تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں کہتا ہے کہ پاکستان ریلوے محض لوہے کی پٹریوں، بھاپ اڑاتے انجنوں اور ڈبوں کی قطار کا نام نہیں، یہ اس ریاست کی زندہ شہ رگ ہے جس میں کبھی نظم، وقت اور اعتماد کا خون دوڑتا تھا۔ 1861 میں برصغیر میں پہلی ریل اس نیت سے نہیں چلائی گئی تھی کہ چند افسر فائلوں میں کمیشن چھپائیں یا چند یونین لیڈر نعروں کے پردے میں کاروبار کریں، بلکہ مقصد یہ تھا کہ ریاست کی گرفت مضبوط ہو، عوام کو سہولت ملے اور وقت کی پابندی تہذیب کا حصہ بنے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ ادارہ مہاجرین کی آہوں، بچوں کی ہچکیوں اور بوڑھوں کی دعاؤں کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ بندن میاں کہتا ہے کہ جن ڈبوں میں آج زنگ لگ چکا ہے، کبھی ان میں امیدیں سفر کرتی تھیں۔
بندن میاں کے بزرگوں نے بتایا کہ ایک زمانہ تھا جب ریلوے کی وردی پہن کر سینہ خود بخود تن جاتا تھا،انجن کا وصل گارڈ کی سیٹی میں قانون کی آواز ہوتی تھی، اور گارڈ کی سبز جھنڈی وقت کی گواہی سمجھی جاتی تھی۔ ٹرین لیٹ ہو جائے تو افسر شرمندہ ہوتا، مزدور جواب دہ اور پورا اسٹیشن معذرت خواہ ہوتا۔ مگر پھر وہ وقت آیا جب شرمندگی نے استعفیٰ دے دیا اور مصلحت نے مستقل تقرری لے لی۔ سیاست نے ادارے میں قدم رکھا اور ساتھ ہی ضمیر پر پہلا زنگ لگا۔ بندن میاں اسے سیاست کی آمد نہیں، سیاست کی نیت کا بگاڑ کہتا ہے۔
انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ بندن میاں ابتدا ہی میں گواہی دے کہ پاکستان ریلوے میں ہر دور میں باصلاحیت، دیانت دار اور درد دل رکھنے والے افسر موجود رہے ہیں۔ ایسے افسر جنہوں نے فائل کو رزق نہیں، ذمہ داری سمجھا جنہوں نے فون کال کو حکم نہیں، مشورہ جانا جنہوں نے مزدور کو غلام نہیں، انسان مانا۔ آج بھی کچھ میزیں ایسی ہیں جہاں فیصلہ بکتا نہیں، کچھ دل ایسے ہیں جہاں ادارہ اب بھی سانس لیتا ہے۔ مگر بندن میاں کہتا ہے کہ مسئلہ نیکی کی کمی نہیں، نیکی کے تحفظ کا فقدان ہے۔ ایماندار افسر جب نظام میں تنہا رہ جائے تو یا وہ خاموش ہو جاتا ہے یا اسے خاموش کروا دیا جاتا ہے، اور اکثر تالی بجانے والے وہی ہوتے ہیں جو بعد میں تعزیت کے پیغام بھیجتے ہیں۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نہ تھکنے والے کرداروں کا ذکر بندن میاں کو غصہ اور ہنسی دونوں دلاتا ہے۔ ہمارے ہاں ریٹائرڈ ہونا ملازمت سے سبکدوشی نہیں، ایک نئے کاروبار کا آغاز ہوتا ہے۔ پنشن کو حق کہا جاتا ہے مگر ادارے کو چھوڑنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ نام کے ساتھ سابقہ لگ جاتا ہے مگر اثر و رسوخ کے ساتھ لاحقہ جڑا رہتا ہے۔ یہ حضرات افسران کی آفس میں ایسے داخل ہوتے ہیں جیسے وقت نے ان سے اجازت لی ہو، افسر کے کمرے میں ایسے بیٹھتے ہیں جیسے کرسی نے انہیں بلایا ہو، اور فائل کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے یہ ان کی ذاتی ڈائری ہو۔ بندن میاں پوچھتا ہے کہ اگر یہی تجربہ نجات تھا تو ادارہ ڈوبا کیوں؟
