ہم لکیر کے فقیر ہی کیوں بنے ہوئے ہیں

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں اس سوال کو اپنے دل میں یوں گھماتا پھرتا ہے جیسے سردیوں میں ہاتھ جیبوں میں گھمائے جاتے ہیں ایک وقت تھا بندن میاں کہتا ہے کہ سندھ کی سردی بھی باقاعدہ نظم و ضبط کی پابند تھی نومبر میں آہستہ آہستہ دروازہ کھٹکھٹاتی دسمبر میں پورے جوبن پر آتی اور سب کو معلوم ہوتا کہ اب سردی ہے اب رضائیاں نکلیں گی اب بچوں کے کان ڈھانپے جائیں گے اور اسی فطری ترتیب کو سامنے رکھ کر اسکولوں کالجوں میں موسم سرما کی چھٹیاں بھی رکھی جاتی تھیں تاکہ نہ بچوں کی صحت متاثر ہو نہ والدین کی نیند اور نہ گھروں کا سکون مگر وقت بدلا موسم بدلا ہوا کے مزاج بدلے اور اب پچھلے کئی برسوں سے یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ سردی دسمبر کے آخر میں آنکھیں ملتی ہے اور جنوری کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں ایسی شدت اختیار کرتی ہے کہ بڑے بڑے صحت مند لوگ بھی کھانس کھانس کر دن گزارنے لگتے ہیں مگر بندن میاں حیران ہے کہ موسم بدل گیا عقل کیوں نہیں بدلی فطرت نے اپنا کیلنڈر تبدیل کرلیا مگر ہم اب بھی پرانی تاریخوں کے قیدی بنے بیٹھے ہیں جنوری کی یخ بستہ صبحوں میں ننھے بچے بستے اٹھائے اندھیرے اور دھند میں اسکول جاتے ہیں ناک بہتی ہے آنکھیں سرخ ہوتی ہیں سینہ بھاری ہوتا ہے اور ماں باپ کے دل میں خوف بیٹھ جاتا ہے کہ یہ بچہ کہیں بیمار نہ پڑ جائے پھر وہی نزلہ زکام کھانسی بخار اور بعض اوقات سینے کی ایسی بیماریاں جن کا خمیازہ ہفتوں بھگتنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی والدین کی جیب پر بوجھ اور ذہن پر پریشانی مگر بندن میاں کہتا ہے کہ جنہیں فیصلے کرنے ہیں انہیں شاید یہ سب دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ گرم کمروں میں بیٹھ کر فائلوں کے ساتھ موسم نہیں دیکھتے وہ تاریخ دیکھتے ہیں اکیس دسمبر سے اکتیس دسمبر ان کے نزدیک یہی سردی ہے یہی چھٹیاں ہیں اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جیسے موسم نہیں بلکہ کیلنڈر انسانوں پر حکومت کر رہا ہو بندن میاں کو یہ ضد سمجھ نہیں آتی کہ اگر سردی اب جنوری میں عروج پر ہے تو چھٹیاں جنوری میں کرنے میں کیا حرج ہے کیا اس سے تعلیمی نظام بیٹھ جائے گا کیا بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا یا صرف اس لیے ممکن نہیں کہ ایسا پہلے نہیں ہوتا رہا بندن میاں کہتا ہے کہ یہی تو مسئلہ ہے ہم نے عقل کو روایت کی زنجیر میں جکڑ رکھا ہے ہم بدلتے حالات کو دیکھ کر فیصلے کرنے کے بجائے فائلوں کی گرد جھاڑ کر پرانے نوٹس پڑھ لیتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام کر دیا حالانکہ اصل کام تو بچوں کی صحت اور عوام کے سکون کا خیال رکھنا تھا بندن میاں ذرا تلخی سے مسکراتا ہے اور کہتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ بیماریوں کے بڑھنے میں کسی کی سہولت ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ کلینک آباد ہوں نسخے چلیں اور دوا فروش خوش ہوں اور اس خوشی میں بچوں کی کھانسی اور ماؤں کی بے خوابی دب جاتی ہو بندن میاں الزام نہیں لگاتا سوال اٹھاتا ہے کیونکہ سوال زندہ معاشروں کی پہچان ہوتے ہیں اور خاموشی مردہ ذہنوں کی علامت مگر افسوس یہاں سوال پوچھنے والا بھی لکیر سے باہر قدم رکھنے والا سمجھا جاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی افسانہ نہیں روزمرہ کی حقیقت ہے سردی گرمی بارش سب اپنی جگہ بدل چکے ہیں اور اگر ہم نے بھی اپنے فیصلے نہ بدلے تو نقصان صرف بچوں کو نہیں