تنکوں کا ڈھیر

تحریر:ایم سرور صدیقی

حقیقت پتھر پر لکیر جیسی ہوتی ہے جسے کوئی جھٹلانابھی چاہے تو نہیں جھٹلاسکتا اس میں کوئی شک نہیں بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس نے آج تلک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا یہ پہلی حقیقت ہے دوسری یہ ہے کہ ہم اپنا ہمسایہ تبدیل نہیں کرسکتے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا تقاضاہے کہ ہم ان حقیقتوں کے پیش ِ نظر ملکی ترقی وخوشحالی کے منصوبے تشکیل دیں بارشیں تقریباً ہرسال آتی ہیں جب بھی معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی بھارت اپنے آپ کو بچانے کے لئے فاضل پانی پاکستان کی طرف دھکیل دے گا یہ سامنے والی حقیقت آج تک ہمارے حکمرانوں کو سمجھ نہیں آئی آخرکب تک ہم اسے انڈیا کی آبی جارحیت کا نام دے کر اسے برابھلا کہتے رہیں گے پون صدی بعدبھی ہمارے حکمران اس حوالہ سے کوئی مؤثر حکمت ِ عملی یا منصوبہ بندی نہیں کرسکے آج وطن ِ عزیزمیں ایک عجیب قیامت کا منظرہے سیلاب، طوفانی بارشوں اور ”انڈیا کی آبی جارحیت“سے جو حشر بپاہوا اس کی تفصیلات میں جائیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں سیلاب کھیت کھلیان،درجنوں ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور سینکڑوں دیہات کو نگل گیا جس سے پورے ملک کے غریب، کم وسائل اورکمزور کسی نہ کسی انداز سے شدید متاثرہیں کوئی بچ گیا تو اس کے پیارے ابھی تک صدمے میں ہیں اب تلک ا تنے افراد اپنی جانوں سے گئے ان کی گنتی شمار نہیں کی جاسکتی اربوں،کھربوں کا نقصان الگ ہوا ہزاروں غریب عمر بھر کی پونجی سے محروم ہوگئے اور حکمران ہیں کہ رات گئی بات گئی کا کھیل کھیل رہے ہیں ہرسال بارشیں،سیلاب قحط سالی ایک عذاب بن جاتی ہے ہم وقتی طورپر آہ و فغاں کرتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں ہمارے ہم وطنوں پرکیا بیت چکی ہے اور غریب پھر سے بے یارو مددگار اللہ کے آسرے پر محنت مشقت کرکے منہدم گھروں کو رہنے کے قابل کرتے ہیں کہ پھر بارشیں آجاتیں ہیں یا سیلاب سب کچھ ملیا میٹ کرکے چلے جاتے ہیں عمریں بیت جاتی ہیں لیکن متاثرین کی ایکسرسائز ختم نہیں ہوتی ان کے لئے یہی زندگی اور یہی موت کا سامان ہے۔۔ لیکن اس ساری صورت ِ حال میں حکومت اور حکمران کیا کرتے پھرتے ہیں کچھ یقین کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا برسوں پہلے ہمسایہ ملک ہندوستان نے آنے والے خطرات کو بھانپتے ہوئے دریائے ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم پر ساگر ڈیم، چمیرا ڈیم، سلال ڈیم، بگلیہار ڈیم، پنڈوہ ڈیم، پونگ ڈیم، اڑی ڈیم، کشن گنگا ڈیم، اور بھاکڑا ڈیم بنا رکھے ہیں درجنوں چھوٹے چھوٹے ڈیم اس کے علاوہ ہیں لیکن ہماری حکومتوں نے کیا کیا سیلابی گزرگاہوں اور دریاؤں کے کنارے ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناکر پورا ملک ڈبودیااگر ہرسال بھارت اپنا اضافی پانی چھوڑتا رہے گا اور پاکستان ڈْوبتا رہے گا؟کیا ہمارے حکمران مٹی کے مادھو ہیں؟ اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتی کہ جب تک نئے ڈیم نہیں بنیں گے سیلاب، طوفانی بارشوں اور بھارت سے آنے والے پانی کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا خدشہ ہے نااہل اور غوروفکرسے عاری سیاستدان اور قوم پرست رہنما کسی بڑے ڈیم نہیں بننے پر متفق نہیں ہوں گے اس کاایک سلوشن اور بھی ہے سیلاب اور اس طرح کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے ہر شہرمیں تالاب، چھوٹی نہریں اور چھوٹے چھوٹے آبی ذخائربنائے جا ئیں جب بھی سیلاب آئے اس کارخ ان کی جانب موڑا جاسکتاہے انہیں دریاؤں کی گذر گاہوں سے منسلک کرکے پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے یہی پانی ایک منصوبے کے تحت استعمال کیا جائے تو بنجرزمینیں سیراب کی جاسکتی ہیں دوسرا پاکستان میں تمام نہروں کے دونوں اطراف، سڑکوں کی کنارے ریلوے کی پٹری ککے ساتھ ساتھ، دریاؤں کے ارد گرد درخت لگانے کااہتمام کیا جائے جس سے نہ صرف ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئے گی بلکہ سیلاب و قدرتی آفات کے سامنے فطری رکاوٹ سینہ سپر ہوجائے گی۔ آج کل درخت خال خال نظر آ تے ہیں مخض مالی مفادات کے لئے ٹمبر مافیا نے بلادریغ درختوں کا قتل ِ عام کرکے 25کروڑ پاکستانیوں کامستقبل داؤ پر لگادیاہے حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سیاسی مداخلت سے بالاتر ہوکر بیکار، بنجر اراضی اور جنگلات کے ارد گرد کی زمینیں کو لوگوں کو کاشت کاری کے لئے دے دے جس سے نہ صرف حکومت کو مالی منافعت مل سکتی ہے بلکہ لائیو سٹاک، ڈیری ڈویلپمنٹ ممکن ہوسکے گی اور سبزی و پھلوں کی بہتات سے عوام کوبھی سستی چیزیں میسر آئیں گی۔ یہ کہاوت مشہور ہے کہ بھینس،بھینس کی بہن ہوتی ہے اسی طرح حکمران اور بیوروکریسی پر مشتمل اشرافیہ تو بھائی،بھائی ہیں یہ طبقات ہمیشہ عوامی مسائل سے بے نیاز چلے آرہے ہیں عوام خوشحال ہو یا بدحال، دو نوں صورتوں میں ان کی چاندی ہی ہوتی دیکھی ہے دریا کے بہاؤ پر قابض، سیلابی گذرگاہوں پر ہاؤسنگ سکیمیں بنانے اور اجازت دینے والے آج اربوں،کھربوں کما چکے ہیں جبکہ بیچاری عوام سیلاب میں ڈوب رہی ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں پورے ملک میں انہی وڈیروں اور بااثرشخصیات نے دریاؤں کی جگہ،سرکاری اراضی اور جنگلات پر قبضہ کیا ہواہے اگر پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو سب سے پہلے ان سرمایہ داروں کو گرفتار کیا جاتا جنہوں نے دریا بیچ کر اربوں کمائے پھر ان سرکاری اداروں کو کٹہرے میں لایا جا نا ضروری ہے جنہوں نے اس لوٹ مار کو تحفظ دیا سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ کرپشن نے ہر ادارے،ہر محکمے کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیاہے جس سے حلال و حرام کی تمیز ختم کرکے رکھ دی ہے دیکھا جائے اس سیلاب کے اصل متاثرین نارووال، شکرگڑھ، ظفرووال، سیالکوٹ، پسرور، سمبڑیال، منڈی بہاوالدین، وزیر آباد، گجرات، چنیوٹ اور دیگر شہروں کے کسان ہیں جن کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں ان کے لئے حکومتی امداد ضروری ہے جس کی بھینسیں تھی، گائے تھی،بکریاں تھیں یا دیگر مال مویشی تھے ان کی بات کریں ان کی داد رسی کریں خدارا ان غریبوں کی داد رسی کریں تاکہ وہ پھرسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکیں ہم سب دکھی ہیں سوہنا پنجاب ڈوب گیا ایک وقت تھا پاکستان میں دنیا کا سب سے بہترین نہری نظام تھا۔ نالے ، کاریز، نہریں اور نہروں کی بہت سی اقسام سیلابی نہریں، دوامی نہریں، غیر دوامی نہریں، رابطہ نہریں جن کا جال بچھاہوا تھا سیلاب کا پانی سیلابی نہریں اپنی آغوش میں لے لیتیں جو سارا سال خشک رہتی تھیں کھیت بھی ان سے سیراب ہوتے رہتے اسی بناء پر پاکستان کو ایک زرعی ملک کا درجہ حاصل تھا ہاں راولپنڈی کے نالا لئی کی طغیانی کا ضرور سنتے تھے کیونکہ وہاں نالے کے ساتھ ہی آبادی ہے زیادہ دور نہیں 25 سال پہلے کی ہی بات ہے۔ پھر زمین غصب ہونے لگی کھیتی کی زمین پر ہاؤسنگ سکیموں نے رہائش گاہیں بنا دیں۔ اور جو نہر ایک آدھ بچی اس کا پانی وڈیروں، چوہدریوں اور نوابوں جیسے بازاریوں نے اپنی زمینوں کے لئے مختص کرلیا۔ اب جب بھی سیلاب آتا ہے تو مرتا غریب ہی ہے مرتے مزارعے ہی ہیں جو بااثر ہیں وہ کبھی نہیں مرتے ہاں سیلاب کا پانی اپنی فصلیں بچانے کی خاطر کم رقبہ والے زمیندار کی طرف کٹاؤ ڈال کر چھوڑ دیتے ہیں۔ درخت اکھاڑ دیئے۔ نہریں ختم کر دیں۔ ہرکارے اور مزارعے ا پنی انا اور اپنا شملہ اونچا کرنے کے لئے رکھ لئے۔ حکومتی مراعات، امداد بھی انہی کو ملتی ہے جو ان کے خلاف آواز اٹھاتہے عبرت کا نشان بنادیاجاتاہے آج بھی غریب ہی مر رہے ہیں سیلاب اور قدرتی آفات نے غریب خاندانوں اور غربیوں کی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیاہے گھر بار سب خاک ہو رہا ہے آج بھی کسی ایک وڈیرے، کوئی نواب یا چوہدری کے گھر کا چوزہ تک نہیں مرا حکمرانوں کو سب کام چھوڑ کر ترجیحی بنیادوں پراس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے اور تمام تروسائل کو بروئے کار لائے جائیں تاکہ آئندہ کسی ہم وطن کا گھر نہ ٹوٹ جائے۔
محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کے ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

Exit mobile version