بندن میاں کے مطابق سچ اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں تجربہ کم اور تجربے کی دکان داری زیادہ ہے۔ یہاں مشورہ نہیں بکتا،بلکہ سودا بازی ہوتا ہے یہاں اصلاح کا نعرہ نہیں لگتا، ریٹ لگتاہے یہاں مزدور کے نام پر چندہ اور ادارے کے نام پر کمیشن اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ریٹائرڈ حضرات کی ایک قسم وہ بھی ہے جو واقعی ادارے کے خیر خواہ ہیں جو دور رہ کر مشورہ دیتے ہیں جن کی دعا میں لوہا نہیں، اخلاص ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے انہی کی آواز سب سے کم سنی جاتی ہے کیونکہ وہ دباؤ ڈالنا نہیں جانتے۔
بندن میاں یونین کی طرف آتا ہے تو لہجہ بدلتا ہے آواز میں احترام بھی ہے اور دکھ بھی۔ وہ مانتا ہے کہ یونین نے اس ادارے کو مزدور دیا، آواز دی اور شناخت دی۔ ایسے لیڈر گزرے ہیں جنہوں نے لاٹھیاں کھائیں، جیل دیکھی، نوکریاں قربان کیں مگر سودے بازی نہیں کی۔ آج بھی کچھ ایسے رہنما ہیں جو یونین کو کاروبار نہیں، امانت سمجھتے ہیں جو افسر سے بات کریں تو دلیل سے، اور احتجاج کریں تو نظم کے ساتھ۔ مگر بندن میاں آہ بھرتا ہے کہ یہی لوگ اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں۔ یہاں سب سے خطرناک سانپ باہر نہیں، اندر ہیں۔ کل کے نعرہ زن آج کے مفاد زن بن چکے ہیں۔اصل مسئلہ سیاست کا وجود نہیں، سیاست کا مقصد ہے۔ سیاست اگر خدمت بن جائے تو عبادت ہے، اگر قبضہ بن جائے تو لعنت۔ یونین نمائندگی کے بجائے راج بن جائے، افسر کا اختیار امانت کے بجائے ہتھیار بن جائے، اور ریٹائرڈ کا وقار تجربے کے بجائے دباؤ بن جائے تو پھر ادارہ نہیں، اکھاڑا بنتا ہے۔ بندن میاں طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں اصلاحی کمیٹی تب بنتی ہے جب خرابی سے کمیشن نکلنا ہو، اور تحقیقات تب ہوتی ہیں جب سچ کو دفن کرنا مقصود ہو۔ رپورٹ آتی ہے، فائل بند ہوتی ہے اور کردار کھلے رہتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہر دور میں ایک ہی کہانی ملتی ہے۔ جب بھی کسی ایماندار افسر نے ہاتھ ڈالا، اسے پہلے تنہا کیا گیا، پھر بدنام، اور آخرکار کنارے لگا دیا گیا۔ جب بھی کسی سچے یونین لیڈر نے سوداگری سے انکار کیا، اسے اپنے ہی ساتھیوں نے غدار کہا۔ بندن میاں پوچھتا ہے کہ کیا ادارے واقعی دشمنوں سے ٹوٹتے ہیں یا ہم خود اپنی اپنی اینٹ کھینچ لیتے ہیں؟اور دیوار گرادیتے ہیں۔
بندن میاں پھر سخت ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضمیر فروشی صرف رشوت لینے کا نام نہیں۔ ضمیر فروشی وہ خاموشی بھی ہے جو غلط کو دیکھ کر اختیار کی جاتی ہے وہ مصلحت بھی ہے جو سچ پر پردہ ڈال دیتی ہے وہ سہولت بھی ہے جو اصول بیچ کر حاصل کی جاتی ہے۔ جب مزدور ڈیوٹی پر کوتاہی کرے اور افسر نظر چرا لے، جب افسر غلط حکم دے اور یونین تالیاں بجائے، جب ریٹائرڈ دباؤ ڈالے اور سب سلام کریں تو یہ سب ضمیر فروشی کی مختلف شکلیں ہیں۔
