حرمت ِ رسول ﷺکے تقاضے

تحریر: الیاس محمد حسین

یہ بات طے ہے کہ کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں انبیاء کرام اور مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کرے کیونکہ ناموس رسالت ﷺ پر مسلم امہ کو مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ حرمت ِ رسول ﷺہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے اس لئے مسلم امہ کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ناپاک سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مغربی ممالک کے سامنے اس مسئلے کو اجتماعی طور پر اٹھانا ہوگا۔ اس لئے حکومت مذہبی ہم آہنگی قائم رکھنے اور معاملات کو تدبراور حکمت ِ عملی سے حل کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرناہوگا۔ حکومت مسلم سربراہان مملکت اورعالمی پارلیمنٹس کے اسپیکرز کو خطوط لکھیں تاکہ توہین رسالت ﷺ اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے خلاف اس مہم کو روکا جا سکے دنیا میں اسلامو فوبیہ کے بڑھتے ہوئے عالمی رحجان کو روکنے کے لیے تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا اور تمام عالمی فورم پراس حساس مسئلے کو اجاگر کرنے اور مستقل بنیاد پر اس کا حل تلاش کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کو ساتھ مشاورت بھی کرے اور اس سلسلہ میں کئے گئے اقدامات کے لئے ان کو اعتماد میں لیا جائے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہناہے کہ ہر حکومت عقل کے فیصلے جذبات سے کرتی آئی ہے پرویز مشرف دور میں لال مسجد اسلام آباد ، نواز شریف دور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن اور اب موجودہ حکومت نے سانحہ مریدکے میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کر ثابت کیا کہ یہ سب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور پاکستانی حکمران اپنے شہریوں کو گولیاں مار کرلہولہان کرنے سے گریزنہیں کرتے لیکن مغربی دنیاکو ناراض نہیں کرسکتی اس حوالے سے حکمرانوں کا سب کا ایک ہی ایجنڈا ہے۔ کلمے کے نام پر وجود میں آنے والے مملکت خداداد پر طاغوت کی حکمرانی کو کوئی پاکستانی برداشت نہیں کرسکتا اورجو آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے غلاموں کیلئے اس زمین کو تنگ کرکے ناموس ِ رسالت ﷺ کے منافی کام کرکے اپنے تمام تر مذموم ہتھکنڈوں اور ناپاک ارادوں کو پایہ ئ تکمیل پہنچانے کی سازش کرے گا اس کو ناکامی نصیب ہوگی اور ان شاء اللہ کامیابی محمدﷺ کے غلاموں کو نصیب ہوگی۔ کیونکہ پاکستانیوں نے پاکستان میں نظام ِ مصطفی ﷺکے نفاذ کیلئے ہر آمر اور جابر حکمران کا مقابلہ کیا ہے یہ سچ ہے کہ مذہبی انتہاپسندی اور ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوؤں نے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کرکے رکھ دیاہے لیکن ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں شدید تحفظات ہیں اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی جس سے عقیدہ ئ ختم نبوت پر کوئی قدغن لگائی گئی یا گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے مغربی دنیا کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی تو حکمر انوں کیلئے دنیا اور آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ناموس رسالت ہماری ایمان کا حصہ ہے یورپ سے دوستیاں نبھانے والے قیامت کے دن حوض کوثر پر کیسے حضور ﷺ کا سامنا کریں گے۔ اب جبکہ تحفظ حرمت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے موجودہ حکومت کا خودکو فعال کردارادا کرنے فیصلہ خوش آئندہے اس حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والے علما مشائخ کنونشن اور اس میں پاس ی جانے والی قرادادوں سے امید کی ایک کرن روشن ہوگئی ہے علماء کے لئے اعزازیہ بھی انتہائی خوش آئندہے کیونکہ پاکستان، ایک نظریاتی ملک ہے۔ حرمت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تحفظ ہمارے ایمان کا مرکز و محور ہے۔ اس کڑے وقت میں مسلم امہ کی نظریں مسلمان سربراہان اور علماء کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ مسلم امہ کے علماء کو، بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے رحجان کی حوصلہ شکنی اور حرمت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا تقاضاہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ تحریک ِ لبیک پاکستان کے احتجاج کی تمام تر تفصیلات قوم کے سامنے رکھ کر عوام کو اعتمادمیں لیا جائے شہید ہونے والے تمام افراد کے لواحقین کی مالی امدادکی جائے،زخمیوں کے علاج معالجہ کے خصوصی احکامات جاری کئے جائیں آخر وہ بھی اس ملک کے شہری ہیں اوران کے کوئی سیاسی عزائم نہ تھے اس سے وطن ِ عزیز میں نفرتوں کے خاتمہ اور اتحادبین المسلمین کے فروغ کیلئے مربوط حکمت ِ عملی تیار ہونے میں مدد ملے گی۔فیلڈمارشل سیدعاصم منیر،وزیر ِ اعظم میں شہبازشریف اوروزیر ِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازشریف ضرور اس پر ہمدردانہ غورکریں۔

Exit mobile version