ٹرینوں میں کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ، ریلوے کی آمدن اور سکیورٹی میں نمایاں بہتری

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ٹرینوں میں کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کو محفوظ، جدید اور مالی طور پر مستحکم ادارہ بنانے کے لیے جامع اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلویز نے 2025 میں 93 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا جبکہ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں 50 ارب روپے آمدن متوقع ہے، اور رواں مالی سال کے اختتام پر پہلی بار ایک کھرب روپے آمدن کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا جائے گا۔

وزیر ریلوے کے مطابق سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کو ڈائریکٹوریٹ کا درجہ دے دیا گیا ہے جس کے بعد ریلوے حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سیفٹی ڈائریکٹوریٹ بننے کے بعد حادثات کی شرح 0.09 فیصد سے کم ہو کر 0.04 فیصد رہ گئی ہے اور اس دوران کسی بھی سنگین نوعیت کا حادثہ پیش نہیں آیا۔

حنیف عباسی نے کہا کہ راولپنڈی کو ملک کا پہلا اسمارٹ ریلوے اسٹیشن بنا دیا گیا ہے جہاں کیمرے اور جدید سکیورٹی سسٹم نصب ہیں، جبکہ 2026 میں دیگر بڑے اسٹیشنز کو بھی اسمارٹ بنایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ٹرینوں میں بھی کیمرے لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاکہ مسافروں کے تحفظ کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر ریلوے نے بتایا کہ صرف آٹھ ماہ میں آٹھ ٹرینوں کے ریکس اپ گریڈ کیے گئے ہیں جن میں شالیمار، پاک بزنس، لاثانی اور فیض احمد فیض ٹرین شامل ہیں، جبکہ دسمبر 2026 تک تمام ٹرینوں کو اپ گریڈ کر دیا جائے گا۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور فیصل آباد کے اسٹیشن اپ گریڈ کیے جا چکے ہیں اور ریلوے کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر کے تمام امور ای فائلنگ پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام بڑے اسٹیشنوں پر اے ٹی ایم، ڈی وی ایم اور پی او ایس مشینیں نصب کر دی گئی ہیں، عملے کی حاضری کمپیوٹرائزڈ کر دی گئی ہے اور بغیر دفتر آئے تنخواہ کا حصول ممکن نہیں رہا۔ 2025 میں قابضین سے 394 ایکڑ اراضی واگزار کروائی گئی جبکہ دسمبر 2026 تک تمام ریلوے اراضی واگزار کروانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر ریلوے کے مطابق ریلوے اسکولوں اور ٹرینوں کو مرحلہ وار آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے، اسٹیشنوں کی صفائی اور کھانے کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے اور فوڈ اتھارٹیز کو کسی بھی وقت چیکنگ کی اجازت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی تا روہڑی ٹریک منصوبے پر جولائی میں گراؤنڈ بریکنگ کی جائے گی۔

Exit mobile version