جون 15, 2026

متحدہ عرب امارات میں جنسی جرائم اور جسم فروشی کی سزاؤں میں تبدیلیاں

متحدہ عرب امارات نے جنسی جرائم اور جسم فروشی کے حوالے سے قوانین میں اہم اصلاحات متعارف کرائیں ہیں۔ یہ تبدیلیاں بچوں کی حفاظت اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔

نئے قوانین کے مطابق، اگر کوئی بالغ شخص 18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو اسے کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم (تقریباً 76 لاکھ پاکستانی روپے) جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ یہ سزا متاثرہ شخص کی رضامندی کے باوجود بھی لاگو ہوگی۔ 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے نوجوانوں کے معاملے میں رضامندی کو مدنظر رکھا جائے گا، تاکہ ان کی کچھ حد تک آزادی برقرار رہے، تاہم 18 سال سے کم عمر بچوں کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی۔

قانون کے تحت جسم فروشی یا بدکاری کی طرف کسی کو مائل کرنے والوں کے لیے بھی سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اس جرم میں ملوث شخص کو کم از کم 2 سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی، اور اگر متاثرہ شخص 18 سال سے کم عمر ہو تو سزا میں اضافہ کیا جائے گا۔ یہ اصلاحات بچوں کو جنسی استحصال اور بدکاری سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی ہیں۔

حکام کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ مجرم کی سزا مکمل ہونے کے بعد اضافی احتیاطی تدابیر نافذ کی جائیں تاکہ عوامی تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور مجرم دوبارہ ایسے جرائم نہ کر سکے۔

متحدہ عرب امارات کے نئے قوانین نہ صرف قانونی سطح پر اصلاحات ہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی۔