بہروں کی انجمن میں چیخ بن کر رہ گیا انسان

تحریر: محمدانوربھٹی

بندن میاں عرض کرتا ہے کہ یہ جو کہا گیا تھا
بہروں کی انجمن میں نہ گا درد کی غزل
اندھوں کو مت دکھاگریباں پھٹا ہوا
یہ شعر اب محض شعر نہیں رہا یہ پاکستان ریلویز کے ملازمین، بیواؤں، یتیم بچوں اور ریٹائرڈ بوڑھوں کی اجتماعی سوانح عمری بن چکا ہے اور بندن میاں اس انجمن میں کھڑے ہو کر نہ غزل گا رہا ہے نہ تقریر کر رہا ہے وہ تو بس اپنے پھٹے ہوئے گریبان کی دھجیوں سے دلیل بنا رہا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ سامنے بیٹھے سب کے کانوں میں اقتدار کی روئی ٹھونسی ہوئی ہے اور آنکھوں پر مراعات کی پٹی بندھی ہے جناب ملک میں تنخواہ محض ایک رقم نہیں رہی یہ اب ایک امتحان بن چکی ہے ایسا امتحان جس میں سوال ہر مہینے آتا ہے مگر پرچہ تین تین سال بعد چیک ہوتا ہے دورانِ سروس وفات پا جانے والے ملازمین کی بیوائیں جن کے سروں سے چھت نہیں چھنی بلکہ چھتری چھن گئی، وہ تین تین برس سے اپنے واجبات کے کاغذ سینے سے لگا کر دفاتر کے چکر کاٹ رہی ہیں یتیم بچے جن کے باپ کی کرسی خالی ہے مگر فائل اب بھی زندہ ہےوہ اسکول کی فیس نہیں بھر سکتے کیونکہ ان کے حصے کا انصاف ابھی کسی سیکشن آفیسر کے دراز میں سو رہا ہے ریٹائرڈ ملازمین وہ بدنصیب طبقہ ہیں جنہوں نے پوری عمر ریاست کو دی اور ریٹائرمنٹ کے بعد ریاست نے انہیں ایک رسید دے دی کہ آپ کی رقم زیرِ کارروائی ہے بندن میاں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے سفید بالوں والے بابے ریلوے افسران کے دروازے پر لاٹھی ٹیکے بیٹھے رہتے ہیں اس امید پر کہ شاید آج کوئی کلرک ان کی فائل پر دستخط کر دے اور اسی انتظار میں کتنے ہی لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی موت کو گلے لگا گئے کسی کا دل جواب دے گیا کوئی فالج کے حملے سے بسترِ مرگ پر جا لیٹا اور کسی نے صرف اس لیے علاج نہیں کروایا کہ اس کے اپنے پیسے اس سے زیادہ بیمار تھے، شدید بیماری میں مبتلا ملازمین کے لیے بڑی نیکی کے طور پر جو ہارڈ شپ کمیٹی بنائی گئی وہ بندن میاں کو ویسے ہی لگتی ہے جیسے برسات میں چھتری مگر صرف افسروں کے لیے کیونکہ وہاں میرٹ نہیں چلتا وہاں چہرے پہچانے جاتے ہیں تعلقات تولے جاتے ہیں اور درد صرف سنا جاتا ہے مانا نہیں جاتا اسی لیے پینشنرز ایسوسی ایشنوں نے اس کمیٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تحریریں لکھیں آوازیں بلند کیں مگر جناب ہمارے نظام میں کان صرف وہ سنتے ہیں جن میں سونے کی بالیاں ہوں صدرِ پاکستان کو خطوط لکھے گئے وزیراعظم کے دروازے پر دستک دی گئی چیف جسٹس تک فریاد پہنچی قومی اسمبلی میں تحریک پیش ہوئی مگر نتیجہ وہی نکلا جو ہر کمزور کی آواز کا نکلتا ہے۔فائل آگے بڑھ گئی مسئلہ وہیں کھڑا رہ گیا بیواؤں کی بینویلنٹ فنڈ کی رقم کئی کئی سال سے رکی ہوئی ہے فیئر ویل گرانٹ اور میرج گرانٹ آٹھ آٹھ سال سے صرف کاغذوں میں شادی کروا رہی ہیں بندن میاں سوچتا ہے کہ جس ملک میں شادی کی خوشی بھی سرکاری منظوری کی محتاج ہو وہاں غم کا کیا حال ہوگا یہ تحریر کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں یہ تحریر اس بے حسی کے خلاف ہے جو فائلوں میں پلتی ہے اے سی کمروں میں پروان چڑھتی ہے اور غریب کے دروازے پر آ کر مر جاتی ہے بندن میاں کا سوال سادہ ہے کیا ملازم انسان نہیں؟ کیا بیوہ کا آنسو فنانشل رولز کے خلاف ہے؟ کیا یتیم کا پیٹ پیرا رولز میں نہیں آتا؟ اور اگر سب فورم آزما لیے گئے سب دروازے کھٹکھٹا لیے گئے تو پھر یہ ریاست آخر کس کے لیے ہے؟
