وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو آج مین ہیٹن کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مادورو کے خلاف عدالتی کارروائی امریکی قوانین کے تحت کی جائے گی۔
اتوار کے روز امریکا پہنچائے جانے کے بعد نکولس مادورو کو نیویارک کی ایک جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق انہیں اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد عالمی سطح پر سیاسی ردِعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
A small group of anti-war demonstrators gathered on Sunday outside the detention center in Brooklyn, New York, where Venezuelan President Nicolas Maduro is being held. https://t.co/jKA3AA8ToX pic.twitter.com/fgAuOc9zdn
— ABC News (@ABC) January 4, 2026
دوسری جانب صدر مادورو کی گرفتاری کے خلاف نیویارک کے بروکلین حراستی مرکز کے باہر شہریوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے امریکا کی وینزویلا میں مداخلت کے خلاف اور ملک کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے ’’وینزویلا کے تیل سے ہاتھ ہٹاؤ‘‘، ’’تیل کے لیے خون نہیں‘‘ اور ’’وینزویلا پر امریکی جنگ نامنظور‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ کئی افراد نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر وینزویلا پر بمباری بند کرنے کے مطالبات درج تھے۔





