تحریر: ایم سرور صدیقی
دنیاکے قدیم پیشوں میں غلاموں کی تجارت اور جسم فروشی سرفہرست ہیں یہ دونوں کاروبار ازل سے بڑے مکروہ سمجھے جاتے ہیں اس کے باوجود یہ تاابد کسی نہ کسی انداز میں جاری و ساری رہیں گے تاریخ کا مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذکیا جاسکتا ہے کہ بھوک اور خوف اس کا بنیادی سبب ہے بھوک اور خوف ایسی اذیت ناک کیفیت ہے کہ انسان کو اس سے پناہ ہی مانگنی چاہیے کیونکہ یہ غلامی کی بدترین شکل ہے لیکن کیا کیجئے اب طاقتوروں نے دنیا میں غلامی کے طور طریقے ہی بدل کررکھ دئیے ہیں مگرکمزوروں کو اس کااحساس تک نہیں شاید جالب نے اسی لئے بہت پہلے کہہ دیا تھا۔
توکہ ناواقف ِ آداب ِ غلامی ہے ابھی
اب تیسری دنیا کے بیشتر غریب،پسماندہ اور ترقی پذیرممالک کے کرپٹ حکمرانوں نے اپنے اپنے ممالک میں بھوک اور خوف کی حکمرانی مسلط کرکے اپنی اپنی عوام کو عجب اذیت اور فاقہ مستی میں مبتلاکرکے رکھ دیاہے اسی لئے اب ہاتھ پاؤں میں زنجیر یں نہیں، دلوں میں ہولناک خوف ہے جوہرلمحہ بڑھتاجارہاہے اسی خوف نے دلوں اور دماغوں کوجکڑلیا ہے۔یہ خوف کوئی معمولی نہیں کیونکہ یہ آہنی ہتھکڑیاں نہیں بلکہ تنخواہوں، کرایوں اور قرضوں کی شکل اختیار کر چکا ہے یعنی ہمارا بال بال قرضوں میں جکڑاجاچکاہے ہرشہری مقروض ہے اسی پر اکتفا نہیں جو بچے ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے وہ بھی عالمی طاقتوں کے مقروض ہیں اس کا صاف مطلب ہے ہم مقروض نسلیں پیداکررہے ہیں ان قرضوں نے ان کا بچپن،جوانی اور بڑھاپا نگل لیاہے صرف پاکستان میں 7کروڑ بچے سکولوں میں نہیں جاتے روزانہ مزذوری کرے اپنا اور اپنے اہل خانہ کے پیٹ کاایندھن اکٹھا کرنے کے لئے حالات کے جبرکاشکارہیں عالمی طاقتیں،IMF اورورلڈ بینک کی پالیسی ہے وہ تمہیں اتنا ضرور دیتے ہیں کہ تم بھوک سے مر نہ جاؤ مگر اتنا کبھی نہیں دیتے کہ تم سر اٹھا کر آزاد جی سکو شاید سسک سسک کر جینا اسی کو کہتے ہیں اس لئے تیسری دنیا کے غریبو ان نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں نے تمہاری سانسیں قسطوں میں بانٹ دی گئی ہیں ہمارے خواب،حسرتیں، تمنائیں، امنگیں ای ایم آئی کی قرضے کے نکات میں دب کررہ گئے ہیں،کہنے کو تو ہم آزاد ہیں کبھی سوچایہ کیسی آزادی ہے جو غلامی سے بھی بدترین ہے جس میں اپنے حقوق کے لئے تڑپنا۔کڑھنا اور بے بسی سے بس سوچتے رہنا ہی زندگی کا محورہے یقینا دائرے میں سفر کرنا ایساہی ہوتاہے اس سفرمیں جس میں انسان زندگی جیتا نہیں، صرف گزار دیتا ہے؟ جس میں حاصل حصول کی بجائے آبلہ پائی مقدر بن جاتی ہے یہ کیسی زندگی ہے؟ سوچناہوگا کیونکہ سوچنے میں ہی نجات ہے سوچ سے ہی حل ممکن ہے لیکن عقل سے بعیدہے کہ ہمارے حکمران کیوں نہیں سوچتے کیا اپنے حق کے لئے سوال کرنابھی جرم ہے یاپھر سوال کرنا ہماری اوقات سے باہر سمجھا جاتا ہے۔ کیا مسلم حکمران محض نام کے حکمران ہیں دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں کیا یہ تبدیلی ہماری قسمت میں نہیں۔۔ کیا ہم مقبوضہ کشمیرمیں،پاکستان میں،ایران میں یاپھر شام میں یاعراق میں یا غزہ میں سسک سسک کر بے بسی کی زندگی بسرکرنا ہمارا مقدرہے؟
