اکتوبر 29, 2026

ڈھاکا میں طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے خلاف شاہ باغ بند، ملک گیر احتجاج کی وارننگ

بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ان کے سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ نے شاہ باغ کو بلاک کر کے دھرنا دے دیا ہے۔ جمعہ کی نماز کے بعد انقلاب منچہ اور جولائی منچہ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے طلبہ اور شہریوں کے ہمراہ ڈھاکا یونیورسٹی کی مرکزی مسجد سے احتجاجی جلوس نکالا جو شاہ باغ پہنچ کر دھرنے میں تبدیل ہو گیا۔

احتجاج کے باعث شاہ باغ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، جبکہ دھرنا بدستور جاری ہے۔ انقلاب منچہ کے ممبر سیکرٹری عبداللہ الجابر نے اعلان کیا ہے کہ جب تک قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر مظاہرین رات بھی شاہ باغ میں گزارنے کے لیے تیار ہیں۔

عبداللہ الجابر نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی تو احتجاج ملک گیر شکل اختیار کر سکتا ہے اور شٹر ڈاؤن کی کال دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صبح تک ملک کے مختلف حصوں سے مزید لوگ احتجاج میں شامل ہوں گے۔

دھرنے کے دوران انقلاب منچہ نے اپنے تین نکاتی مطالبات کو دہرایا، جن میں تیز رفتار ٹرائل ٹربیونل کے قیام کے ذریعے 30 دن کے اندر مقدمے کا فیصلہ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اداروں کی شمولیت سے غیر جانبدار تحقیقات، مبینہ طور پر ریاستی اداروں میں چھپے عناصر کی نشاندہی اور سزا، اور مشیر داخلہ، معاون خصوصی اور مشیر قانون کے استعفے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکا کے بیجوئے نگر علاقے میں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد انہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں بہتر علاج کے لیے انہیں سنگاپور لے جایا گیا، جہاں وہ 18 دسمبر کو دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکے۔