قومی زبان اردو کا نفاذ: آئینی تقاضا اور قومی ترقی کی ضمانت

تحریر: عطاء الرحمن چوہان

زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ کسی بھی قوم کی شناخت، ثقافت اور اس کی روح کی عکاس ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے ترقی کی منازل طے کیں، انہوں نے اپنی زبان کو اپنایا اور اسے علم و تحقیق کا ذریعہ بنایا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا تھا کہ "پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہوگی”۔ لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے 75 سال بعد بھی ہم اپنی قومی زبان کو وہ مقام دینے میں ناکام رہے ہیں جو اس کا حق تھا اور جس کا وعدہ ہمارے آئین نے کیا تھا۔


آرٹیکل 251: ایک فراموش کردہ وعدہ
پاکستان کے آئین کا تقدس ہر شہری اور ادارے پر لازم ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 251 واضح طور پر حکم دیتا ہے کہ "پاکستان کی قومی زبان اردو ہے” اور اس کے نفاذ کے لیے 15 برس کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ جس کا اطلاق اگست 1988 سے ہونا تھا لیکن پچاس سال گزر چکے، حکومتیں آتی اور جاتی رہیں، لیکن یہ آئینی وعدہ آج بھی وفا ہونے کا منتظر ہے۔ اردو کا نفاذ محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ یہ آئین کی پاسداری کا تقاضا ہے۔ جب تک ہم اپنے آئین کے اس اہم آرٹیکل پر عمل درآمد نہیں کرتے، قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

تعلیم اور ترقی کا راز: غیر ملکی زبانوں کی غلامی کیوں؟
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انگریزی ترقی کی زبان ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ چین، جاپان، جرمنی، ترکی اور روس جیسی سپر پاورز نے انگریزی میں نہیں بلکہ اپنی مادری اور قومی زبانوں میں تعلیم حاصل کر کے دنیا کو مسخر کیا۔ سائنس، ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ تصورات (Concepts) کو اپنی زبان میں سمجھنا اور سمجھانا سب سے آسان ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو انگریزی کے بوجھ تلے دبا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ تخلیقی صلاحیتوں (Creativity) سے محروم ہو کر صرف "رٹا” لگانے والی مشینیں بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہترین سائنسدان، مفکر اور موجد بنیں تو ہمیں ذریعہ تعلیم اردو کو بنانا ہوگا۔


نظامِ عدل، دفتری امور اور عام آدمی کی مشکلات
اردو کے نفاذ کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کے "عام آدمی” کو ہوگا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایک سائل عدالت میں کھڑا ہوتا ہے، اس کے مقدمے کی بحث انگریزی میں ہوتی ہے، فیصلہ انگریزی میں لکھا جاتا ہے اور وہ بے چارہ منہ دیکھتا رہ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔
اسی طرح ہسپتالوں میں ادویات کی ہدایات ہوں، بینکوں کے فارم ہوں یا انشورنس کی پالیسیاں، سب انگریزی میں تحریر ہوتی ہیں جو عام شہری کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ رویہ اشرافیہ اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا کر رہا ہے۔ عوامی دفاتر میں اردو کا نفاذ عام شہری کا ریاست پر اعتماد بحال کرے گا اور دفتری امور میں شفافیت لائے گا۔


ڈیجیٹل دور اور اردو کا مستقبل
اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے زبانوں کی رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔ آج اردو کا بہترین سافٹ ویئر، کی بورڈ اور وائس ٹائپنگ کی سہولیات موجود ہیں۔ ہمیں اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹرز پر اردو کو اپنانا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر رومن (Roman) اردو لکھنے کے بجائے اردو رسم الخط کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ انٹرنیٹ پر اردو مواد (Content) میں اضافہ ہو اور ہماری آنے والی نسلیں اپنی ثقافتی اور ڈیجیٹل شناخت کو برقرار رکھ سکیں۔
تحریک نفاذِ اردو پاکستان: ایک مشن، ایک عہد
"تحریک نفاذِ اردو پاکستان” صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک فکر اور ایک مشن کا نام ہے۔ ہمارا مقصد پاکستان کے ہر شہری کو یہ احساس دلانا ہے کہ اپنی زبان پر فخر کرنا کوئی عیب نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
👈 آرٹیکل 251 کے تحت فی الفور اردو کو تمام سرکاری و دفتری امور میں نافذ کیا جائے۔
👈 عدالتی فیصلے اور سرکاری دستاویزات اردو میں منتقل کی جائیں۔
👈 مقابلے کے امتحانات (CSS وغیرہ) اردو میں لینے کا اختیار دیا جائے۔
ہم تمام محبِ وطن پاکستانیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔ آئیے، آج یہ عہد کریں کہ ہم اردو بولنے، لکھنے اور پڑھنے کو ترجیح دیں گے اور اپنے دستخط اپنی قومی زبان میں کر کے اپنے وقار کا ثبوت دیں گے۔
اردو اپنائیں، پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں!
رابطہ:
تحریک نفاذ اردو پاکستان
WhatsApp: 03495059760
Facebook: fb.com/TNUPAK

Exit mobile version