھا باپ اس دن کو بھی یاد کرتا ہے جب اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں تھا مگر دل بہت بڑا تھا وہ بچوں کے لیے کھلونا نہ لا سکا تو کہانی لے آیا وہ جوتا نہ لا سکا تو اپنے کندھوں پر بٹھا کر بازار گھما لایا وہ پڑھائی کا خرچ پورا نہ کر سکا تو اپنی نیند قربان کر کے مزدوری بڑھا لی آج اس کے پاس شاید دینے کو کچھ نہیں بچا مگر اس کے پاس دعائیں ہیں تجربہ ہے محبت ہے مگر اولاد کو ان چیزوں کی قیمت نظر نہیں آتی اولاد کہتی ہے ہمیں سپیس دیں ہمیں اپنی زندگی جینے دیں مگر باپ سوچتا ہے کہ کیا میں نے کبھی اپنی زندگی جی تھی یا میں نے تو ساری زندگی تمہاری زندگی کے لیے قربان کر دی تھی بندن میاں کی بیٹھک میں یہ سوال بھی گونج رہا تھا کہ اولاد کو یہ کس نے سکھایا کہ باپ بوجھ ہے کہ باپ پرانا ہے کہ باپ کی باتیں فضول ہیں شاید یہ سوشل میڈیا ہے شاید یہ نئی سوچ ہے شاید یہ وہ دنیا ہے جہاں رشتے بھی اپڈیٹ مانگتے ہیں اور باپ اپڈیٹ نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کی اپڈیٹ محبت تھی قربانی تھی خاموشی تھی وہ نئی زبان نہیں سیکھ سکا جس میں اولاد بات کرتی ہے وہ ایموجی کی زبان نہیں جانتا وہ اسٹیٹس کی زبان نہیں جانتا وہ لائکس اور ویوز کی زبان نہیں جانتا وہ بس دل کی زبان جانتا ہے اور دل کی زبان آج کل کسی کو سمجھ نہیں آتی بندن میاں کی بیٹھک میں بیٹھا باپ جب یہ سنتا ہے کہ آپ کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے تو اس کے اندر کچھ مر جاتا ہے وہ سوچتا ہے کہ اگر میں رکاوٹ تھا تو پھر تم یہاں تک کیسے آئے وہ سوچتا ہے کہ میں نے تو تمہیں آگے بڑھانے کے لیے خود کو پیچھے کیا تھا آج وہی پیچھے رہ جانا میری سزا بن گیا ہے اولاد جب غصے میں تیز لفظ بولتی ہے تو باپ کا دل زخمی ہوتا ہے مگر وہ پھر بھی دعا کرتا ہے کہ اللہ میرے بچوں کو خوش رکھنا انہیں مجھ سے بہتر زندگی دینا بندن میاں کی بیٹھک میں یہی فرق تھا باپ کی دعا میں خودی نہیں تھی اور اولاد کے لفظوں میں لحاظ نہیں تھا یہ تحریر اسی لیے ہے کہ آج کی اولاد رک کر سوچے کہ جس باپ کو وہ آج نظرانداز کر رہی ہے جسے وہ آج وقت دینا فضول سمجھتی ہے جسے وہ آج بوجھ سمجھتی ہے وہی باپ کل اس دنیا میں نہیں ہوگا اور اس کے بعد نہ موبائل کام آئے گا نہ اسکرین نہ مصروفیات بس ایک خالی بیٹھک ہوگی ایک خاموش چارپائی ہوگی اور ایک دل ہوگا جو خود سے سوال کرے گا کہ کاش میں نے وقت دیا ہوتا کاش میں نے نرم لفظ بولے ہوتے کاش میں نے سمجھا ہوتا کہ باپ کا دل کتنا نازک ہوتا ہے بندن میاں کی بیٹھک آج بھی وہیں ہے مگر ہر دن اس بیٹھک میں بیٹھنے والا ایک دن کمزور ہوتا جا رہا ہے اور اولاد ہر دن مزید مصروف ہوتی جا رہی ہے یہ فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور اس فاصلے میں صرف ایک ہی ہار رہا ہے وہ باپ جو آخری سانس تک اولاد کی خیر مانگتا ہے اور یہی اس تحریر کا پیغام ہے کہ باپ کی قدر کرو اس سے پہلے کہ اس کی خاموشی ہمیشہ کے لیے بولنا چھوڑ دے۔