تحریر: ایم سرور صدیقی
وطن ِ عزیز میں جو کچھ ہورہاہے یا جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں یاپھرجو کچھ ہمیں دکھائی نہیں دے رہا دل کو ایک دھڑکاسا لگارہتاہے کہ جمہوریت کی آخری ہچکیاں لے رہی ہے یہ بھی خیال ذہن میں درآتاہے شایدیہ نظام دم توڑ رہا ہے یا کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے نہ جانے کیوں یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ استحصالی سسٹم اپنی موت آپ مرجائے گا تو کروڑوں پاکستانی اس کربناک صورت ِ حال، اذیت ناک حالات اور بیحم اشرافیہ کے چنگل سے آزاد ہوجائیں گے۔ پاکستان کے موجودہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے اس کے لئے یقینا منصوبہ بندی کی گئی ہوگی یا پھر یہ سب کچھ کسی جبرکی علامت ہے کچھ بھی تو یقین سے نہیں کہاجاسکتا بہرحال ایک وقت تھا ملک پر دائیں بازو اور بائیں بازو ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما تھے پھرسرخوں کی بازگشت سنائی دینے لگی تو پاکستان کی علامت سبزرنگ نہ جانے کس کونے میں سمٹ گیا پھر سب رنگوں پر خاکی رنگ غالب آگیا جو ملک کی حفاظت کی ضمانت بن گیا پاکستان میں جمہوریت کے نام پر سیاستدانوں کی قلابازیاں سیاست پر حاوی ہوگئیں تو عوام کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ وہ ان حالات میں کیاکریں اسی لئے نظریاتی سیاست کو دفن کردیا گیا ہرقیمت پر اقتدارکی خواہش نے نیلا،پیلا لال برابر کرکے رکھ دیا اب سیاست کی بنیادفرقہ واریت،ذات،برادری،لسانیت کے نام پر رکھی گئی تو پورا سیاسی کلچر ہی تبدیل ہوکررہ گیاایک دوسرے حریف مفاہمت کی کوشش میں اتحادی بن گئے بن گئے تو یہ دائیں بائیں کا تکلف بھی جاتا رہا او رایک دوسرے کو سیکورٹی رسک قراردینے والے دو متحارب نظریات کے حامل میثاقِ جمہوریت کا ڈھونگ رچا کر باہم شیروشکر ہوگئے یعنی
کتنا ستم ظریف تھا وہ آدمی فتیل
مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا
میثاقِ جمہوریت یقینا مجبوریوں کا پیش خیمہ ہوگا کیونکہ اب پاکستان میں دائیں بازوکی سیاست ہے نہ بائیں بازو کی سیاست اور نظریاتی سیاست تو نہ جانے کب کی ختم ہوچکی ہے اب تو قدم قدم پر منافقت کی سیاست کا دور دورہ ہے لیکن عام آدمی کا خیال ہے کہ اس میں مذہبی جماعتوں کا سب سے مکروہ رول ہے جو کبھیMMAملاں،ملٹری الائنس کے نام پر میدان میں آجاتے ہیں اور کبھی کسی اور روپ میں ہمارا موقف تو یہ ہے کہ صرفMMA انہیں ہی قصوروار نہیں کہنا چاہیے بلکہ اس حمام میں پیشترہی ننگے ہیں
اس پس منظر میں اب جو کچھ ہورہا ہے وہ اس پورے سیاسی نظام کو ایکسپوز کررہا ہے خاص طورپرفارم 47 کے حکمران اپنا اقتدار بچانے کے لئے جو کچھ کرتے پھررہے ہیں یہ واضح ان کی ناکامی ہے اسی لئے لگ رہاہے جمہوریت کی آخری ہچکی لے رہی ہے،یہ استحصالی نظام دم توڑ رہا ہے یا پھر سسٹم اپنی موت آپ مر رہا ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں پون صدی بعد بھی بالغ نہیں ہو سکیں ان کی اپنی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں ہے یہ سیاسی پارٹیاں ہیں یا پھر لمیٹڈ کمپنیاں۔۔ سب کی سب پارٹیوں کے عہدے داران ایڈہاکزم پر چل رہے ہیں اب یہ بات تو طے ہے کہ یہ نہ لیفٹ رائٹ کی سیاست ہے نہ نظریات کی۔ یہ سب ایک دائرے میں مقید ہیں 1977ء کے بعد 2024ء کے انتخابات میں عوام کی بھاری اکثریت نے جن امیدواروں کو کامیاب کروایا اس کے نتائج کو بدل دیا گیا شاید اسی طرح گویا اس نظام کو بچانے کی آخری کوشش کی گئی تھی ملک میں امن و امان کے سنگین مسائل،مہنگائی،غربت، عدم سیاسی استحکام اور انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے سبب یقین سے کہا جاسکتاہے کہ اس موجودہ نظام کو زیادہ دیر قائم نہیں رکھا سجاسکتاہے کیونکہ امیر امومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کفر کا نظام قائم رہ سکتاہے ظلم کا نظام نہیں اس تناظرمیں وطن ِ عزیز میں جو کچھ ہورہاہے یا جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں یاپھرجو کچھ ہمیں دکھائی نہیں دے رہا دل کو ایک دھڑکاسا لگارہتاہے کہ جمہوریت کی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سْنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے، سقراط کی درسگاہ کا اصول تھا اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا یا پھر دوسرے کو گالی دے دیتا تھا یا دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درسگاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔ سقراط کا کہنا تھا برداشت سوسائٹی کی روح ہوتی ھے، سوسائٹی میں جب برداشت کم ہوجاتی ہے تو مکالمہ کم ہوجاتا ھے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ھے۔ اس کا کہنا تھا اختلاف دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے، یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے اْس وقت تک معاشرہ ترقی کرتا ہے