پورے معاشرے کو ہوگا بندن میاں کہتا ہے کہ یہ بچے تجربہ گاہ نہیں ہیں کہ ہر سال ان پر آزمایا جائے کہ کون سا بچہ زیادہ سردی برداشت کر سکتا ہے یہ مستقبل ہیں یہ وہ سانس ہیں جن پر آنے والے کل کی امید ٹکی ہے اگر ایک ہفتہ آگے پیچھے کرنے سے ان کی صحت محفوظ ہو سکتی ہے تو پھر اس ایک ہفتے سے اتنا خوف کیوں کیوں ہمیں یہ ماننے میں مشکل پیش آتی ہے کہ موسم ہم سے زیادہ طاقتور ہے اور اس کے ساتھ چلنا ہی دانشمندی ہے بندن میاں آخر میں آہستہ سے مگر گہرے درد کے ساتھ کہتا ہے کہ سردی صرف باہر نہیں ہمارے فیصلوں میں بھی جم گئی ہے اور جب تک یہ جمی رہے گی ہم یونہی لکیر کے فقیر بنے رہیں گے فطرت ہمیں بار بار اشارہ دے رہی ہے کہ بدل جاؤ وقت کے ساتھ چلو بچوں کو آسانی دو مگر ہم ہیں کہ آنکھیں بند کیے کیلنڈر کی لکیر پر چلتے جا رہے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ معاشرہ بیمار کیوں ہے بندن میاں کے نزدیک اصل سوال یہی ہے کہ ہم موسم کو کیوں نہیں مانتے ہم حقیقت کو کیوں نہیں مانتے اور سب سے بڑھ کر ہم اپنے بچوں کے درد کو کیوں نہیں مانتے کیونکہ جس دن ہم نے یہ مان لیا اسی دن لکیر خود بخود مٹ جائے گی اور ہم فقیر نہیں ذمہ دار کہلائیں گے۔اور بندن میاں اسی بہتے خیال کے ساتھ بات آگے بڑھاتا ہے کہ مسئلہ صرف چھٹیوں کی تاریخ کا نہیں یہ دراصل سوچ کی سختی کا مسئلہ ہے وہ سوچ جو بدلتے موسم کو دیکھ کر بھی نہیں پگھلتی وہ ذہن جو بچوں کی کپکپاہٹ دیکھ کر بھی حرکت میں نہیں آتا بندن میاں کہتا ہے کہ ہم نے انتظام کو عبادت سمجھ لیا ہے اور سوال کو گناہ بنا دیا ہے حالانکہ عبادت وہ ہوتی ہے جس میں انسانیت کا فائدہ ہو اور سوال وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو چیرتی ہے مگر یہاں اندھیرا عزیز ہے کیونکہ اندھیرے میں ذمہ داری نظر نہیں آتی بندن میاں یاد کرتا ہے کہ جب وہ خود بچہ تھا تو سردی میں چھٹیاں ایک نعمت لگتی تھیں مگر وہ نعمت موسم کے عین مطابق ہوتی تھی نہ پہلے نہ بعد میں اس وقت کوئی بچہ کھانستا ہوا اسکول نہیں جاتا تھا اور نہ ہی مائیں صبح سویرے بخار چیک کر کے دعائیں مانگتی تھیں اب منظر بدل چکا ہے اب سردی کی اصل شدت میں بچے حاضری پوری کرنے کے لیے مجبور ہیں اور اگر نہ جائیں تو غیر حاضری کا خوف الگ بندن میاں پوچھتا ہے کہ کیا تعلیم کا مقصد حاضری کا اندراج ہے یا صحت مند ذہن اور توانا جسم کی تیاری مگر شاید فائلوں میں اس سوال کی کوئی گنجائش نہیں بندن میاں دیکھتا ہے کہ ہر سال جنوری میں اسپتالوں کے باہر رش بڑھ جاتا ہے بچوں کے وارڈ بھر جاتے ہیں کھانسی بخار سینے کی شکایتیں عام ہو جاتی ہیں مگر کسی دفتر میں الارم نہیں بجتا کیونکہ الارم تو تب بجتا ہے جب فائل رک جائے انسان رکے تو وہ اعداد و شمار بن جاتا ہے بندن میاں اس تلخ حقیقت پر سر ہلاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم نے انسان کو نمبر اور موسم کو افواہ بنا دیا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے موسم ایک طاقت ہے جو حکم دیتی ہے اور انسان وہ مخلوق ہے جو اس حکم کو مان کر ہی بچ سکتی ہے مگر ہم ضد میں آ کر کہتے ہیں نہیں ہمیں تو وہی کرنا ہے جو ہم برسوں سے کرتے آئے ہیں چاہے بچے بیمار ہوں چاہے گھر پریشان ہوں چاہے آنے والی نسل کمزور ہو بندن میاں کہتا ہے کہ یہی لکیر ہے جس کے ہم فقیر بنے بیٹھے ہیں ایک ایسی لکیر جو کسی پتھر پر نہیں ایک فائل کے کونے پر کھینچی گئی ہے اور ہم نے اسے تقدیر سمجھ لیا ہے بندن میاں یہ بھی کہتا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے موسموں کے پیٹرن بدل رہے ہیں ملکوں نے اسکول کے