تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں نے عمر بھر سیاست میں ٹانگ اڑانے سے ایسے اجتناب کیا جیسے ریلوے کے پرانے انجن کا ڈرائیور غیر ضروری بریک سے کرتا ہے کہ ذرا سی بے احتیاطی پوری گاڑی کو پٹری سے اتار دیتی ہے مسافر شور مچاتے ہیں افسر انکوائری بٹھاتے ہیں اور آخر میں الزام ہمیشہ ڈرائیور ہی پر آتا ہے مگر اب معاملہ کچھ ایسا ہے کہ پٹری ہی اکھڑ چکی ہے انجن کا کوئلہ ختم ہے سگنل والا سو رہا ہے کنٹرول روم میں ٹی وی چل رہا ہے اور اوپر سے اعلان ہو رہا ہے کہ مسافرو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں سب خیریت ہے ایسے میں اگر بندن میاں خاموش رہے تو پھر خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے بلکہ شاید سب سے بڑا جرم کیونکہ جب شور مچانا فرض ہو جائے اور انسان خاموش رہے تو وہ ظالم کا شریک بن جاتا ہے چاہے اس کی نیت کتنی ہی معصوم کیوں نہ ہو۔
بندن میاں کہتا ہے کہ میں کوئی فلسفی نہیں، نہ انقلابی، نہ کالم نگار، نہ تجزیہ کار، میں تو بس وہی ہوں جو صبح تنخواہ کے انتظار میں دیوار پر لگی گھڑی کو ایسے گھورتا ہے جیسے بیمار مریض ڈاکٹر کے چہرے کو دیکھتا ہے شام کو دوائی کی پرچی جیب میں ڈال کرسوتاہےاور صبح اسپتال میں لائن میں کھڑا رہتا ہے اور رات کو بچوں کے سوالوں سے بچنے کے لیے اخبار اوڑھ کر سو جاتا ہے اس امید پر کہ شاید سرخیوں میں کہیں کوئی خوشخبری چھپ گئی ہو مگر ہر صبح اخبار وہی پرانا دکھ لے کر آتا ہے نئے وعدوں کے ساتھ پرانی بے حسی کے ساتھ۔
بندن میاں یہ بھی مانتا ہے کہ سیاست ایک مشکل کھیل ہے اس میں فیصلے آسان نہیں ہوتے مگر بندن میاں یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ جب کسان کے پاس اناج نہیں، مزدور کے پاس روٹی نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، علاج کو دوا نہیں، اور عزتِ نفس کے کفن میں لپٹا ہوا جینا بھی میسر نہیں تو پھر یہ کیسی سیاست ہے جس کے سب کھلاڑی کامیاب ہیں اور سب تماشائی بھوکے۔
بندن میاں کے ضمیر کو کون سا اے سی ٹھنڈا کرے کون سا ٹاک شو خاموش رکھے کون سا بیان مطمئن کرے یہاں تو صورتِ حال یہ ہے کہ جس نے ملک کو اس حال تک پہنچایا وہی خود کو مسیحا بھی کہتا ہے اور مظلوم بھی اور بندن میاں کو یہ عقدہ سمجھ نہیں آتا کہ اگر ہر شخص مظلوم ہے تو ظالم کون ہے شاید وہی جو خاموش ہے شاید بندن میاں ہی جو اب مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔
بندن میاں نے اپنی عمر ریلوے میں گزاری ہے اسے پٹری اور نظام کا فرق معلوم ہے پٹری مضبوط ہو تو پرانا انجن بھی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور پٹری بوسیدہ ہو تو نیا انجن بھی حادثہ بن جاتا ہے بندن میاں دیکھتا ہے کہ اس ملک میں مسئلہ افراد کا نہیں مسئلہ نظام کا ہے مگر یہاں نظام کو بچانے کے بجائے ہر شخص اپنےآپ کو بچانے میں لگا ہے۔ اقتدار کی سیڑھی پر چڑھتے وقت اصول اتنے لچکدار ہو جاتے ہیں کہ آر ٹی ایس بیٹھا دی جائے تو جمہوریت سلامت رہتی ہے اور اقتدار سے اترتے وقت وہی اصول لوہے کے راڈ بن جاتے ہیں کہ فارم سینتالیس دکھائی دے تو ماتم برپا ہو جاتا ہے۔