بندن میاں کہتا ہے کہ اگر یہ تحریر کسی ایک دفتر کسی ایک وزارت یا کسی ایک کرسی کے نام ہوتی تو شاید اتنی لمبی نہ ہوتی مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں مخاطب ایک فرد نہیں ایک پورا سماج ہے یہاں بندن میاں ان تمام فورمز تنظیموں، اداروں، طاقتور حلقوں، مذہبی و سماجی پلیٹ فارمز، انسانی حقوق کے علمبرداروں، خیراتی اداروں، وکلاء کی تنظیموں، صحافتی ضمیر رکھنے والوں، ریٹائرڈ جج صاحبان، سول سوسائٹی، اساتذہ، ڈاکٹرز، تاجر تنظیموں، حتیٰ کہ ان گھروں میں بیٹھے خاموش تماشائیوں کو بھی مخاطب کر رہا ہے جو روزانہ خبروں میں لاشیں تو گنتے ہیں مگر وجوہات پر خاموش رہتے ہیں، بندن میاں پوچھتا ہے کہ آخر انسانیت صرف کسی عالمی دن پر ہی کیوں جاگتی ہے کیا بیوہ کی فائل پر دستخط کے لیے بھی کسی این جی او کے لوگو کی ضرورت ہے کیا یتیم بچے کا مستقبل بھی کسی سیمینار کی قرارداد کا محتاج ہے کیا ریٹائرڈ ملازم کی پنشن اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک کسی فورم پر تصویریں نہ لگیں بندن میاں نے دیکھا ہے کہ انسانی ہمدردی کے نام پر کانفرنسیں ہوتی ہیں پاور پوائنٹ سلائیڈز چلتی ہیں کافی کے کپ خالی ہوتے ہیں مگر اسی شہر میں ایک بیوہ اپنے بچوں سمیت اندھیرے کمرے میں بیٹھی حساب لگا رہی ہوتی ہے کہ آج کھانا آئے گا یا دوا، اور کوئی فورم اس کے دروازے تک نہیں پہنچتا۔ بندن میاں تمام مذہبی تنظیموں سے بھی پوچھتا ہے کہ کیا صدقہ صرف اعلان کے بعد قبول ہوتا ہے کیا زکوٰۃ صرف بینر کے ساتھ ہی بٹتی ہے کیا یہ بیوائیں اور یتیم بچے امت کا حصہ نہیں کیا ریاست کے ملازم کی بیوی کا آنسو غیر شرعی ہے وہ تمام سیاسی جماعتیں جو انتخابی منشور میں مزدور کے حق کی بات کرتی ہیں وہ حکومت میں آتے ہی کس طرح مزدور کو بھول جاتی ہیں۔ بندن میاں ان وکلاء فورمز سے بھی مخاطب ہے جو آئین کی شقیں ازبر رکھتے ہیں مگر ان شقوں میں سسکتی بیوہ کو نہیں پڑھتے وہ صحافیوں سے بھی سوال کرتا ہے کہ کیا یہ خبریں اس لیے خبر نہیں بنتیں کہ ان میں کسی طاقتور کا نام نہیں یا اس لیے کہ ان میں اشتہار کا بجٹ نہیں بندن میاں سماجی تنظیموں سے پوچھتا ہے کہ کیا انسانیت صرف آفات میں جاگتی ہے کیا خاموش موت کوئی ایمرجنسی نہیں کیا ذہنی دباؤ سے مر جانے والا ریٹائرڈ بابا کسی رپورٹ کا حصہ نہیں بندن میاں ان تمام فورمز کو آواز دیتا ہے جو انصاف، شفافیت، میرٹ اور انسانی وقار کے نعرے لگاتے ہیں کہ ذرا آئیں کسی بنک کے باہر قطار میں کھڑے سفید بالوں والے شخص سے ملیں کسی دفتر کے برآمدے میں بیٹھی بیوہ کی فائل کھولیں کسی فالج زدہ ملازم کی سانسوں کی گنتی سنیں بندن میاں جانتا ہے کہ ریاستی نظام پیچیدہ ہے قوانین ہیں، رولز ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسانیت کسی رول کی پابند نہیں ہوتی وہ تو بس دل کے دستخط مانگتی ہے۔بندن میاں چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ اگر آپ واقعی مددگار ہیں، اگر آپ واقعی طاقت رکھتے ہیں، تو اس مسئلے کو صرف بیان نہ کریں، اس کے پیچھے کھڑے ہوں، آواز بنیں، قانونی جنگ لڑیں، میڈیا پر دباؤ ڈالیں، اجتماعی اپیلیں نہیں، اجتماعی اقدام کریں، کیونکہ یہ مسئلہ چند افراد کا نہیں، یہ اس نظام کا آئینہ ہے جو خدمت کے نام پر عمر لیتا ہے اور ضرورت کے وقت خاموش ہو جاتا ہے۔ بندن میاں آخر میں کسی کو بددعا نہیں دیتا وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ خدا کے لیے اس ملک میں انسان کو فائل سے نیچے اتاریں بیوہ کو درخواست سے اوپر رکھیں یتیم بچے کو ترجیحی فہرست میں شامل کریں اور ریٹائرڈ ملازم کو بوجھ نہیں امانت سمجھیں کیونکہ اگر آج بھی تمام فورمز خاموش رہے تو کل یہ تحریریں نہیں، صرف قبریں بولیں گی اور قبروں کی گواہی کے سامنے کسی فورم کی وضاحت قبول نہیں ہوتی۔
بندن میاں جانتا ہے کہ اس تحریر کے بعد بھی شاید کچھ نہ بدلے، مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تاریخ گواہ ہے، کبھی کبھی ایک نشتر جیسی تحریر وہ کام کر جاتی ہے جو موٹی موٹی فائلیں نہیں کر پاتیں اس لیے بندن میاں نے یہ نشتر رکھا ہے، اگر کسی سوئے ہوئے ضمیر کو چبھے تو اسے تکلیف نہ سمجھیے، اسے اپنی زندگی کی پہلی علامت جانیے۔

Exit mobile version