اکتوبر 30, 2026

امریکی اخبار نے مودی سرکار کے تحت بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ تعصب اور تشدد بے نقاب کر دیا

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2014 کے بعد سے جب سے نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم ہیں، ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلمان جو بھارتی آبادی کا 14 فیصد ہیں، انتہاپسند ہندو حملوں کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ انہیں رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹنگ میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر انہیں ہندو اکثریتی علاقوں میں کاروبار کرنے یا ووٹ ڈالنے سے روکا جاتا ہے۔

عیسائی، جو بھارت کی آبادی کا صرف 2.3 فیصد ہیں، اور اکثر معاشرے کے غریب طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں، بھی نفرت اور غنڈہ گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں عیسائیوں کے خلاف 706 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اکثر حملوں کا جواز تبدیلی مذہب کو روکنے کے اقدامات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

اخبار میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش میں کرسمس کے دن اسکول کھلے رکھنے کے دوران انتہاپسند ہندو گرجا گھروں کے باہر جمع ہوئے، عیسائی مشنریوں کے خلاف نعرے لگائے اور ہندو مذہب کی دعائیں پڑھیں۔ ایسے واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار تقریباً ہر بھارتی ریاست میں دیکھے گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم کبھی عملی طور پر مضبوط نہیں رہا، لیکن مودی کے اقتدار میں اس کا تمام تر دکھاوا بھی ختم ہو گیا ہے۔ مودی سرکار نے کرسمس کے دوران گرجا گھروں پر حملوں کی مذمت بھی نہیں کی، جو انتہا پسند ہندو اقدامات کے لیے خاموش منظوری کے مترادف ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے 2025 کی رپورٹ میں سفارش کی کہ بھارت کو خاص تشویش والا ملک قرار دیا جائے، کیونکہ وہاں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کو بغیر کسی روک ٹوک اور سزا کے ہونے دیا جا رہا ہے۔