تحریر: مرزا عامربیگ گجرات
پنجاب حکومت کی جانب سے دہشتگردی، منشیات اور منظم جرائم کے خاتمے کے لیے قائم کی گئی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) فورس اب خود سنگین سوالات کی زد میں آ چکی ہے۔ ایک انویسٹی گیشن سروے اور متعدد مقامی ذرائع کے مطابق، سی سی ڈی فورس کے بعض افسران اور اہلکاروں پر بغیر شفاف تفتیش مبینہ طور پر مخالفین سے لاکھوں روپے رشوت وصول کرنے، بیگناہ شہریوں کو جعلی مقدمات میں ملوث کرنے اور مبینہ پولیس مقابلوں میں قتل کرنے جیسے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔تحقیقی صحافت کے تحت کیے گئے ایک غیر رسمی سروے میں ضلع گجرات کے متعدد پولیس افسران، سابق اہلکاروں اور متاثرہ خاندانوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کارکردگی دکھانے، پروموشن حاصل کرنے اور اعلیٰ حکام کو خوش کرنے کی دوڑ میں بعض افسران نے قانون کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی کے نام پر غریب اور کمزور طبقے کو آسان ہدف بنایا جا رہا ہے، جبکہ اصل منشیات فروش مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض بچ نکلتے ہیں۔سروے میں شامل بیانات کے مطابق بعض علاقوں میں چند ہزار یا چند لاکھ روپے کی خاطر منشیات کے جھوٹے مقدمات درج کیے گئے، جن کے نتیجے میں کئی خاندان اجڑ گئے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پیارے یا تو جیلوں میں سڑ رہے ہیں یا مبینہ پولیس مقابلوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔یہ امر قابلِ تشویش ہے کہ جن افسران اور اہلکاروں کو سی سی ڈی میں شامل کیا گیا، ان میں سے بعض ماضی میں رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر الزامات پر معطل رہ چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے افسران کو ایک حساس اور طاقتور فورس میں شامل کرنے سے پہلے انٹیلیجنس کلیئرنس، ماضی کے ریکارڈ اور اثاثہ جات کی مکمل چھان بین کیوں نہ کی گئی؟ذرائع کے مطابق اگر سی سی ڈی فورس میں شامل افسران اور اہلکاروں کے بھرتی سے قبل اور موجودہ اثاثہ جات کی ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا افسر ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد مالیت کی گاڑی، قیمتی جائیدادیں اور پرتعیش طرزِ زندگی کیسے رکھ سکتا ہے؟ کیا یہ سب جائز ذرائع سے ممکن ہے یا اس کے پیچھے کرپشن، رشوت اور اختیارات کا غلط استعمال کارفرما ہے؟یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ منشیات فروش کسی بھی صورت معافی کے حقدار نہیں۔ معاشرے کو منشیات سے پاک کرنا ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، مگر اس مقدس مقصد کی آڑ میں بیگناہوں کو نشانہ بنانا، جعلی مقدمات بنانا اور اصل مجرموں کو مبینہ رشوت کے عوض چھوڑ دینا نہ صرف ظلم بلکہ ریاستی نظامِ انصاف پر ایک بدنما داغ ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی فورس کو بلا احتساب اختیارات دے دیے جائیں تو اس کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ سی سی ڈی فورس کے حوالے سے بھی یہی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کے مؤثر نظام کے بغیر یہ فورس دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے عوام میں خوف اور عدم اعتماد پیدا کر رہی ہے۔شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سی سی ڈی فورس کے خلاف سامنے آنے والے تمام الزامات کی عدالتی یا جوڈیشل کمیشن کے ذریعے آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ ساتھ ہی فورس میں شامل ہر افسر اور اہلکار کے اثاثہ جات، ماضی کے سروس ریکارڈ اور حالیہ کارروائیوں کا آڈٹ کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔اگر واقعی پنجاب حکومت دہشتگردی اور منشیات کے خلاف سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ قانون کی بالادستی، انسانی حقوق اور شفاف احتساب کو ہر صورت یقینی بنائے۔ بصورتِ دیگر، ایک فورس جو عوام کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی، وہی فورس عوام کے لیے خوف اور ظلم کی علامت بنتی چلی جائے گی—اور اس کا نقصان صرف چند خاندانوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ہوگا۔