اوقات بدلے چھٹیوں کی ترتیب بدلی بچوں کے مفاد کو مرکز بنایا مگر ہم اب بھی یہ سوچ کر مطمئن ہیں کہ ہم نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا بس ذمہ داری ختم حالانکہ ذمہ داری تو وہیں سے شروع ہوتی ہے بندن میاں کہتا ہے کہ اگر انتظامیہ ایک بار جنوری کی سرد صبح میں بغیر پروٹوکول کسی اسکول کے باہر کھڑی ہو جائے بچوں کی کپکپاہٹ دیکھ لے تو شاید فیصلہ خود بخود بدل جائے مگر مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ کرنے والے سردی دیکھتے ہی نہیں وہ شیشے کے کمروں میں بیٹھے موسم کو صرف لفظ سمجھتے ہیں بندن میاں کہتا ہے کہ ہم نے بچوں کو مضبوط بنانے کے نام پر ان پر بوجھ ڈال دیا ہے ہم کہتے ہیں عادت ڈالیں حالانکہ عادت ظلم کی بھی ڈالی جا سکتی ہے مگر اسے دانشمندی نہیں کہتے بندن میاں پوچھتا ہے کہ کیا ہم واقعی چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل مضبوط ہو یا صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا نظام سوال سے محفوظ رہے کیونکہ سوال آیا تو لکیر ہل جائے گی اور لکیر ہلی تو فقیر کو سوچنا پڑے گا بندن میاں اس سوچ پر رکتا نہیں وہ کہتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف سندھ کا نہیں پورے معاشرے کا ہے ہم ہر جگہ موسم بدلتے دیکھتے ہیں مگر فیصلے نہیں بدلتے ہم ہر شعبے میں یہی کرتے ہیں روایت کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں اور پھر نتیجے پر روتے ہیں بندن میاں کہتا ہے کہ اگر آج ہم نے بچوں کے لیے ایک ہفتہ آگے پیچھے نہ کیا تو کل یہی بچے بڑے ہو کر ہمیں بتائیں گے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا اور ہمارے پاس جواب صرف یہی ہوگا کہ ہم کیلنڈر کے پابند تھے بندن میاں کہتا ہے کہ یہ جواب بہت کمزور ہے کیونکہ کیلنڈر انسان کے لیے بنتا ہے انسان کیلنڈر کے لیے نہیں بندن میاں اس بات پر زور دیتا ہے کہ چھٹیاں کوئی عیاشی نہیں ایک حفاظتی تدبیر ہیں اور جب خطرہ بدل جائے تو تدبیر بھی بدلنی چاہیے مگر یہاں تدبیر کو روایت کا قفل لگا دیا گیا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب کتابی اصطلاح نہیں یہ اسکول کے گیٹ پر کھڑے بچے کی لرزتی ٹانگوں میں نظر آتی ہے یہ ماں کے ہاتھ میں تھرمامیٹر کی سوئی میں نظر آتی ہے یہ باپ کی جیب سے نکلتے اضافی خرچ میں نظر آتی ہے مگر افسوس کہ یہ سب نظر آ کر بھی نظر انداز ہو جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ اگر واقعی ہم ایک ذمہ دار معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے بچوں کو مرکز بنانا ہوگا ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ حالات بدل چکے ہیں اور انکار ہمیں محفوظ نہیں بناتا بندن میاں کہتا ہے کہ سردی کا احترام کرنا کمزوری نہیں سمجھداری ہے اور بچوں کو سہولت دینا لاڈ نہیں سرمایہ کاری ہے مگر ہم سرمایہ کاری وہاں کرتے ہیں جہاں تختی لگ سکے اور بچوں کی صحت پر لگایا گیا سرمایہ ہمیں خاموش لگتا ہے اس لیے نظر انداز ہو جاتا ہے بندن میاں آخر میں پھر اسی سوال پر آتا ہے جو اس کے دل میں مسلسل گونج رہا ہے کہ ہم لکیر کے فقیر ہی کیوں بنے ہوئے ہیں کیوں ہم موسم کی بات نہیں مانتے کیوں ہم بچوں کی بات نہیں سنتے کیوں ہمیں صرف وہی صحیح لگتا ہے جو برسوں پہلے لکھ دیا گیا تھا بندن میاں کہتا ہے کہ جس دن ہم نے یہ مان لیا کہ عقل کا تقاضا بدلنا ہے اسی دن یہ لکیر خود بخود مٹ جائے گی اور شاید اسی دن سردی بھی صرف موسم رہے گی بچوں کے لیے سزا نہیں اور انتظامیہ کے لیے ایک امتحان جس میں پاس ہونا اب ناگزیر ہو چکا ہے

Exit mobile version