جون 15, 2026

چور اور چوراہا

تحریر:ایم سرور صدیقی

گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں انوکھا واقعہ رونماہوا جس نے کئی نام نہاد پارساؤں کا بھرم چوراہے میں کھول کررکھ دیاسپیکر کو تقریبا 50 ہزار روپے رقم گری ہوئی ملی جن میں 5 ہزار کے 10 نوٹ تھے جب اسپیکر ایاز صادق نے اسمبلی فلور پر اعلان کرتے ہوے کہا کہ مجھے پیسے ملے ہیں کس کے ہیں تو تو تقریبا 12 ایم این ایز نے ہاتھ کھڑا کرکے اپنا دعویٰ کردیا کہ یہ میرے ہیں حالانکہ جب سی سی ٹی وی فو ٹیج پر دیکھا گیا تو وہ پیسے اقبال آفریدی ایم این کے نکلے جس سے آپ اندازہ لگالیں صرف 50 ہزار کے لئے ان ایم این ایز نے جھوٹ بولا جبکہ ان میں کوئی غریب نہیں تھا سب ارب پتی کھرب پتی سے بھی اوپر کلاس کے ہوں گے جس سے آپ خود حساب لگا لیں جب ان کو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اربوں روپے کا فنڈ ملتا ہوگا تو وہ کیسے ہڑپ کرتے ہونگے اور ان کو اسمبلی حال بھیجنے والے کوئی اور نہیں ہم عوام ہی ہیں دل تو یہ کر رہا ان سب کاضبوں پر آرٹیکل 6 لگاکرنااہل قرار دے دیا جائے ویسے یار ان میں اور چوروں ڈاکوؤں میں کیا فرق ہے؟ بیوقوف عوام سال ہا سال سے ان کو مسیحا سمجھ کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں اور یہ عیاشی کرتے ہیں کرپشن کی بدولت یہ امیر سے امیر ترین جبکہ عوام غریب سے غریب تر ہوتی جا رہی ہیں جو سیاست دان 50 ہزار کے لئے اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں وہ کروڑوں اربوں لے کر کیا کرتے ہوں گے تھوڑا نہیں پوراسوچئے۔ ویسے برق رفتار سے ذہن میں خیال کوندا کہ سوچنا لاحاصل ہے جب شکست خوردہ عناصرکو فارم47کے صدقے کامیاب ڈکلیئر کردیا جاتاہے تو عوام ووٹ دیں نہ دیں ان کی صحت پر کیا فرق پڑتاہے الیکشن کمیشن تو بس عام انتخابات کروانے کا تکلف ہی کرتاہے کامیاب قراردینے والوں پر پہلے ہی دائرے لگا کر انہیں پسندیدہ سمجھ لیا جاتاہے بس یہی الیکشن ہے پھر جیتنے والے چوراہوں پر خوب ہوؤ ہو مچاکر ان کے چمچے کڑچھے آڑھے ترچھے ہوکر دینگا مستیاں کرتے ہیں ہم نے ہمیشہ عام انتخابات کو اسی طرح دیکھاہے کمال ہے ان حالات میں بھی وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اطمینان ہے کہ پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے۔حالانکہ ملک کا ہرا دارہ،ہر محکمہ گوڈے گوڈے کرپشن میں غرق ہوچکاہےIMFنے انکشاف کیاہے کہ موجودہ حکومت کے دوران پاکستان میں 5300ارب کی کرپشن کی جاچکی ہے نہ جائے یہ نامعلوم افرادکون ہیں؟ عام آدمی یہ جاننا چاہتاہے یہ ان کا حق ہے جبکہ ملک بھر میں پولیس، ٹینڈر و پروکیورمنٹ اور عدلیہ کو سب سے زیادہ کرپٹ شعبوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ کرپٹ ہیں اس کابھی انکشاف ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (TIP) کی جانب سے جاری کردہ نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے (این سی پی ایس) 2025ء کے مطابق 77 فیصد شرکاء کرپشن روکنے کی سرکاری کوششوں سے مطمئن نہیں۔ صوبائی سطح پر عدم اطمینان بلوچستان میں 80 فیصد، پنجاب میں 78 فیصد اور سندھ و خیبر پختونخوا میں 75? فیصد رہا۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ملک بھر کے 66? فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی صورتحال پیش نہیں آئی جس میں انہیں رشوت دینا پڑی ہو۔ معاشی لحاظ سے، 57 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ اْن کی قوتِ خرید گزشتہ 12 ماہ کے دوران کم ہوئی ہے جبکہ 43 فیصد کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، 58 فیصد (40 فیصد جزوی، 18 فیصد کْلی) شہریوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ حکومت نے IMF پروگرام اور ایف اے ٹی ایف سے انخلاء کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا۔ سیاسی فنڈنگ میں اصلاحات کیلئے عوامی رائے بہت مضبوط ہے کیونکہ 42 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو کاروباری اداروں کی جانب سے فنڈنگ مکمل طور پر ممنوع ہو، جبکہ 41 فیصد چاہتے ہیں کہ اسے منظم کیا جائے، جس سے ملک بھر میں مجموعی طور پر 83 فیصد کی طلب بنتی ہے۔ سرکاری اشتہارات کے حوالے سے بن چکے معمول کے برعکس، 55 شہری چاہتے ہیں کہ سرکاری اسشتہارات میں سیاسی جماعتوں کے ناموں اور پارٹی قیادت کی تصاویر کا استعمال ممنوع ہونا چاہئے۔ 