وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، اور معرکہ حق کے بعد اب معرکہ ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 100 فیصد بچے اسکول میں داخل ہوں اور ملک میں شرح خواندگی 90 فیصد تک پہنچائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی ایمرجنسی کے ذریعے جہالت کو ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو ڈیٹا کی بنیاد پر چلایا جائے گا، ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری مکمل ہو چکی ہے اور زراعت کی شماری بھی ڈیجیٹل طریقے سے کی گئی ہے، جس سے مستند ڈیٹا پر مبنی بہتر منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔
احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ پانچ سال کے دوران کئی بڑے معاشی بحران دیکھے، جن میں سب سے پہلا بحران 2018 کی تبدیلی کے بعد درآمدات کے مسائل تھے، جس سے میکرو اکنامک بنیادیں متاثر ہوئیں اور غریب و متوسط طبقے کو شدید نقصان پہنچا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب بحران کا دور پیچھے رہ گیا ہے اور معاشی استحکام کا دور شروع ہو چکا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں شرح نمو 3.71 فیصد رہی ہے اور حکومت برآمدات بڑھانے اور سماجی شعبوں کے اعشاریوں میں بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
پاکستان کے 2.5 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر، تعلیمی ایمرجنسی کی ضرورت ہے: احسن اقبال
