تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
اوکاڑہ میں ڈاکٹرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہنگامی پریس کانفرنس محض ایک مقامی واقعہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسے قومی مسئلے کی بازگشت تھی جو اس وقت پورے ملک میں صحت کے شعبے، ریاستی اداروں اور ٹیکس نظام کے درمیان ایک سنجیدہ تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، وائے این اے، کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن اور پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملہ کسی ایک تنظیم یا چند افراد کا نہیں بلکہ پوری ڈاکٹر کمیونٹی کا اجتماعی موقف بن چکا ہے۔اس پریس کانفرنس میں پی ایم اے اوکاڑہ کے صدر ڈاکٹر نعیم زاہد نے جس وضاحت اور سنجیدگی سے بات رکھی، وہ قابلِ توجہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج نہ کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہے اور نہ کسی ذاتی مفاد کی جنگ، بلکہ یہ صحت کے نظام، مریضوں کے تحفظ اور طبی پیشے کے وقار کے دفاع کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے پوائنٹ آف سیل سسٹم کو کلینکس اور ہسپتالوں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں چھاپے، غیر ضروری انسپکشن، جرمانے اور نوٹسز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ڈاکٹرز کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا ہے بلکہ مریضوں کے علاج کے ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔ڈاکٹرز کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ POS سسٹم دراصل دکانوں، مارکیٹس اور تجارتی مراکز کے لیے بنایا گیا تھا، جہاں اشیا کی قیمت فکس ہوتی ہے، رسید پہلے بنتی ہے اور پھر سودا ہوتا ہے۔ طب کا شعبہ اس تصور سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں مریض خریدار نہیں ہوتا اور علاج کوئی سودا نہیں۔ ہر مریض ایک الگ کیس ہوتا ہے، ہر بیماری کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، کبھی فالو اپ ہوتا ہے، کبھی ایمرجنسی، کبھی تشخیص کے بعد فیس کا تعین ہوتا ہے اور کبھی فیس معاف کر دی جاتی ہے۔ ایسے میں یہ فرض کر لینا کہ ہر سروس ایک جیسی ہے، ہر فیس فکس ہے اور ہر مریض علاج سے پہلے ادائیگی کرتا ہے، طب کی بنیادی روح سے ناواقفیت کے مترادف ہے۔سانچ کے قارئین کرام:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر معاویہ حسنین نے اسی نکتے کو سادہ مگر بھرپور انداز میں بیان کیا کہ ”ہمارے لیے ریٹ نہیں، مریض اہم ہوتا ہے، یہاں بات نہیں ہوتی، مریض ہوتا ہے، سودا نہیں، علاج ہوتا ہے“۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ڈاکٹر تنظیمیں ایک صفحے پر ہیں اور ایف بی آر کو واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ POS سسٹم کسی صورت صحت کے شعبے میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور ڈاکٹرز کے سینئر نمائندوں کو اعتماد میں لے کر قابلِ عمل حل نکالا جائے۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالعزیز خالد، ڈاکٹر شاہد اکرم قاری اور ڈاکٹر محمد اعظم خان ، ڈاکٹر اویس اکرم،ڈاکٹر نثار احمد اور ضلع بھر سے ڈاکٹرز کے نمائندے بھی موجود تھے ۔تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی تلخ اور اہم ہے۔ ایف بی آر کے تازہ ترین اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں رجسٹرڈ ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد ڈاکٹرز میں سے رواں سال صرف تقریباً چھپن ہزار نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروائے۔73 ہزار سے زائد ڈاکٹرز، جو قابلِ ٹیکس آمدنی رکھتے ہیں، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سے گریزاں رہے۔ ہزاروں ڈاکٹرز نے صفر آمدنی یا حتیٰ کہ نقصان ظاہر کیا، جبکہ عملی حقیقت یہ ہے کہ بڑے شہروں میں نجی کلینکس ہر شام مریضوں سے بھرے ہوتے ہیں اور فی مریض فیس ہزاروں روپے تک وصول کی جاتی ہے۔اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کئی ایسے ڈاکٹرز ہیں جن کی سالانہ آمدنی لاکھوں اور کروڑوں میں ہے مگر ان کا یومیہ ادا کردہ ٹیکس ایک عام سرکاری ملازم سے بھی کم ہے۔ گریڈ سترہ اور اٹھارہ کا سرکاری افسر، جس کے پاس آمدنی چھپانے کی کوئی گنجائش نہیں، کئی گنا زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے شعبوں میں کمپلائنس کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہ تضاد ریاست کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے کہ کیا ٹیکس نظام صرف ان طبقات کے کندھوں پر چلایا جا سکتا ہے جن کی آمدنی شفاف ہے؟یہاں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ڈاکٹرز ٹیکس دیں یا نہ دیں۔ ڈاکٹر تنظیمیں خود اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ وہ ٹیکس دینے کے خلاف نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کا طریقہ کیا ہو۔ کیا بغیر مشاورت کے ایک پورے شعبے کو دکاندار قرار دے دینا درست ہے؟ کیا چھاپے، جرمانے اور دباؤ ہی واحد راستہ ہیں؟ یا پھر ایسا نظام وضع کیا جا سکتا ہے جو صحت کے شعبے کی زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہو، جس میں فکس ٹیکس سلیب، سادہ گوشوارے اور شفاف آڈٹ کا طریقہ کار شامل ہو؟اوکاڑہ کی پریس کانفرنس میں اٹھائے گئے سوالات اسی خلا کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خود راقم الحروف (محمد مظہررشید چودھری )کی جانب سے یہ سوالات اُٹھائے گئے کہ اگر حکومت اور ایف بی آر آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ٹیکس نظام کو سخت کر رہے ہیں تو کیا اس کا سارا بوجھ چند شعبوں پر ڈال دینا انصاف ہے؟ اور اگر فکس فیس کا تاثر موجود ہے تو کیا اس پر ایک واضح اور قابلِ قبول ٹیکس ماڈل نہیں بنایا جا سکتا؟یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مقامی انتظامیہ، ڈی سی یا اے سی کے پاس ایف بی آر پالیسیوں میں رد و بدل کا اختیار نہیں۔ اصل فیصلہ سازی وفاقی سطح پر ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ معاملہ اب محض اوکاڑہ یا کسی ایک ضلع تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک قومی پالیسی مسئلہ بن چکا ہے۔آج کی پریس کانفرنس نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ ڈاکٹر کمیونٹی خود کو سافٹ ٹارگٹ بنائے جانے کے تاثر کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ دوسری جانب ریاست کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ زیادہ آمدنی والے شعبوں میں ٹیکس کمپلائنس کو یقینی بنایا جائے۔ حل تصادم میں نہیں بلکہ مکالمے میں ہے۔ ایسا مکالمہ جو ایک طرف ریاست کے مالی تقاضوں کو پورا کرے اور دوسری طرف علاج کو تجارت بنانے کے تاثر کو ختم کرے۔اگر یہ توازن قائم نہ ہو سکا تو آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی بڑھے گی، احتجاج وسیع ہوگا اور اس کا براہِ راست اثر مریضوں اور صحت کے نظام پر پڑے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آج اوکاڑہ کی پریس کانفرنس ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ریاست، ڈاکٹر اور مریض، تینوں ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ کشتی کو بچانا ہے تو سمت کا تعین باہمی اعتماد اور انصاف کے ساتھ کرنا ہوگا



