جون 15, 2026

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا 21 دسمبر سے موجودہ نظام کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

لاہور میں کارکنوں کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 21 دسمبر سے موجودہ نظام کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں رائج گلے سڑے اور ناانصافی پر مبنی نظام کے خلاف پورے پاکستان میں منظم جدوجہد کی جائے گی اور عوام کو اس تحریک میں شریک ہونا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلدیاتی نظام کا مؤثر نفاذ ناگزیر ہے جبکہ خاندانی سیاست نے اس نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جسے تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چاہے شہر ہو یا دیہات، ہر ووٹر کو اس کے ووٹ کا پورا حق ملنا چاہیے اور جسے عوام ووٹ دیں، اسی کو پارلیمان تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق حکمرانوں نے عوامی مینڈیٹ کا غلط استعمال کیا اور سوال اٹھایا کہ بھاری اکثریت سے حاصل کیے گئے ووٹوں کا احتساب کون کرے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانا قابلِ فہم ہے، مگر مایوسی کے باعث وطن چھوڑنا انتہائی افسوسناک اور تشویشناک امر ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو موقع ملا تو نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے اور کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چند طاقتور طبقوں نے دولت اور اختیار کے زور پر دنیا پر قبضہ جما رکھا ہے اور جماعت اسلامی اسی ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے، کیونکہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو ہر فرد کو اس کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ آئینی ترامیم کے بعد عدالتیں مزید کمزور ہو چکی ہیں اور غریب آدمی کے لیے انصاف کا حصول مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں پر معمولی معاملات میں بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، مگر جمہوریت کی کھلی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب نہیں ہو رہا۔

آخر میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی پوری دنیا کو واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ مکمل طور پر متحرک ہے اور پاکستان کے موجودہ نظام میں حقیقی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے