سال 2025، ڈنگہ کی تجارت کے لیے بدترین ثابت ، تجاوزات آپریشن نے سیکڑوں دکانیں ملبے کا ڈھیر بنا دیں

ڈنگہ (وقائع نگار خصوصی) سال 2025ء ڈنگہ کے تاجروں اور پراپرٹی مالکان کے لئے اکیسویں صدی کا یہ بدترین سال ثابت ہوا۔ سال 2025ء کے آغاز سے ہی ڈنگہ کے بڑے اور آباد بازاروں تھانہ روڈ‘ کولیاں روڈ اور سال کے آخری ماہ نومبر میں کمپلیکس روڈ پر تجاوز آپریشن کے نام پر انتظامیہ نے قیامت ڈھا دی۔ 501 کے قریب دکانوں میں سے کچھ مکمل کچھ جزوی طور پر گرا دی گئیں۔ درجن بھر پلازے اور 10 سے زائد کاروباری مارکیٹیں مسمار کر دی گئیں۔ وہ بازار جن میں یومیہ کروروں روپے کی خریدوفروخت ہوتی تھی وہ اچانک ایک کھنڈر بستی میں بدل گیا۔ یہ تباہی دسمبر کے آخری ماہ تک جاری ہے۔ دکانیں خریداروں کے داخلی راستوں سے محروم ہیں۔ برسوں پرانے خریدار آ کر دکان کو بازاروں کی باقیات سے تلاش تک نہیں کر سکتے۔ ماہ نومبر میں ان دکانداروں اور دکان مالکان پر نقشوں کی تباہی اتر آئی ہے۔ پہلے دکانیں گرائی گئیں پھر ان کو دوبارہ بنانے یا رینوویشن کرنے پر بھی لاکھوں روپے کی نقشہ فیسیں لاد دی گئی ہیں۔ عین اس وقت جب عید گاہ چوک سے کولیاں چوک اور نشان حیدر چوک تک 600 کے قریب دکانیں اور پلازے گرا دیئے گئے تو پھر ”ستھرا پنجاب اتھارٹی“ نے صفائی کے نام پر گلی محلوں کی چھوٹی دکانوں سے لے کر غزہ جیسے تھانہ روڈ‘ کولیاں روڈ اور کمپلیکس روڈ کے دکانداروں پر بھاری ٹیکس نافذ کر دیا ہے اور ان کو ادائیگی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ معاشی طور پر 60 فیصد تباہ ہو جانے والی ڈنگہ کی معاشی مارکیٹ اب چھوٹے سے قصبے میں بدل گئی ہے۔ جبکہ نئے سال 2026ء میں بھی کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ مین بازار ریڑھی مافیا اور رکشہ مافیا کے قبضے میں ہے تو پھر خریدار کیوں نہ ڈنگہ کی مارکیٹیں چھوڑ کر منگوال‘ کنجاہ‘ منڈی بہاؤالدین‘ لالہ موسیٰ اور کھاریاں چلے جائیں گے۔

Exit mobile version