بندن میاں حیران ہے کہ ایک ہی زبان سے نکلے الفاظ کبھی انقلاب کہلاتے ہیں، کبھی غداری، کبھی حق، کبھی جرم، کبھی دلیل، کبھی لفافہ، کبھی عدل، کبھی انتقام، بندن میاں نے سنا تھا کہ قانون اندھا ہوتا ہے مگر یہاں تو قانون کو نہ صرف آنکھیں عطا کر دی گئی ہیں بلکہ پارٹی پرچم بھی تھما دیا گیا ہے اب قانون دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے اور دیکھ بھی یہ لیتا ہے کہ سامنے کون کھڑا ہے اپنا ہے یا مخالف۔
بندن میاں کہتا ہے کہ اگر جنرل کندھے پر بٹھا لے تو جمہوری اور نہ بٹھائے تو میر جعفراور میر صادق اگر جرنیل قوم کا باپ بنے تو ٹھیک اوراگر دوسرا یہی بات کہے تو قومی مجرم اگر مخالف کو جیل میں ڈالو تو قانونی کارروائی اور خود جیل جاؤ تو ظلم کی انتہا اگر اپنے فالور مخالف عورت کی عزت اچھالیں تو اظہارِ رائے اور اگر جواب میں سوال اٹھے تو اخلاقیات کا جنازہ بندن میاں پوچھتا ہے کہ یہ کون سی شریعت ہے کون سا آئین ہے کون سا اخلاق ہے اورکونسی سیاست ہے جس میں اصول کا ترازو صرف ایک ہی جیب میں رکھا جاتا ہے۔
بندن میاں کے سامنے پاکستان ریلوے کے ریٹائرڈ ملازم کھڑے ہیں جن کی آنکھوں میں انتظار نے جھریاں ڈال دی ہیں تین تین سال سے واجبات رکے ہیں گریجویٹی کے کاغذوں پر دستخط کرتے کرتے انگلیوں کی سیاہی ختم ہو گئی مگر فائل ابھی تک میز کے کسی کونے میں دم توڑ رہی ہے حاضرسروس ملازم تنخواہ کی تاریخ ایسے پوچھتا ہے جیسے بیمار تیماردار ڈاکٹر سے آخری امید پوچھتا ہے بندن میاں سوچتا ہے کہ اگر ریاست اپنے ملازم کو بڑھاپے میں روٹی نہیں دے سکتی تو وہ کس اخلاقی منہ سے قربانی کا نعرہ لگاتی ہے۔
اسپتالوں میں دوا نہیں، بستروں پر جگہ نہیں، پرچی پر تاریخ ہے مگر علاج نہیں، پانی ایسا کہ پیو تو بیمار اور نہ پیو تو بھی بیمار بندن میاں سوچتا ہے کہ اس ملک میں مرنا آسان اور جینا مشکل کیوں ہو گیا ہے اور جو جینا مشکل کرتا ہے وہی نعرہ لگاتا ہے کہ ہم نے آسانیاں پیدا کیں بندن میاں کو یوسفی صاحب یاد آتے ہیں کہ المیہ یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں المیہ یہ ہے کہ ان حالات میں بھی کچھ لوگ خود کو کامیاب سمجھتے ہیں۔
بندن میاں کہتا ہے کہ میں کسی ایک نام کا وکیل نہیں میں اس رویے کا مخالف ہوں جو خود کو معیارِ حق سمجھتا ہے جو اپنے لیے رعایت اور دوسروں کے لیے سزا لکھتا ہے جو اپنے لیے تحفہ اور دوسروں کے لیے توشہ خانہ بناتا ہے جو اپنے جج کو منصف اور مخالف کے جج کو بکاؤ کہتا ہے بندن میاں کے نزدیک اصل مسئلہ شخص نہیں مسئلہ وہ سوچ ہے جو آئین کو اپنی تقریر کا ضمیمہ سمجھتی ہے صحافت کو اپنی تالی اور اختلاف کو غداری۔
خاموش اکثریت اور مسائل کی حقیقت بندن میاں کے لیے خاموشی کی ایک حد ہوتی ہے اور اس نے اس حد کو بہت پہلے پار کر لیا تھا مگر اسے خبر نہیں تھی کیونکہ اس ملک میں خاموشی کو شرافت، برداشت اور دانائی سمجھا جاتا ہے اور بولنے والے کو بدتمیز غدار یا کسی ایجنڈے کا حصہ قرار دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے بندن میاں بھی یہی سیکھا کہ چپ رہو اور اپنے کام سے کام رکھو بچوں کی فیس دو، گھر کا کرایہ دو،تنخواہ پر بھاری ٹیکس کی ادائیگی کے باوجود بھی ماچس تک کی خریداری پر ٹیکس اداکرو، بیماری چھپاؤ، قرض دباؤ، اور