فیفا ورلڈ کپ کے دوران کھیل کے میدان سے ہٹ کر ایک بڑا سفارتی اور انتظامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں امریکی حکام کی جانب سے ایرانی فٹبال ٹیم کے ساتھ شدید ناروا سلوک کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، نیوزی لینڈ کے خلاف میچ ختم ہوتے ہی امریکی حکام نے ایرانی ٹیم کو فوری طور پر امریکا چھوڑنے کا حکم دے دیا اور کھلاڑیوں کو میچ کے بعد آرام یا فزیکل ریکوری کا مناسب وقت بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ یہ بدسلوکی صرف میچ کے بعد تک محدود نہیں تھی، بلکہ میچ سے قبل جب ایرانی ٹیم میکسیکو سے امریکا پہنچ رہی تھی، تب بھی سکیورٹی اور تفتیش کے نام پر کھلاڑیوں کو ایئرپورٹ پر 5 گھنٹے تک روک کر شدید پریشان کیا گیا۔
ایرانی فٹبال ٹیم کے کپتان مہدی تاریمی نے اس صورتحال پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام کے اس رویے کے باعث کھلاڑیوں کی فزیکل ریکوری شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ ورلڈ کپ جیسے بڑے اور اعصاب شکن مقابلے کے لیے کھلاڑیوں کا ذہنی اور جسمانی طور پر تازہ دم ہونا سب سے اہم ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے فیفا ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں کھیلا جو 2-2 گول سے برابر رہا۔ اب اس تمام تر کشیدگی اور پریشان کن صورتحال کے باوجود، ورلڈ کپ میں ایران کا اگلا بڑا مقابلہ پیر کے روز بیلجیئم کے خلاف لاس اینجلس میں ہی شیڈول ہے۔





