تحریر: محمد انور بھٹی
دو ہزار پچیس اپنے اختتام کو پہنچا تو فائلوں میں خوشخبریوں کے پھول کھل اٹھے بیانات میں ترقی کی بہار آگئی تقریروں میں ریکارڈ آمدنی کا شور مچ گیا اور پریس ریلیز میں اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کے قصیدے پڑھے جانے لگے بندن میاں حسب معمول اپنی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھک میں بیٹھا یہ سب پڑھ رہا تھا وہ بیٹھک جو خود پاکستان ریلویز کی طرح وقت کی گرد میں اٹی ہوئی تھی دیواروں پر پرانے ٹکٹوں کی خوشبو تھی وہ ٹکٹ جو کبھی سفر کی امید ہوتے تھے اور آج صرف یادگار بن کر رہ گئے تھے فرش پر بچھا دریچہ برسوں کی تھکن سمیٹے ہوئے تھا جیسے کسی ریلوے ملازم کی کمر جس نے ساری عمر ڈیوٹی دی مگر ریٹائرمنٹ میں سکون نہ پایا بندن میاں نے اخبار بند کیا آہ بھری اور دھیرے سے کہا کاغذ پر سب کچھ ٹھیک ہے مگر پٹری پر کیا ہو رہا ہے یہی اصل سوال ہے کیونکہ ادارے کی حالت فائلوں سے نہیں عوام کے آنسوؤں سے ناپی جاتی ہے اور آنسو گنے نہیں جاتے محسوس کیے جاتے ہیں
بندن میاں کو یاد آیا کہ اسی دو ہزار پچیس میں کتنی ہی بار ٹرینیں لیٹ ہوئیں کتنی ہی بار اچانک کینسل ہو گئیں کتنی ہی بار اسٹیشنوں پر اعلان ہوا کہ فلاں ٹرین تکنیکی وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہے اور مسافر پوچھتے رہے کہ تکنیکی وجوہات آخر کب انسان بن کر ہمارے سامنے آئیں گی جن مسافروں نے ایک ماہ پہلے یا کم از کم ایک ہفتہ پہلے اپنے پیسے ایڈوانس میں جمع کرائے وہ اسٹیشن پہنچ کر یہ سننے پر مجبور ہوئے کہ ٹرین آج نہیں چلے گی یا تین چار پانچ گھنٹے بعد روانہ ہوگی ایسے میں نہ وہ مسافر گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا گرمی میں پسینہ بہتا ہے سردی میں بدن کانپتا ہے بچوں کی چیخیں عورتوں کی بے بسی اور بزرگوں کی خاموش دعائیں پلیٹ فارم کی فضا کو بوجھل کر دیتی ہیں بندن میاں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیسے ایک بزرگ دل کا مریض ٹرین کے انتظار میں بینچ پر بے ہوش ہو گیا مگر رپورٹ میں لکھا گیا سب اچھا ہے کیونکہ رپورٹ لکھنے والے نے وہ بینچ نہیں دیکھی تھی جس پر انسان گرا تھا
ریلوے انتظامیہ کے دعووں میں ریکارڈ آمدنی کا ذکر بہت ہوا مگر بندن میاں سوچتا ہے کہ یہ آمدنی آئی کہاں سے تو جواب کسی فائل میں نہیں کسی اشتہار میں نہیں بلکہ سیدھا مسافروں کی جیب سے نکلتا ہوا نظر آتا ہے کرایوں میں اضافہ کیا گیا خاموشی سے کسی مشاورت کے بغیر کسی عوامی سماعت کے بغیر رابطہ ایپ کے نام پر فی ٹکٹ دس روپے مزید وصول کیے گئے اور بندن میاں یہی نکتہ اٹھا کر بیٹھک میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اس نے کہا یہ دس روپے آخر کس بنیاد پر ہیں مسافر پورا کرایہ ادا کر رہا ہے کاؤنٹر سے بھی اور ایپ سے بھی مگر ایپ کا بوجھ بھی اسی کے کندھوں پر کیوں ڈالا گیا رابطہ ایپ کوئی مفت عطیہ نہیں بلکہ ادارے کا اپنا نظام ہے تو اس نظام کی قیمت عوام کیوں ادا کرے اگر کل کو ریلویز اپنے دفتر میں کمپیوٹر لگائے گی تو کیا اس کا بل بھی مسافر سے وصول کرے گی۔
