گجرات (پ ر) پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین ملک شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ پی این پی پاکستان کے چاروں صوبوں میں فعال جماعت ہے گلگت کے 24حلقوں میں ہم امیدوار کھڑا کررہے ہیں اسی طرح گجرات میں بلدیاتی انتخابات میں 129یونین کونسلز میں نوجوان وکلاء، ٹیچرز، یوتھ لیڈرز کو ٹکٹ دینگے صرف اس لیے کہ ملک کو اچھی اور نوجوان قیادت ہر سطح پر میسر آسکے غیر جماعتی انتخابات کا شور مچانے والوں کو حقیقت کا علم ہے کہ نتائج کیاہونگے لیکن یاد رکھیں ایسے جمہوریت نہیں رہتی بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہی ہونے چاہیں تاکہ ملک کی صورتحال بہتر ہو سکی پیپلزپارٹی اور ن لیگ جس طرح الیکشن جیتے اس صورتحال پر افسوس ہوتا ہے
گجرات میں بلدیاتی انتخابات میں 129یونین کونسلز میں نوجوان وکلاء، ٹیچرز، یوتھ لیڈرز کو ٹکٹ دینگے: چیئرمین پاکستان نظریاتی پارٹی
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گجرات پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پرامیدوار پی پی 31رانا نوید شہزاد اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے پی این پی کے چیئرمین ملک شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ چنگ چی پر پابندی لگاکر حکومت یہ بتائے کہ وہ بے روزگاروں کومتبادل روزگار کیا دینگے مڈل کلاس، عا م کلاس سے تعلق رکھنے والا گاڑی کہاں سے افورڈ کریگا بچوں پر آئے روز مقدمات درج کر کے انکے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے 65 ارب روپے شعبہ تعلیم کا بجٹ ہے 27 ارب روپے ہیلتھ کا بجٹ ہے اور خیرات بانٹنے کا بجٹ 714ارب ہے یہی وجہ ہے کہ بنگالی ہم سے آگے چلے گئے ہیں اور ہماری پہچان ایک مانگت سی ہو گئی ہے بنگالیوں نے کوئی ریلیف سپورٹ اور خیرات بانٹنے کا پروگرام نہیں بنایا بلکہ انہوں نے چائنہ کے ماڈرن پرکاٹیج انڈاسٹری کا ماڈل متعارف کروایا ان کی خواتین ریاست کو پال رہی ہیں ریاست کی معیشت کا پہیہ وہ چلا رہی ہمیں موقع دیا گیا تو انشاء اللہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کر کے فاطمہ جنا ح انکم سپورٹ پروگرام لائیں گے اور خیرات نہیں دینگے بلکہ کاٹیج انڈسٹری لگا کر دینگے جس سے نو ملین خاندانوں کو ہر سال مستفید ہونگے
ہمیں موقع دیا گیا تو انشاء اللہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کر کے فاطمہ جنا ح انکم سپورٹ پروگرام لائیں گے: ملک شہیر حیدر سیالوی
اس طریقے سے اپ پانچ سالہ منصوبے کے تحت ساڑھے چار کروڑ لوگوں کوسنوار سکتے ہیں مگراس پروگرام کو اس لیے لانچ نہیں کیا جارہا ہے کہ اس پر شہید محترمہ کی تصویر نہیں لگی ہوگی اس لیے یہ ماڈل ان لوگوں کو پسند نہیں آتا ہمارے ٹیکس کے پیسے پر آٹے کے تھیلو ں پرنواز شریف کی تصویر یں لگا کر غریب عوام کو دیا جاتا ہے اور ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں آٹے کے حصول کیلئے قطاروں میں لگ کر دھکے کھارہی ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ 8 ارب روپے روزانہ پاکستان سے سندھ کارڈ کی مد میں باہر جارہا ہے ایک ہی انٹر نیٹ پروگرام ہوتو ملک خود کفیل ہوسکتا ہے آئی ایم ایف نے ایک مرتبہ 18فیصد ٹیکس لگا کربم پھر گرادیا ہے جس سے مہنگائی بڑھ رہی ہے ا یران سے ہم سستا تیل لینے کو تیار نہیں کیونکہ امریکہ کو مصنوعی باپ جو بنا رکھا ہے آئی ایم ایف سے بھی بھیک مانگ رہے ہیں ورلڈ بینک سے بھی بھیک مانگ رہے ہیں اوریواین او میں جا کے کہہ رہے ہیں کجہ تم فلسطین کا مسئلہ حل کرو انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر کو سیلوٹ مارکر کہتے ہیں ہمیں آپ سے امیدیں ہیں حالانکہ پاکستانی خارجہ پالیسی کو اتنا خود مختار ہونا چاہیے کہ اپنے فیصلے ہم خود کریں پاکستان کے مستقبل کے فیصلے اس کے اپنے پارلیمان میں ہونے چاہیں واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کی عزت کے سودے نہیں ہونے چاہیں موجود ہ حالات میں ہم نے بیشتر بیرونی ممالک میں ناتجربہ کار وہ سفیر لگائے ہیں جو 22 گریڈکا افیسر ریٹائر ہوتا ہے اسے سفیر بنا کر بھیج دیتے ہیں

ہزاروں پاکستان بیرون ملک جیلوں میں بند ہیں لیکن انکی داد رسی نہ ہونے کے برابر ہے بے روزگار پاکستانی بھیک مانگ رہے ہیں جنہیں دنیا بھکاری کہہ رہی ہے لیکن سکل لیبر تک میں لگاکر انکے روزگار فراہم کرنے پر کسی کی توجہ نہیں ہے ہمسائے ملک بھارت میں وزیراعظم کیساتھ امبانی جیسے بزنس مین نہیں ہوتے بلکہ 12/14ٹیکنو کریٹس کی ٹیم ہوتی ہے انڈیا کی 125کروڑ لوگوں کی اکانومی کو اوورسیز چلا رہے ہیں چائنہ کو اسکی عوام چلا رہی ہے مگر یہاں جمع پونجی بیچ کر اپنے مستقبل کیلئے باہر جانیوالے نوجوانوں کو ا یئر پورٹ پر ڈی پورٹ کر کے واپس بھیج دیا جاتا ہے حکمران بتائیں کہ اس دوران آپ نے کتنا انٹرنیشنل ٹورسٹ پاکستان لاکر اس کے زرمبادلہ میں اضافہ کیا حکومت کی حالیہ پالیسیوں سے پاکستان کی معیشت کو کسی صورت بہتر نہیں بنایا جاسکتا ایسے میں ہم ساری زندگی اوروں کے غلام ہی رہیں گے وہ ہماری فارن پالیسی بنا کے ہمیں بھیجتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ تینوں بڑی پولیٹیکل پارٹیز کے حالات طور طریقے سب کو معلوم ہیں تمام ایم پی ایز، ایم این ایز، سینٹر، افیسران کے بچوں کیلئے ایک ہی تعلیمی نظام لایاجائے سرکاری آفیسرز پر لازم کیاجائے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے دو سال تک ملک چھوڑ کے نہیں جا سکتے جب تک ان کے عزیز و اقارب بیوی بچوں اور فرنٹ مینوں کے کھاتے، اکاؤنٹ چیک نہیں جاتے دو لاکھ تنخواہ لینے والے 20/22گریڈ کے آفیسر کے پاس اربوں روپے کہا ں سے آجاتے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کی خود مختاری اور اس کی مستحکم معیشت ہے جسکا پورا ماڈل پاکستان نظریاتی پارٹی کے پاس ہے ہم عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں موقع دیاجائے نہ ہمار بیوی بچے باہر ہیں نہ ہماری جائیدادیں باہر ہیں نہ ہمارے بینک اکاؤنٹس باہر ہیں۔