دعا کرو کہ نظام تمہیں نظر انداز ہی کرتا رہے کیونکہ نظر آ جانا سب سے بڑا جرم ہے مگر اب بندن میاں دیکھ رہا ہے کہ خاموش رہنے کے باوجود نظام نے اسے نظرانداز نہیں کیا بلکہ کچل دیا ہے اس کی تنخواہ تاخیر سے ملتی ہے، پنشن فائلوں میں الجھی ہوئی ہے، علاج دعاؤں پر چل رہا ہے، اور بچوں کے مستقبل پر تالے لگے ہوئے ہیں ایسے میں بندن میاں جانتا ہے کہ اگر خاموشی تحفظ نہ دے تو بولنا ہی آخری راستہ ہے بندن میاں کے سامنے وہ خاموش اکثریت کھڑی ہے جو ہر الیکشن میں قطاروں میں لگتی ہے، ہر بحران میں قربانی دیتی ہے، ہر تقریر پر تالیاں نہیں بجاتی مگر سر ہلا دیتی ہے، اور ہر دھچکے کے بعد خود کو سمجھاتی ہے کہ شاید یہ آخری آزمائش ہو مگر ہر آزمائش کے بعد نئی آزمائش پہلے سے زیادہ سخت چہرے کے ساتھ آ جاتی ہے بندن میاں کہتا ہے کہ یہ اکثریت نہ نعرے لگاتی ہے نہ جلوس نکالتی ہے نہ ٹاک شو دیکھ کر فیصلے سناتی ہے یہ بس زندہ رہنے کی کوشش کرتی ہے اور شاید اسی جرم کی سزا بھگت رہی ہے بندن میاں دیکھتا ہے کہ ملک میں شور مچانے والے چند ہیں مگر فیصلے انہی کے حق میں ہوتے ہیں اور خاموش رہنے والے کروڑوں ہیں مگر ان کے حصے میں صرف صبر آتا ہے بندن میاں پوچھتا ہے کہ کیا صبر بھی کسی دن ختم ہو جاتا ہے یا اسے بھی پنشن کی طرح فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
اب بندن میاں اس خاموشی سے نکل کر اُمید عمل اور اصلاح کی سمت دیکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مسائل تو ہیں مگر حل بھی موجود ہیں بس قدم اٹھانے کی دیر ہے بندن میاں دیکھتا ہے کہ ہر اسٹیشن پر لوگ انتظار کے ساتھ منصوبہ بندی کر رہے ہیں کسان زمین کی حالت بہتر کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی آزما رہا ہے مزدور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے استاد مستقبل تیار کرنے کے ساتھ خود بھی علم میں اضافہ کر رہا ہے نرسیں مریضوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اپنی تربیت جاری رکھ رہی ہیں ریلوے کا پرانا انجن ڈھیلے پٹری پر بھی ایمانداری سے چل رہا ہے اور بندن میاں جانتا ہے کہ اگر سب مل کر قدم بڑھائیں تو نظام میں تبدیلی ممکن ہے بندن میاں کہتا ہے کہ اصلاح صرف باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتی ہے اور اُمید کا چراغ وہ روشنی ہے جو نہ صرف اندھیرے میں راستہ دکھاتا ہے بلکہ ضمیر کو بھی جگاتا ہے بندن میاں دیکھتا ہے کہ سچ اور اصلاحی آواز آسان نہیں مشکلات موجود ہیں مگر خاموش رہنے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے خاموشی صرف اندھیرا پیدا کرتی ہے اصلاحی آواز روشنی، رہنمائی اور حل پیدا کرتی ہے۔
بندن میاں کے مطابق قائد وہ ہے جو حق کے سامنے سر جھکائے اقتدار میں ہو تو شکر کرے، اقتدار سے باہر ہو تو صبر کرے طاقت ملے تو قانون بنے طاقت جائے تو بھی قانون مانے اور اسی اصول پر بندن میاں بولتا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ملک کے ستون مضبوط ہوں گے عوام کو انصاف ملے گا اور ہر شہری کے حق کی حفاظت ممکن ہو گی بندن میاں کے لیے بولنا سوال اٹھانا اور اصلاحی آواز بلند کرنا مایوسی نہیں بلکہ امید کی ذمہ داری ہے۔
