ٹریفک قوانین کا اطلاق اور تجاویز

تحریر:الیاس محمد حسین

آج کل ٹریفک قوانین کے عوام کو وخت ڈالاہواہے سختی اتنی ہے کہ عام آدمی کی مت ماری گئی ہے جس نے ہیلمٹ نہ پہناہو دورسے ہی ٹریفک اہلکار اسے ٹارگٹ بنالیتے ویں حالانکہ عوام ہیلمٹ صرف اپنی حفاظت کے لئے پہنتے ہیں جبکہ موٹر سائیکل کے تمام اشارے کام کرتے ہوں تاکہ ٹرن لیتے وقت انڈیکٹر آن کر کے ٹرن لیا جائے سائیڈ مرر اس سے بھی اہم کہ دونوں سائیڈ پر دیکھ کر ٹرن لیا جائے بیک لائٹ بتی کا بریک کے ساتھ آن ہونا اس سے بھی ضروری کہ جب آپ رکنا چاہیں تو پیچھے سے آنے والوں کو پتہ چل جائے اور وہ اس لحاظ سے اپنے آپ کو کنٹرول کریں اور اسی طرح رات کے وقت بیک لائٹ کا ہیڈ لائٹ کے ساتھ آن ہونا نہایت اہم ہے تا کہ پیچھے سے آنے والوں کو علم ہو کہ آگے کچھ جا رہا ہے جبکہ یہاں تو ہیڈ لائٹ کے بغیر کیا شہرکیا دیہات کئی جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوجاتے ہیں خیر یہ ان اصولوں میں سے صرف چند ایک ہیں سب پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہے ہمارے روڈز پر ٹریفک کا رش بڑھتا جا رہا ہے مگر روڈز کو کب کس روڈ پر ٹریفک کا کتنا حجم ہوتا ہے اور ادھر کتنے واردنز نے ڈیوٹی کرنی ہے کبھی اس طرح ان کی ڈیوٹیاں نہیں لگائی جاتی اگر لگائی بھی جاتی ہو گی تو صرف کاغذی کاروائی عملی طور پر وہ صرف اپنا چالان ٹارگٹ پورا کرتے نظر آئیں گے ان دنوں میں نے ٹریفک پولیس کی ویب سائیٹ وزٹ کی تو پتہ چلا کہ اس محکمے نے اپنی سائیٹ پر کئی سالوں سے روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح اپڈیٹ ہی نہ کی ہے۔
کئی شہروں میں بسیں سکول کے بچوں کی وین اور رکشوں کو کچل کر چلے جاتے ہیں شالامار باغ کے قریب ایک سرکاری ٹرک سکول کے بچوں پر الٹ گیا جس سے پانچ چھ افراد جان کی بازی ہارگئے لیکن سسٹم درست نہ ہوسکا گوجرہ میں کمالیہ روڈ پر اسی ٹریفک قوانین کی عدم آگاہی کی وجہ سے سینکڑوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں مگر ادارے ستو پی کر سوئے رہے لوگ اپنی تجاویز بھری شکایات درج کرواتے رہتے ہیں مگر ڈی پی او صاحب کے اس وقت کے پورٹل ہینڈلر صاحب اپنی محکمانہ کارکردگی پر آنچ نہ آنے دیتے اور انکو بے بنیاد کی کیٹیگری میں ڈال کر فارغ کر دیتے رہے۔ اگر حکومت واقعی طور پر لوگوں کی جان کی محافظ بننا چاہتی ہے تو میں یہ بات چیلنج کے طور پر لکھ رہا ہوں کہ جو اوپر چند اقدامات میں نے تحریر کئے ہیں وہ سب ٹریفک کے قوانین کی کتابوں میں لکھے پڑے ہیں وہ تمام قوانین اور ضابطے اپنے وارڈنز کو حقیقی معنوں میں پڑھا کر ان کو ہدایت دیں کہ ایک ماہ یہ مہم چلائیں کہ روڈ پر ان تمام ضابطوں (قوانین) کو فالو کرتے ہوئے ہر ایک کار، موٹرسائیکل، بس چھوٹی بڑی گاڑی چلاتے ہوئے ڈرائیور کو نہایت تہذیب سے روک کر اسکا وارننگ چلان جاری کریں جو ریکارڈ پر موجود ہو اور پھر ایک ماہ بعد دوسری مہم شروع کریں کہ ان قانون کی کتابوں میں موجود ٹریفک کے ضابطے/قوانین کی خلاف ورزی پر ہلکا یعنی سینکڑوں میں جرمانہ کریں جس کا پہلے وارننگ چالان جاری ہو چکا ہے اس کا ہزاروں میں جرمانہ کریں اور پھر تیسری مہم میں سینکڑوں والوں کو خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ کریں اور بھاری جرمانے والے پر ایف آئی آر دیکر اسے ہمیشہ کے لئے روڈ پر ڈرائیونگ کرنے کے لئے نااہل قرار دے دیا جائے یہ بات تو دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ اس سے نہ صرف روڈز پر ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے گا بلکہ روڈ حادثات میں ایک واضح کمی آئے گی اور جب ان سب ٹریفک کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر بلا تمیز ہر ایک کا چالان ہو گا تو ریونیو تب بھی اتنا ہی اکٹھا ہو گا۔

Exit mobile version