بندن میاں نے ایک ٹکٹ ہاتھ میں لیا وہی کاغذ کا ٹکڑا جو مسافر کو تھمایا جاتا ہے جو مٹ بھی جاتا ہے پسینے سے بھیگ بھی جاتا ہے ہوا کے جھونکے میں اڑ بھی جاتا ہے اور بعض اوقات تو گیٹ پر کھڑے اہلکار کے ہاتھ میں پہنچ کر بھی پہچانا نہیں جاتا بندن میاں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا یہی وہ شاندار ڈیجیٹل سہولت ہے جس کے نام پر دس روپے وصول کیے جا رہے ہیں نہ مسافر کو مستقل ٹکٹ نہ سفر کی ضمانت نہ وقت کی پابندی اور اوپر سے ڈیجیٹل انقلاب کا ٹیکس یہ دس روپے معمولی نہیں یہ اصول کا قتل ہے کیونکہ جب ایک غریب مزدور اپنے بچوں کے لیے روٹی کم کر کے ٹکٹ لیتا ہے تو اس کے لیے دس روپے بھی سوال بن جاتے ہیں مگر فائل میں یہ سوال درج نہیں ہوتا
پانی ایک بنیادی ضرورت ہے مگر اسٹیشن پر ساٹھ روپے کی بوتل سو یا ایک سو بیس روپے میں بیچی جا رہی ہے کھانے پینے کی اشیاء دوگنی قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں اور یہ سب کچھ انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے بندن میاں نے کہا اگر یہ سب ادارے کی ناموسی نہیں تو پھر کیا ہے ادارہ عوام کا ہوتا ہے دکان نہیں کہ جہاں دل چاہے اپنے مرضی کے نرخ لگا دیے جائیں یہاں تو نہ نرخ نامہ نظر آتا ہے نہ کوئی جواب دہی بس مسافر ہے اور اس کی مجبوری ہے
دوسری طرف ملازمین کی حالت اس سے کہیں زیادہ دردناک ہے اور یہاں بندن میاں کی آواز بھرا گئی اس نے کہا حاضر سروس ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں کئی کئی ماہ تنخواہ تاخیر کا شکار رہتی ہے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات تین تین چار چار سال سے رکےہوئےہیں جن لوگوں نے جوانی اس ادارے کو دی ۔آج ان کا بڑھاپا در در کی ٹھوکروں میں گزر رہا ہے دوران سروس انتقال کر جانے والے ملازمین کی بیوائیں اور یتیم بچے دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے تھک چکے ہیں بہبود فنڈ اور بینویلنٹ فنڈ جن کا مقصد ہی مشکل وقت میں سہارا دینا تھا وہ کئی سال سے صرف فائلوں میں زندہ ہیں حقیقت میں نہیں بندن میاں نے ایک بیوہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے جو کہہ رہی تھی میرے شوہر نے پوری زندگی ریل کی خدمت کی مگر آج اس کے بچوں کو کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں مل رہے
ظلم کی انتہا یہ ہے کہ دوران سروس وفات پانے والے ملازمین اور میڈیکل بنیاد پر ریٹائر ہونے والوں کے بچوں کو ملازمتیں نہیں دی گئیں بلکہ جن خوش نصیبوں کو کبھی نوکری ملی بھی تھی انہیں بھی نکال باہر کیا گیا بندن میاں کہتا ہے کہ یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی ہے یہ وہ مقام ہے جہاں ادارہ اپنے ہی لوگوں کو بھول جاتا ہے اور جب ادارہ اپنے لوگوں کو بھول جائے تو پھر اس ادارے کی ترقی محض دھوکہ بن جاتی ہے کیونکہ ترقی وہ ہوتی ہے جو انسانوں کو ساتھ لے کر چلے
