تحریر:ایم سرور صدیقی
آخرکارپاکستان کی اپنی ائیر لائنز PIA بھی فروخت کردی گئی اس سے پہلے کئی قومی ادارے بیچے جاچکے ہیں جن میں PTCLاورMCBسرفہرست ہے حالانکہ جتنی قیمت میں یہ ادارے فروخت کئے گئے اس سے زیادہ مالیت کے اس کے اثاثے بتائے جاتے ہیں اب PIAکوبیچ دیا گیا اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی اب اپنی کوئی قومی ائیر لائنز نہیں ہے قوم کی ایک شناخت ختم ہوگئی اور ایک علامت قصہ ئ پارینہ بن جائے گی PIA کو جس انداز، جن حالات میں بیچا گیاہے اس سے سوشل میڈیا پر ایک طلاطم بپاہے یہ بھی کہاجارہاہے کہ سابقہ وزیراعظم کے دور میں پی آئی اے PIAمنافع میں تھی وہ بھی148ارب کے منافع میں لیکن آج پوری PIAصرف اور صرف135ارب میں بیچ دی گئی حالانکہ یہ سب جانتے ہیں کہ گھر کے برتن بیچ کرکوئی ترقی نہیں کرسکتالیکن یہاں تو وزیر اعظم قوم کو مبارک بادپیش کررہے ہیؒ جیسے انہوں نے کوئی معرکہ سر کرلیاہو حالات وواقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عارف حبیب گروپ نے 135 ارب میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے 75 فیصد شیئرز خرید لئے ہیں سب سے پہلے تودیکھاجائے کہ پی آئی اے کے پاس کتنے جہاز تھے اور کون کون سے جہاز تھے اس کی تفصیل کے مطابق • بوئنگ 777-200 ای آرکی کْل تعداد 06تھی• بوئنگ 777-200 ایل آر کْل تعداد 02،• بوئنگ 777-300 ای آر کْل تعداد 04،• ائیر بس اے 320-200 کْل تعداد 17 • اے ٹی آر 42-500 کْل تعداد 03تھی اب اِن جہازوں کی عالمی مارکیٹ کے حساب سے قیمت یوں ہوسکتی ہے • بوئنگ 777-200 ای آر ایک بوئنگ 777-200 ای آر کی اس وقت عالمی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 87 ارب پاکستانی روپے ہیں، یعنی 6 بوئنگ 777-200 ای آر کی قیمت 522 ارب روپے بنتی ہے،• بوئنگ 777-200 ایل آر ایک بوئنگ 777-200 ایل آر کی قیمت 98 ارب ہے، یعنی 2 بوئنگ 777-200 ایل آر کی قیمت 196 ارب روپے بنتی ہے،• بوئنگ 777-300 ای آر ایک بوئنگ 777-300 ای آر کی قیمت 107 ارب روپے ہے، یعنی 4 بوئنگ 777-300 ای آر کی قیمت 428 ارب روپے بنتی ہے،• ایئر بس اے 320-200،ایک ایئر بس اے 320-200 کی قیمت 27 ارب روپے ہے، یعنی 17 ایئر بس اے 320-200 کی قیمت 459 ارب روپے بنتی ہے، • اے ٹی آر 42-500 ایک اے ٹی آر 42-500 کی قیمت 1.5 ارب روپے ہے، یعنی 3 اے ٹی آر 42-500 کی قیمت 4.5 ارب روپے بنتی ہے یہ تو صرف جہازوں کی قیمت بتائی ہے، پی آئی اے کے پاس اس وقت صرف جہاز ہی 1,610 ارب روپے (ایک ہزار چھ سو دس) کے ہیں جن کو صرف 135 ارب روپے میں عارف حبیب گروپ کو فروخت کردیا گیا ہے ایک ماہرِ معیشت و سینئر تحقیقاتی رپورٹر ڈاکٹر حمنہ کا کہناہے کہ ابھی تو میں نے بیرونِ ممالک پی آئی اے کے ہوٹلز اور پاکستان میں موجود ایئر پورٹس اور دیگر پراپرٹیز کا ذکر ہی نہیں کیا جو کئی سو ارب روپیوں کی بنتی ہیں پھرPIAعارف حبیب گروپ کو قومی ائیر لائنز کیوں اونے پونے بیچ دی گئی ہے یہ بھی کہاجارہاہے کہ سابقہ وزیراعظم کے دور میں پی آئی اے PIAمنافع میں تھی وہ بھی148ارب کے منافع میں لیکن آج پوری PIAصرف اور صرف135ارب میں بیچ دی گئی جبکہ سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی معلومات میں کہاجارہاہے کہ سرکاری مالیاتی رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے مجموعی اثاثے تقریباً 160 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں، جبکہ واجبات اور قرضے 800 ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں، جن میں سے بڑی رقم بدانتظامی، غیر ضروری سیاسی بھرتیوں اور ناقص گورننس کا نتیجہ ہے۔ حالیہ نجکاری کے عمل میں 75 فیصد حصص تقریباً 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا دعویٰ کیا گیا، مگر حکومت کو فوری طور پر Cashکیش کی صورت میں صرف 10 ارب روپے حاصل ہوئے، جبکہ باقی سرمایہ کاری نئی انتظامیہ کی جانب سے ادارے میں لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سودے کے نتیجے میں تقریباً 628 ارب روپے کے پرانے قرضے اور 500 ارب روپے سے زائد کی منفی ایکویٹی بدستور حکومت اور بالآخر عوام کے ذمے رہی، اگر اثاثے منتقل ہو جائیں، انتظامی کنٹرول چلا جائے اور قرض و خسارہ قوم کے کھاتے میں ڈال دیا جائے تو یہ مالی اصلاح نہیں بلکہ بوجھ کی منتقلی کہلائے گی۔ دنیا بھر میں خسارے میں جانے والی ایئرلائنز کو منافع بخش بنانے کی مثالیں موجود ہیں، جہاں پیشہ ورانہ مینجمنٹ، خودمختار بورڈ، سیاسی مداخلت کے خاتمے، روٹس کی ازسرِنو منصوبہ بندی اور کارگو و انجینئرنگ سروسز کو کمرشل بنیادوں پر فعال بنا کر اداروں کو بحال کیا گیا۔ اگر پی آئی اے کے کارگو بزنس، گراؤنڈ ہینڈلنگ، انجینئرنگ اور ٹریننگ سروسز کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جاتا تو یہ ادارہ نہ صرف اپنے اخراجات پورے کر سکتا تھا بلکہ سالانہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کروا سکتا تھا۔ یہ بات تو طے ہے کہ کوئی گھر کے برتن بیچ کر ترقی نہیں کرسکتا دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ PIA اور پاکستان سٹیل جیسے ادارے سفید ہاتھی جن چکے ہیں جو قومی خزانے پر بوجھ ہیں اس لئے حکومت ان کو منافع بخش بنانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹرکو فروخت کررہی ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام نصیب ہوسکے جب تک پاکستان میں معیشت مستحک نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
