آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے ایک دلخراش واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 تک پہنچ گئی، جبکہ 2 پولیس اہلکار اور حملہ آور سمیت 40 افراد زخمی ہوئے ہیں، جو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس نے مزید ملزمان کی تلاش ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور ایک باپ اور بیٹے کی جوڑی تھی، جس میں 50 سالہ باپ جوابی کارروائی میں مارا گیا، جبکہ 24 سالہ بیٹا زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ واقعے کے دوران حملہ آوروں کی گاڑی سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی۔
اس واقعے کے دوران احمد نامی مسلمان شہری نے ایک حملہ آور کو قابو پا کر یہودیوں کو جانی نقصان سے بچایا۔ احمد بھی زخمی ہوا لیکن اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ آسٹریلوی مسلم کمیونٹی نے واقعے کی شدید مذمت کی اور معاشرے میں پرتشدد اقدامات کے لئے کوئی جگہ نہ ہونے کا پیغام دیا۔
پاکستان سمیت عالمی برادری نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ صدر آصف زرداری نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے، اور آسٹریلیا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں، آسٹریلوی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی مذمت کی۔
بین الاقوامی رہنماؤں نے بھی اظہار مذمت کیا، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی شامل ہیں۔ ایران، ترکی اور فلسطین نے بھی اس دہشت گرد حملے کی مذمت کی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق فائرنگ میں ایک اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوا، جبکہ واقعہ یہودیوں کی مذہبی تقریب کے دوران پیش آیا۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو تکلیف دہ قرار دیا اور ایک روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب بھارت اور افغانستان کی سوشل میڈیا پروپیگنڈا ٹیموں نے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی اور سڈنی کے رہائشی نوجوان شیخ نوید کو جھوٹے طور پر حملہ آور قرار دیا۔ شیخ نوید نے ویڈیو پیغام میں اس پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ واقعے سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات روکنے کی اپیل کی۔
یہ واقعہ آسٹریلیا میں مذہبی اور عوامی اجتماعات میں سکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ عالمی برادری کی فوری مذمت سے دہشت گردانہ رویوں کے خلاف یکجہتی کا پیغام بھی واضح ہوا۔
