سربراہ جے یو آئی، مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں گورنر سندھ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ نہ 2018 کے انتخابات آئینی تھے اور نہ 2024 کے، اس لیے عام انتخابات دوبارہ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور پارلیمان کے احترام کو یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ عدلیہ اور تجارتی شعبے میں پاکستان کی رینکنگ نیچے گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں آئینی ترمیم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ یکطرفہ تھی جبکہ 26 ویں ترمیم اتفاق رائے سے ہوئی تھی، اس لیے 27 ویں ترمیم نے آئین کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے افغان مہاجرین کے حوالے سے کہا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کا دوطرفہ ہے، انہیں دھکیلنے کے بجائے واپس بھیجنے کی پالیسی بنائی جانی چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں یکساں نصاب پر بات ہوسکتی ہے، لیکن دینی علوم اور مدارس مغربی ایجنڈے کا حصہ نہیں بلکہ ہماری سوسائٹی کی ایک اہم خصوصیت ہیں، جن کی قدر ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی گئی، لیکن وہ مولانا کہلانے کو ترجیح دیں گے۔
