کیمیکل ملا زہر بیچنے والوں کو کون تحفظ دے رہا ہے؟فوڈ اتھارٹی کی آنکھیں بند یا ملی بھگت؟

گلیانہ( انصر فاروق مغل) گلیانہ و گردونواح میں فوڈ اتھارٹی کی گاڑیاں روزانہ گشت کرتی دکھائی دیتی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کیمیکل ملا دودھ آج بھی بے خوفی سے جگہ جگہ فروخت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ زہریلا دودھ فروخت کرنے والے کس کی چھتری تلے کام کر رہے ہیں؟

کیا فوڈ اتھارٹی صرف تصویریں بنانے اور خانہ پُری کے لیے سڑکوں پر نکلتی ہے؟ یا پھر ان کے کچھ اہلکار خود ان زہریلے دھندوں میں شریک ہیں؟ عوام کے بچوں کو کیمیکل پلانے والے مجرم کھلے عام دندنا رہے ہیں، اور متعلقہ ادارے صرف کاغذی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

یہ مجرمانہ غفلت نہیں بلکہ عوام کی صحت کے ساتھ کھلا کھلا مذاق ہے۔ فوڈ اتھارٹی اگر واقعی مؤثر ہے تو پھر ان کیمیکل فروشوں کے خلاف اب تک سخت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ کیوں نہ سمجھا جائے کہ یہ سب کچھ اُن کی اجازت اور چشم پوشی سے ہو رہا ہے؟

عوام کا مطالبہ ہے کہ اس مجرمانہ کھیل کو فوری بند کیا جائے، دودھ فروشوں کی سخت چیکنگ کی جائے، اور کیمیکل ملا دودھ بیچنے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے — ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ زہر بیچنے والے اور قانون نافذ کرنے والے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔

Exit mobile version