ریلوے کے اسپتال موجود ہیں ڈاکٹر بھی موجود ہیں مگر علاج اور ادویات نایاب ہیں ملازمین مجبوراً پرائیویٹ علاج کراتے ہیں جو ان کی کم آمدنی میں مزید بوجھ بن جاتا ہے اضافی ڈیوٹیاں کم تنخواہ اور ذہنی دباؤ دل کے امراض ذہنی بیماریوں اور فالج جیسے خطرناک عوارض کو جنم دے رہے ہیں بندن میاں نے کئی ایسے چہرے یاد کیے جو ڈیوٹی کے بوجھ تلے دب کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کے نام صرف حاضری رجسٹر میں رہ گئے نہ کوئی انکوائری نہ کوئی سبق
کوچنگ بوگیاں اپنی عمر پوری کر چکی ہیں انجن جواب دیتے جا رہے ہیں مگر بیوروکریسی اور انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی نتیجہ یہ ہے کہ آئے روز حادثات ہوتے ہیں انجن تباہ ہوتے ہیں مسافر کوچیں پٹڑی سے اترتی ہیں اور پھر تحقیقات کی فائلیں کھلتی ہیں چند دن شور مچتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے بندن میاں نے تلخی سے کہا ہمارے ہاں حادثے نہیں ہوتے فائلیں بنتی ہیں اور فائلیں بننا ہی اصل کامیابی سمجھ لی جاتی ہے
ٹرینوں میں کوچنگ بوگیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مسافروں اور ملازمین کے درمیان ناچاقی بڑھ رہی ہے مسافر غصے میں آتے ہیں اور ملازم بے بس ہوتا ہے کیونکہ وہ فیصلہ ساز نہیں ہوتا مگر مار وہی کھاتا ہے یہ وہ ماحول ہے جس نے عوام کو ریلوے سے بدظن کر دیا ہے لوگ بسوں اور ویگنوں سے سفر کو ترجیح دینے لگے ہیں کیونکہ وہاں کم از کم یہ خوف نہیں ہوتا کہ سروس اچانک کینسل ہو جائے گی نہ ہی انتظار گاہ میں پانی اور واش روم کے لیے الگ سے پیسے دینے پڑتے ہیں بندن میاں کہتا ہے کہ جب عوام کا اعتماد اٹھ جائے تو ادارے کی پٹری ہلنے لگتی ہے
ریلوے کالونیاں کبھی ایک خاندان کی طرح ہوتی تھیں آج وہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں سیوریج کے مسائل بجلی کی کمی اور ٹوٹی سڑکیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ملازمین کو کس حال پر چھوڑ دیا گیا ہے بندن میاں ایک کالونی میں گیا تو اس نے دیکھا کہ بچے گندے پانی کے قریب کھیل رہے ہیں اور مائیں پریشان کھڑی ہیں یہ وہ منظر ہے جو کسی بھی دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے
بندن میاں نے آخر میں کہا کہ ریلوے وزیر اور اعلیٰ انتظامیہ اگر واقعی ادارے کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں فائلوں سے نکل کر پلیٹ فارم پر آنا ہوگا انہیں بیواؤں کے دروازوں پر دستک دینی ہوگی انہیں ملازمین کے اسپتالوں میں جا کر دواؤں کی عدم دستیابی دیکھنی ہوگی انہیں مسافروں کے ساتھ گرمی اور سردی میں ٹرین کا انتظار کرنا ہوگا قیادت وہ ہوتی ہے جو دکھ بانٹے نہ کہ صرف تقریر کرے
دو ہزار پچیس کے اختتام پر اگر کوئی احتساب ہونا چاہیے تو وہ ان ناقص پالیسیوں کا ہونا چاہیے جنہوں نے ادارے کو عوام اور ملازمین دونوں سے دور کر دیا ہے ترقی کا مطلب صرف آمدنی نہیں بلکہ اعتماد سہولت اور انصاف ہے جب تک یہ تینوں بحال نہیں ہوں گے پاکستان ریلویز کی گاڑی یونہی دھچکے کھاتی رہے گی بندن میاں نے دعا دی کہ خدا اس ادارے کو فائلوں کی نہیں انسانوں کی خدمت کی توفیق دے اور یہ دعا اس کی بیٹھک کی خاموش دیواروں سے ٹکرا کر پٹریوں تک پہنچ جائے