22 سے 29 ستمبر 2025ء کے دوران کئے گئے اس سروے میں بتایا گیا کہ عوام صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ کرپٹ سمجھتے ہیں۔ 59 فیصد افراد نے صوبائی حکومتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جو پنجاب کے معاملے میں سب سے زیادہ یعنی 70 فیصد تھا۔ احتساب کے اداروں پر ایک سخت عدم اعتماد بھی سامنے آیا، جہاں 78 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ نیب اور FIA جیسے اینٹی کرپشن اداروں کا خود احتساب ہو۔ قومی سطح پر 24 فیصد نے پولیس کو سب سے زیادہ کرپٹ شعبہ قرار دیا، اس کے بعد ٹینڈر و پروکیورمنٹ 16 فیصد اور عدلیہ 14 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ اب ملاحظہ فرمائیں آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن "مسلسل اور تباہ کن” صورت حال اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث ملکی معیشت ہر سال 5 سے 6.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر نقصان برداشت کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دو سال میں نیب کی جانب سے برآمد کی گئی 5.3 کھرب روپے کی رقم محض کرپشن کی اصل لاگت کا ایک حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 1958 سے اب تک 24 مرتبہ آئی ایم ایف سے قرض لیا ہے، جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں 25واں پروگرام جاری ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پالیسی سازی پر بااثر طبقات کے قبضے نے عوامی مفاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی ایک مثال 2019 میں شوگر ایکسپورٹ اسکینڈل ہے، جہاں سیاسی و معاشی اشرافیہ نے پالیسیوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ عدلیہ، ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات، خریداری کے عمل اور سرکاری اداروں کا انتظام کرپشن کے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ عوامی سروے بتاتے ہیں کہ عدلیہ، پولیس اور پبلک پروکیورمنٹ کو سب سے زیادہ کرپٹ ادارے سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شفافیت، احتساب اور عدالتی اصلاحات کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ پاکستانی رہنما جنہوں نے IMF پروگرامز پر دستخط کئے فوجی حکمرانوں میں 1. جنرل ایوب خان — 1960 کی دہائی میں ابتدائی آئی ایم ایف معاہدے،2. جنرل ضیاء الحق — 1980 کی دہائی میں متعدد پروگرام،3. جنرل پرویز مشرف — 2000–2001 کا بڑا پروگرام، پھر 2008 میں نیا معاہدہ کیا گیا سول وزرائے اعظم میں 1. ذوالفقار علی بھٹو — 1970 کی دہائی میں IMF پروگرام،2. محمد خان جونیجو — 1980s میں معاہدے،3. بینظیر بھٹو (1988-90، 1993-96) — دونوں ادوار میں پروگرام،4. نواز شریف (1990-93، 1997-99، 2013-17) — 1997 اور 2013 کا بڑا 6.6 بلین ڈالر EFF،5. شوکت عزیز (2004-07) — مشرف دور میں IMFپروگرام جاری رہا۔،6. یوسف رضا گیلانی / آصف علی زرداری حکومت (2008-13) — 2008 SBAشامل ہیں۔ 8. شہباز شریف (2022-موجودہ) — 2023 کا 3 بلین SBA، اور 2024 کا 7 بلین EFF (موجودہ پروگرام) اب یہ سراغ لگانا حکومتوں کاکام ہے کہ وہ بتائیں IMF سے لیا گیا اربوں کھربوں میں سے کتناقرض عوام کی فلاح وبہبودپر خرچ ہوا کتنا کرپشن کی نذر ہو چکاہے جبکہ ہمارے وزیر ِ اعظم کا کہنا ہے کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، مہنگائی بے قابو تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، ہماری حکومت نے اْمید کا دامن نہیں چھوڑا اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا۔اب آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی ہے، معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے ویسے یہ رونا تو ہر حکمران اقتدارمیں آنے کے بعد روتارہتاہے اب سوال یہ ہے کہ کھربوں کا قرض لینے کے باوجود عوام کی حالت اور ملک کے حالات بہتر کیوں نہیں ہورہے؟ چور چوراہے پر بیٹھ کر بانگ ِ دہل اپنی ایفی شنسیاں دکھا کر رعب ڈالتے رہتے ہیں حکمرانوں سے عوام پوچھتے ہیں کرپشن کب ختم ہوگی؟،عوام کی حالت اور ملک کے حالات کب بہتر ہوں گے اورپاکستان کو قرضوں سے نجات کب ملے گی؟ ہے کوئی اس کا جواب؟؟۔