یہ کیسی زندگی ہے؟ جن مسلم ممالک میں اسلام دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے مسلمان کا جیناعذاب بناہواہے بھوک،بیماریاں،موسم نامہربان ہیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ان غربیوں کے لئے مسلم حکمران کیوں کچھ نہیں کرتے جہاں خدانے آزادی کی نعمت عطاکی ہے وہاں عوام کیلئے غربت کیوں بدنصیبی بنادی گئی ہے الجھنیں اتنی ہیں،مسائل اس قدرہیں،محرومیاں بے تحاشہ ہیں پیٹ کا دوزخ بڑھنے کیلئے انسان اپنے بچوں کو وقت نہیں دیتا بچوں کوصرف تھکن وراثت میں ملتی ہے؟ غورکرو اگر اس ماحول میں ماں کی دعا اور باپ کی محنت مزدوری بھی مہنگائی کے شور میں دب جاتی ہو وہاں معاشرہ کیسے اچھے شہری پیداکرسکتاہے کیونکہ اب باپ کی پیشانی پر سجدے نہیں بات بے بات پر بل پڑ جاتے ہیں۔اس استحصالی سسٹم نے کروڑوں افراد کو کمزور،بے بس، لاچار بناکرکھدیاہے یہ نظام بغاوت کی طاقت نہیں دیتا بھوک اور خوف کے مارے ایسا کرنے کی تاب نہیں رکھتے۔مجبوردل اپنے وارثوں کو صرف صبرکی تلقین کرتا ہے۔مولوی کا کہناتم شکر کرو کیونہ صبرکا پھل میٹھاہوتاہے،دل بغاوت پر آمادہ ہے کہ تمہارے بھی کچھ جذبات ہیں کچھ کر گذرو کبھی کبھی جی میں آتاہے تخت یا تختہ پھر خیال آتاہے بے وقوفی نہ کرو یہ کیا کم ہے کہ اتنی تلخیوں کے باوجود تم زندہ ہو حالانکہ حقیقت تویہ ہے کہ تم صرف سانس لے رہے ہو، جسم اور روح کا رشتہ قائم ہے وگرنہ روح میں اتنے گھاؤ لگ چکے ہیں کہ گنتی ممکن نہیں ان حالات میں جینے کی اجازت تمہیں تمہارے حالات آج بھی نہیں دی گئی اس سوال یہ پیدا ہوتی ہے کہ آخرش ہم کب اپنے حقیقی آزادی حاصل کرسکیں گے ؟ یا اسی غلامی کو اپنے آنے والے نسلوں کو منتقل کرکے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں گے؟اس کے لئے کسی نہ کسی کو تو قربانی دینی پڑے گی پھرسوچیں غالب آ جاتی ہیں کہ غریب تو ہمیشہ قربانی دینے کے لئے پیدا ہوا ہے اشرافیہ قربانی کیوں نہیں دیتی؟ ہمیشہ عام آدمی سے ہی قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتاہے لیکن یہ حکمران، اوربیوروکریسی پر مشتمل اشرافیہ اپنی مراعات اور کمپرومائزکیوں نہیں کرتی؟ ہم اپنے بچوں کے معصوم صورتیں دیکھتے ہیں ان کی بیروزگاری،محرومیوں اور چہروں پربکھرے ان گنت سوال دیکھ کرترس آتاہے، جس اذیت سے ہم گزر رہے ہیں کوئی حکمران محسوس نہیں کرتا لگتاہے، مستقبل میں ان کیلئے یہ اذیتیں دگنی ہو جائیں گی۔ ہمارے بچے باہر نکلیں تو2000-2000کے چالان،بات کریں تو تذلیل،کوئی کاروبارکریں تو نہ جانے کتنے محکمے مال بٹورنے آجاتے ہیں بھوک اور خوف ہمارے مستقبل کے سب سے بڑے دشمن ہیں کیونکہ ہم پر مسلط اشرافیہ کے پیٹ دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں اب تو ان نسلیں بھی جوان ہوگئی ہیں موجودہ حالات کے تناظرمیں یہ بات یقینی ہے کہ ان کی نسلیں ان سے بھی خونخوار اور کرپٹ ہونگیں۔ اب ایک ہی سوچ دل و دماغ پر حاوی ہے ہم اپنے بچوں کے لئے کیا چھوڑکرجارہے ہیں؟ کیابدنصیبی، مہنگائی،بیروزگاری، محرومیاں اور مسائل ہماری نسل کو وراثت میں ملے گی جب تلک خوف اور غلامی کا بت نہ ٹوٹا خوشحالی نہیں آسکتی عام آدمی یونہی بھوک سے سسکتا۔ بلکتا رہے گا کیونکہ بھوک اور خوف تمام برائیوں کا سر چشمہ ہے حکمرانوں نے اپنے لئے دولت کے پہاڑ اکھٹے کرلئے اور عوام کو بھوک اور خوف کے گرداب میں دھکیل رکھاہے۔




