تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں آج حسبِ روایت اپنے پرانے جھولے والے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے، چائے کی پیالی سامنے رکھی تھی، اور موبائل ہاتھ میں۔ ملک کی سیاسی گرمی، عدلیہ کی کھڑکھڑاہٹ، اور عوام کی بے بسی سب کچھ ایک اسکرین میں سمایا ہوا تھا۔ اچانک ایک بڑی خبر نے بندن میاں کے اندر وہی ہلچل مچا دی جو کبھی 70 کی دہائی میں ریلوے کی کسی بوگی میں اچانک بریک لگنے سے مسافر کے اندر مچ جایا کرتی تھی۔ خبر یہ تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال قیدِ بامسقَط کی سزا سنا دی ہے۔ بندن میاں نے آہستہ سے چائے رکھی اور سوچ میں ڈوب گئے کہ یہ پاکستان ہے یا وہ منڈی جہاں کل تک بکنے والا آج پکڑا جاتا ہے اور پکڑنے والا کل بکنے کو تیار کھڑا ہوتا ہے۔
ملک میں پہلے بھی بڑے بڑے فیصلے ہوئے، لیکن ایسا فیصلہ جس میں طاقت کے سب سے بڑے درخت پر بیٹھا ہوا پرندہ بھی پکڑا جائے، یہ پاکستان میں کم ہی ہوا ہے۔ لیکن بندن میاں نے دل میں سوچا واہ رے پاکستان، آج تو نے اپنا ایک نیا باب بھی لکھ دیا۔ مگر پھر ساتھ ہی وہ اپنی مونچھوں کو سہلاتے ہوئے بولے، اصل باب تو تب لکھا جائے گا جب انصاف سب کے لیے برابر ہو، جب مچھلیوں پر نہیں مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔
انہوں نے اخبار ایک طرف رکھا اور پرانی باتیں یاد کرنے لگے۔ کہتے تھے کبھی ملک میں ایسا ہوتا تھا کہ طاقتور چاہے کتنی ہی غلطی کرے، اسے ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ جیسے ریلوے کا پرانا انجن جو دھواں تو بہت چھوڑتا تھا لیکن ورکشاپ میں کبھی کھلتا نہ تھا، سب ڈرتے تھے کہ کہیں اس کے کل پرزے بکھر نہ جائیں۔ لیکن آج ایک ایسا وقت آ گیا کہ یہاں بڑے انجن بھی کھولے جا رہے ہیں، وہ بھی باضابطہ مقدمات اور طویل سزاؤں کے ساتھ۔ بندن میاں کی آنکھوں میں حیرت کم اور درد زیادہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ملک کے سسٹم کی ٹرین صحیح پٹری پر آنا چاہے تو آ سکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ پٹری ٹیڑھی نہ ہو، سگنل سچا ہو، اور ڈرائیور غیرجانبدار ہو۔
بندن میاں نے گہری سانس لی۔ اور پھر وہی سوال ذہن میں آیا جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں بار بار دستک دے رہا ہے آخر پاکستان کب اس نہج پر پہنچا کہ ایک سابق طاقتور عہدیدار کو اس سخت سزا تک لانا پڑا؟ جواب سیدھا تھا بداعتمادی، طاقت کے غلط استعمال، اور اداروں کی اندرونی کمزوریاں اس ملک کو یہاں تک لے آئی ہیں۔
آج فیلڈمارشل سید عاصم منیر جو ملک کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (سی او اے ایس) ہیں، انہیں کئی حلقے اصلاحات کے معمار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بندن میاں نے نصف مسکراہٹ کے ساتھ کہا، واہ بھئی اگر واقعی اندرونی صفائی شروع ہو گئی ہے تو بسم اللہ، مگر یاد رکھو، جھاڑو ایک دن کے لیے نہیں چلنی چاہیے، اسے مسلسل چلانا پڑتا ہے ورنہ گرد پھر بیٹھ جاتی ہے، اور گرد جب بیٹھتی ہے تو سچ سب سے پہلے چھپ جاتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال بندن میاں کے نزدیک ایسے ہے جیسے بوگی ایک طرف خستہ حال ہو اور دوسری طرف بریک جام مسافر شور بھی مچا رہے ہوں مگر دروازے کھلتے نہ ہوں۔