یہاں بندن میاں تاریخ کی ایک اور جھلک بھی دکھاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ 1970 کی دہائی میں جب ریلوے سب سے بڑی قومی خدمت کے طور پر پہچانی جاتی تھی، اسٹیشن کے باہر مسافرخوشی خوشی چپ چاپ ٹکٹ خریدتے۔ افسران دفتر میں فائلیں صحیح سمت میں ڈال کر قومی خدمت کا حصہ بنتے، اور مزدور اپنے ہاتھ کی محنت پر فخر کرتے۔ آج وہی اسٹیشن بعض اوقات ریکارڈ کی دھول سے ڈھکے ہیں، اور لوگ صرف عکس کے طور پر یاد کرتے ہیں کہ کبھی یہاں وقت کی پابندی کا درس ہوتا تھا۔
بندن میاں مزید کہتا ہے کہ ریٹائرڈ افسران کی ایک اور بڑی کمیونٹی ہے جو واقعی مشفق ہیں۔ یہ حضرات ریٹائرمنٹ کے بعد دور بیٹھ کر ادارے کے لیے دل سے سوچتے ہیں، مشورہ دیتے ہیں، اورادارے کے لیے دعا کرتے ہیں جن میں محبت شامل کرتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ان کی بات سننے والا کم اور دباؤ ڈالنے والا زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادارے کی اصلاح میں صداقت کی صدا بلند نہیں ہو پاتی۔
یاد رہے ادارہ صرف سیاسی دباؤ اور کاروباری یونین کے ساتھ نہیں چلتا، بلکہ اس کے دل میں مزدور کی عزت، افسر کی دیانت اور ریٹائرڈ کی تجربہ کاری کا خون دوڑنا چاہیے۔ بندن میاں کہتا ہے کہ اگر یہ تینوں عناصر ساتھ ہوں تو ٹرین وقت پر چلے گی، ہر اسٹیشن پر نظام قائم ہوگا، اور ریلوے پھر عوام کے دل میں رچ بس جائے گا۔
بندن میاں نے ایک اور پہلو بھی بیان کیا کہ ہمارے ہاں اصلاح کی کمیٹی اکثر محض شکل کے لیے بنتی ہے۔ جب بھی کوئی رپورٹ تیار کی جاتی ہے، اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ کردار بچ جائیں، فائل بند ہو جائے، اور سچ دبا دیا جائے۔ ایسے میں اصلاح کی نعرے دار زبان نہیں، حقیقی عمل اور کردار کی مضبوطی ضروری ہے۔
پھر بندن میاں تاریخ کے اوراق کھولتا ہے اور بتاتا ہے کہ ہر دور میں ادارے کی بقا کے لیے کتنے قربانی دہندہ افسران اور مزدور گزرے۔ ان میں کچھ افسر ایسے بھی تھے جو خطرات کے باوجود اسٹیشن پر ڈٹے رہے، کچھ مزدور ایسے جو رات دن محنت کرتے، اور کچھ یونین لیڈر ایسے جو سودے بازی کے بجائے امانت کے اصول پر کھڑے رہے۔ مگر سب کے باوجود، ادارہ اکثر اندرونی کمزوریوں اور ضمیر فروشی کی وجہ سے پٹڑی سے اترا۔
آخر میں بندن میاں بس یہی کہتا ہے کہ پاکستان ریلوے کا اصل مسئلہ انجن، پٹڑی یا بجٹ نہیں؛ مسئلہ ضمیر ہے۔ جب ضمیر جاگے گا تو ٹرین خود بخود وقت پر چلے گی، مزدور کو حق ملے گا، افسر کو عزت، اور ادارہ پھر ریاست کی شان بن جائے گا۔ اگر ضمیر سویا رہا تو نہ افسر بچے گا، نہ لیڈر، نہ مزدور؛ بس تاریخ بچے گی، جو سب کے نام لکھ کر آگے بڑھ جائے گی۔
