اپریل 19, 2026

سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا اعلان

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان سے متعلق حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے الزامات غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی ہیں۔

ترجمان کے مطابق بھارت ایک بار پھر اپنی دہشت گردی اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں بھارت کا کردار دستاویزی طور پر واضح ہے۔ کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی ایک نمایاں مثال ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت پر بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگز، تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی معاونت کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ ہندوتوا نظریہ انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ دیتا ہے اور بھارتی طرزِ عمل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے سندھ طاس معاہدے کو نیک نیتی سے طے پانے والا ایک بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