آج ایک جانب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی شلواریں نوچنے میں مصروف ہیں، عدالتیں فائلوں کے پہاڑ میں دبی بیٹھی ہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اور ادارے اپنی ساکھ بچانے میں ہلکان ہو رہے ہیں۔ لیکن اسی منظرنامے میں ایک سابق طاقتور شخص کو سخت سزا ملتی ہے تو بندن میاں امید کی ایک کرن دیکھتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ شاید یہ وہ لمحہ ہے جب قوم کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس نے غلط کیا ہے وہ بچ نہیں سکے گا۔ مگر بندن میاں ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں اعلان اور انجام کے درمیان ہمیشہ ایک لمبا فاصلہ ہوتا ہے، جسے عبور کرنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔
بندن میاں کے دماغ میں اچانک ایک سوال ابھراکہ پاکستان میں انصاف کیا واقعی سب کے لیے برابر ہو چکا ہے؟ یا یہ چند مثالوں پر مبنی ایک نئی کہانی ہے؟ ان کے ذہن میں بارہا یہ سوال اٹھتا رہا کہ اگر واقعی قانون کی بالادستی قائم ہونی ہے تو پھر یہ سلسلہ ایک فرد سے نہیں بلکہ سب سے شروع ہونا چاہیے۔ قانون کی کتاب صرف غریب کے گھر کی دہلیز کا راستہ نہ جانے بلکہ ہر ایک طاقتور کے دروازے پر بھی دستک دے۔
بندن میاں نے چائے کا ایک اور گھونٹ لیا اور یاد کیا کہ جن معاشروں میں انصاف سب کے لیے یکساں ہو جاتا ہے وہاں انقلاب نہیں آتا ترقی آتی ہے۔ اور ترقی وہ نعمت ہے جو اس قوم سے ایسے روٹھ چکی ہے جیسے برسوں سے میکے نہ گئی ہوئی دلہن روٹھ جاتی ہے۔
پاکستان اس وقت ایک نازک توازن میں کھڑا ہے۔ عوام ایک طرف چیخ رہے ہیں کہ انہیں روٹی نہیں مل رہی، سیاسی قیادت اقتدار کے لیے لڑ رہی ہے، اور عدالتیں نئی نئی مثالیں قائم کرنے میں مصروف ہیں۔ بندن میاں نے یہی منظر دیکھ کر کہا، یہ قوم نہ جانے کیوں سمجھتی ہے کہ گناہوں کا حساب صرف قیامت والے دن ہو گا، حالانکہ پاکستان جیسے ملکوں میں کبھی کبھی حساب دنیا میں بھی ہو جاتا ہے، وہ بھی 14 سال کا،انہوں نے فیض حمید کے کیس کو عام پاکستانی کی نظر سے دیکھا۔ ایک طرف لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ ایک نئے دور کی شروعات ہے، دوسری طرف طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کچھ لوگ پوچھ رہے تھے،اور کون کون فہرست میں شامل ہے؟ کیا احتساب واقعی سب کے لیے ہے یا یہ بھی کسی زمانے کی طرح مخصوص کہانیوں کا حصہ ہے؟
بندن میاں نے لکھا کہ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واقعی احتساب کا پہیہ گھومایا ہے تو اسے روکنا نہیں چاہیے۔ طاقت کے غلط استعمال کو ملک کی جڑیں چاٹنے نہیں دینی چاہئیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ احتساب اگر بنیادوں پر کھڑا ہو تو ملک بچے گا، اگر صرف چہروں پر ہو تو کہانی دوبارہ دہرائی جائے گی۔
بندن میاں کی سوچ میں پاکستان آج ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ موڑ فیصلہ کرے گا کہ آنے والی نسلیں ہمیں کیا نام دیں گی بہادر اصلاح کرنے والے یا خوف زدہ تماشائی۔ قومیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ اپنے اندر کے بڑے ڈاکوؤں سے نمٹتی ہیں، نہ کہ صرف گلی کے چھوٹے چوروں سے۔
ملک میں طاقت کی رسہ کشی، سیاسی تقسیم، معاشی خستہ حالی اور ادارہ جاتی جنگ سب کچھ ایسی چادر بن چکا ہے جس کا ہر دھاگا کھینچا جائے تو کہانی بکھرنے لگتی ہے۔ لیکن بندن میاں کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم اس چادر کو دوبارہ بُننے کی ہمت رکھتے ہیں؟ یا صرف تماشائی بن کر تاریخی فیصلوں کو تالیاں بجا کر بھول جائیں گے؟
بندن میاں نے قلم رکھتے ہوئے آخری بات لکھی پاکستان کی بقا، ترقی اور عزت اُس دن ممکن ہوگی جب اس ملک میں قانون سب کے لیے ایک جیسا ہو جائے۔ طاقتور کمزور کے برابر کھڑا ہو جائے، اور احتساب شفاف ہو کر ہر دروازے تک پہنچے۔ یہ لمحہ شاید ابھی شروعات ہے مگر اصل سفر اب شروع ہوا ہے۔
