تیری رضا سے پٹڑی سے اترا ہوا ادارہ

تحریر: محمدانوربھٹی

تیری رضا بھی تو شامل تھی ہمارے بجھنے میں
ہم جل اٹھے ہیں تو یہ بھی کمال تیرا ہے
بندن میاں اس شعر کو دل پر نہیں پٹری پر رکھ کر پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب یہ شعر کسی دیوان میں نہیں یہ پاکستان ریلوے کے محنت کش کے سینے پر کندہ ہے وہ محنت کش جو صبح اندھیرے میں اس طرح گھر سے نکلتا ہے جیسے سورج سے پہلے اس کی مزدوری نکل جاتی ہو اور شام کو اندھیرے میں یوں لوٹتا ہے جیسے روشنی صرف فائلوں کے کمروں کے لیے مخصوص ہو اس کا پورا دن اس امید پر گزرتا ہے کہ شاید آج تنخواہ کی کوئی خبر ملے شاید آج دفتر کی کسی فائل میں اس کا نام انسان کے خانے میں آ جائے، شاید آج بچوں کی فیس، بیوی کی دوا، بوڑھی ماں کی گولی، اور بجلی کے بل کے درمیان کوئی ایک مسئلہ حل ہو جائے، بندن میاں نے عمر بھر دیکھا ہے کہ ریل کا مزدور جلتا نہیں، وہ آہستہ آہستہ سلگتا ہے، اس کے جسم میں کوئلہ بھرا ہے مگر جیب خالی ہے، اس کے ہاتھ میں ناہی اوزار مکمل ہیں اور نا ہی اسپیئر پارٹس مگرحکم حاکم ہے کہ ٹرین بروقت چلے با حفاظت چلے مگراختیار نہیں۔
اس کے دل میں ادارے کے لیے وفاداری ہے مگر ادارے کے نظام میں اس کے لیے صرف تاخیر، فائل، دستخط، تاریخ، اور اگلی پیشی ہے اور اس تاخیر کے پیچھے وہ افسرانِ بالا ہیں جن کے دفاتر میں اے سی کی ہوا ایسے چلتی ہے جیسے انصاف کو فریزر میں رکھ دیا گیا ہو قالین اتنے نرم کہ شاید ضمیر کی آواز دب جائے میز پر رکھی فائلیں ایسی صاف ستھری جیسے ان میں کوئی آنسو کبھی گرا ہی نہ ہو اٹیچ باتھ روم میں ماربل کی چمکتی ٹائلیں آئینے کو بھی شرمندہ کر دیں جن پر مزدور کا پسینہ اگر عکس بن کر بھی ابھر آئے تو فوراً وائپر چل جاتا ہے۔ ٹھنڈا اور منرل واٹر اس شان سے رکھا ہوتا ہے جیسے ریاست نے اپنی ذمہ داری بوتل میں بند کر دی ہو بنگلوں کے صحن میں لان لہلہاتے ہیں گھاس وقت پر کٹتی ہے اسپرنکلر اس طرح چلتے ہیں جیسے پانی کی کوئی کمی ہی نہ ہو بجلی جائے تو جنریٹر غراتا ہے لوڈ بڑھے تو سولر پلیٹیں مسکرا دیتی ہیں اور انہی ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر وہ فیصلے ہوتے ہیں جن کا بوجھ مزدور کی کمر پر رکھ دیا جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ یہ وہی سوتیلا برتاؤ ہے جس میں پیار تقریروں میں بانٹا جاتا ہے اور سزا عملی زندگی میں نافذ کی جاتی ہے یہاں نہ تنخواہ وقت پر، نہ اوور ٹائم کا حساب نہ ڈیلی الاؤنس کی خبر نہ ریٹائر ہونے والوں کے بقایا جات، پنشنر فائل ہاتھ میں لیے ایسے چکر لگاتا ہے جیسے کسی مقدس مقام کا طواف ہو مگر فرق یہ ہے کہ یہاں دعا قبول نہیں ہوتی صرف ایک جملہ ملتا ہے اوپر سے منظوری نہیں آئی، گویا منظوری آسمان سے اترے گی اور مزدور زمین پر ہی رینگتا رہے گا بندن میاں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بوڑھا ریلوے ملازم جس نے جوانی پٹریوں پر چھوڑ دی ریٹائرمنٹ کے بعد دفاتر کے دروازوں پر اپنی عزت رکھ آتا ہے کبھی کلرک کے سامنے کبھی سیکشن افسر کے سامنے کبھی کسی ڈائریکٹر کے سامنے اور ہر بار خالی ہاتھ لوٹ آتا ہے، بندن میاں جب افسر کے دفتر سے نکل کر مزدور کے کوارٹر میں قدم رکھتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی اور ملک میں داخل ہو گیا ہو یہاں پنکھا چلتا نہیں کراہتا ہے، چوں چوں، چرچراہٹ اور گرمی کی ایسی لپٹ کہ سانس بھی اجازت لے کر آتا ہے دیواروں کا پلستر اکھڑا ہوا ہے جیسے وقت نے خود ناخن مار مار کر نوچ ڈالا ہو فرش ٹوٹا ہوا، اینٹیں جھانکتی ہوئی چھتیں ٹپکتی ہوئی بارش آئے تو کمرہ دریا بن جاتا ہے گرمی آئے تو لو ایسے لگتی ہے جیسے سزا سنائی گئی ہو لیٹرینیں ایسی بدبودار کہ انسان پہلے اپنی عزت کھوتا ہے پھر صحت نالیاں ابلتی ہیں جیسے نظام کے اندر جمع غلاظت باہر نکلنے پر مجبور ہو گئی ہو گلیوں میں کچرے کے ڈھیر ایسے لگے ہیں جیسے کسی نے انسانوں کو بھول کر کوڑا آباد کر دیا ہو صاف پانی؟ وہ افسر کے دفتر میں فلٹر ہو کر آتا ہے مزدور کے نل سے یا تو ہوا نکلتی ہے یا بدبو، بچے بیمار ہوں تو نہ ڈسپنسری، نہ ڈاکٹر، نہ دوا، بیوی سوال کرے تو جواب نہیں اور بندن میاں دیکھتا ہے کہ چھوٹے اسٹیشنوں پر تعینات ملازمین کی حالت تو اس سے بھی بدتر ہے، جیسے ریاست نے انہیں نقشے کے حاشیے پر لکھ کر بھول گئی ہو، نہ سکول، نہ بازار، نہ ٹرانسپورٹ، نہ موبائل سگنل، نہ بجلی، نہ صاف پانی، صرف ایک حکم کہ ٹرین خیریت سے گزار دو، چاہے خود فاقے میں رہو، چاہے بچے ننگے پاؤں ہوں، چاہے رات اندھیرے میں گزرے، بندن میاں کہتا ہے کہ یوسفی صاحب زندہ ہوتے تو شاید مسکرا کر کہتے کہ یہاں ریل لیٹ نہیں ہوتی، صرف انصاف پہلے ہی کہیں اتر جاتا ہے، مگر مسکراہٹ کے پیچھے کا سچ یہ ہے کہ ادارہ خود بخود تباہ نہیں ہوا، اسے آہستہ آہستہ تباہ کیا گیا ہے، اور ہر بار اس تباہی کا ملبہ مزدور کے سر ڈال دیا گیا ہے، کبھی کہا گیا کہ مزدور نااہل ہے، کبھی کہا گیا کہ مزدور سست ہے، کبھی کہا گیا کہ مزدور سیاست کرتا ہے، مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ مزدور بھوکا ہے، مزدور پریشان ہے، مزدور تھکا ہوا ہے، مزدور ٹوٹ چکا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ادارے کی شان اس کے محنت کش ہوتے ہیں، انجن لوہے سے بنتا ہے مگر ادارہ انسان سے بنتا ہے، اور جب انسان ہی فاقہ زدہ، قرض میں ڈوبا، بیماری میں گھرا، ذلیل اور بے آواز ہو تو پھر ریل کیسے پٹڑی پر چلے گی، بندن میاں پوچھتا ہے کہ جناب جب افسر کے لیے ٹھنڈک، روشنی، متبادل بجلی، متبادل پانی، متبادل سہولتیں ہوں اور مزدور کے لیے اندھیرا، گرمی، بدبو، تاخیر، تذلیل اور خاموشی، تو یہ کیسا نظام ہے، یہ کیسا انصاف ہے، یہ کیسی ریاست ہے، کیا ادارے صرف بنگلوں، دفاتر اور فائلوں کے لیے ہوتے ہیں یا ان ہاتھوں کے لیے بھی جو انہیں چلاتے ہیں، حل کوئی فلسفہ نہیں، کوئی موٹی رپورٹ نہیں، کوئی نئی کمیٹی نہیں، حل وہی ہے جو ہر مزدور برسوں سے مانگ رہا ہے نخواہ وقت پر، بقایا جات بلا تاخیر، پنشن کو خیرات نہیں حق سمجھا جائے، ریٹائر ملازمین کو دربدر نہ کیا جائے، کالونیوں کی صرف مرمت نہیں بلکہ مکمل بحالی کی جائے، صاف پانی، بجلی، نکاسِ آب، صفائی، ڈسپنسری اور سکول فراہم کیے جائیں، چھوٹے اسٹیشنوں پر تعینات ملازمین کو انسان سمجھا جائے، افسر شاہی کو یہ یاد دلایا جائے کہ اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہوتی ہے، اور سب سے بڑھ کر مزدور کی آواز کو شور نہیں، فریاد سمجھا جائے، کیونکہ بندن میاں خبردار کرتا ہے کہ پسینہ جب بول پڑتا ہے تو فائلیں جلتی ہیں، اور اگر یہ فائلیں آج نہ جلیں تو کل یہ پٹریاں بھی خاموش نہیں رہیں گی، پھر نہ کوئی شعر کام آئے گا، نہ کوئی وضاحت، نہ کوئی پریس ریلیز، صرف تاریخ لکھے گی کہ ایک ادارہ اس لیے پٹڑی سے اترا کہ اس نے اپنے محنت کش کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔

Exit mobile version