تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
دسمبر کی سرد ہوائیں جب چلتی ہیں تو پاکستان کی تاریخ خود بخود بولنے لگتی ہے۔ خاص طور پر 16 دسمبر محض ایک دن نہیں، یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قوم اپنی اجتماعی غلطیاں، قربانیاں اور آزمائشیں ایک ساتھ دیکھتی ہے۔ یہی وہ تاریخ ہے جو ہمیں سقوطِ ڈھاکہ 1971 کی تلخی بھی یاد دلاتی ہے اور سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور 2014 کا وہ کربناک لمحہ بھی، جب معصوم بچوں کے خون نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔سقوطِ ڈھاکہ کسی ایک جنگ یا چند دنوں کی شکست کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ برسوں کی سیاسی نااہلی، جمہوری انکار، معاشی ناانصافی اور اقتدار کی ہوس کا منطقی انجام تھا۔ مشرقی پاکستان کی اکثریتی آبادی کو ان کا آئینی حق نہ دیا جا سکا۔ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کا سہارا لیا گیا، اور یوں ریاست اپنے ہی بوجھ تلے بکھر گئی۔ یہ شکست میدانِ جنگ میں نہیں، قومی سوچ میں ہوئی تھی۔لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس سانحے سے وہ سبق پوری طرح نہیں سیکھا جس کی قیمت ایک ملک ٹوٹنے کی صورت میں ادا کی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے ماضی کو فائلوں میں بند کر دیا، خود احتسابی کو نظر انداز کیا اور نظامی اصلاحات کو موخر کرتے رہے۔اسی غفلت کا خمیازہ قوم نے ایک بار پھر 16 دسمبر 2014 کو بھگتا، جب دہشت گردی کی بدترین واردات میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا گیا۔ 144 معصوم بچے اور ان کے اساتذہ شہید کر دیے گئے۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں، جن کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب تھے۔ یہ حملہ صرف ایک اسکول پر نہیں تھا، یہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ تھا۔اے پی ایس کا سانحہ وہ موڑ ثابت ہوا جہاں پوری قوم نے بلا تفریق یہ فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اب کسی قسم کی مصلحت، ابہام یا رعایت نہیں ہوگی۔ پاکستان نے اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں۔ مساجد، بازار، تعلیمی ادارے، سکیورٹی تنصیبات، سب دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔ ہزاروں شہری، پولیس اہلکار اور فوجی جوان شہید ہوئے، مگر قوم کے حوصلے پست نہ ہو سکے۔پاکستان کی مسلح افواج نے قوم کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔ ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر آپریشنز نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک توڑے، ان کے ٹھکانے ختم کیے اور امن کی بحالی کی بنیاد رکھی۔ افسران سے لے کر جوانوں تک، مسلح افواج نے ایسی قربانیاں دیں جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ یہ جنگ صرف بندوق سے نہیں، صبر، قربانی اور عزم سے لڑی گئی۔آج 16 دسمبر 2025 تک آتے آتے اگرچہ دہشت گردی کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے، مگر چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، کمزور جمہوری روایات، معاشی بحران، مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، بے روزگاری اور ادارہ جاتی کشمکش نے عوام کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ خارجہ محاذ پر بدلتی علاقائی صورتحال، سرحدی خدشات اور عالمی طاقتوں کے مفادات پاکستان کے لیے مسلسل آزمائش بنے ہوئے ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پاکستان آج بھی کھڑا ہے۔ اگر یہ ملک قائم ہے تو اس کے پیچھے سقوطِ ڈھاکہ کی تلخ یادیں، اے پی ایس کے معصوم بچوں کا لہو، اور ان ماؤں کی دعائیں ہیں جنہوں نے سب کچھ دے کر بھی پاکستان مانگا۔ 16 دسمبر ہمیں رونے کے لیے نہیں، جاگنے کے لیے آتا ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ ریاستیں نعروں سے نہیں، انصاف، آئین کی بالادستی اور قومی اتحاد سے مضبوط ہوتی ہیں۔آج 16 دسمبر کو ہم بطورِ قوم یہ عہد بھی کرتے ہیں اور یہ دعا بھی مانگتے ہیں کہ اے اللہ، اس وطن کو ماضی کی غلطیوں کے بوجھ تلے دوبارہ نہ دبنے دینا، اے ربِّ کریم، اے پی ایس کے معصوم شہیدوں کے خون کی لاج رکھنا، اور ہمیں وہ بصیرت عطا کرنا جو قوموں کو جوڑتی ہے، توڑتی نہیں۔ ہمیں ایسا شعور دے کہ ہم آئین، جمہوریت اور انصاف کو اپنی اصل طاقت بنا سکیں، اور ایسا حوصلہ عطا فرما کہ ہم دہشت گردی، نفرت اور فتنہ انگیزی کے خلاف متحد رہیں۔ ہمارے محافظوں، ہماری مسلح افواج کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا، جن کی قربانیوں نے اس سرزمین کو قائم رکھا ہے۔ اے اللہ، پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھنا، مضبوط رکھنا، اور ہمیں اس کا حق ادا کرنے والا بنا دینا۔ آمین٭





