بندن میاں کا بیانِ بیگانگی زکریا ایکسپریس، رنگ وروغن اور نظام کی ریل گاڑی

بندن میاں آج حسبِ معمول فیس بک کے جنگل میں مٹرگشت کر رہا تھا کہ ایک ہولناک سی خبر تیر کی طرح دل چیرتی ہوئی سامنے آ گری۔ خبر کچھ یوں تھی کہ رحیم یار خان میں زکریا ایکسپریس دو حصوں میں بٹ گئی، انجن کا کنکشن کوچز سے جدا ہو گیا۔ بندن میاں نے موبائل کی اسکرین کو دوبارہ آن کیا، آنکھوں کو مل کر پڑھا، دل کو سمجھایا کہ شاید یہ کسی لطیفہ باز کی شرارت ہے، مگر افسوس کہ یہ حقیقت تھی۔ بندن میاں کا دل دکھی ہوا، مگر ساتھ ہی اسے ایک عجیب سا اطمینان بھی ہوا اس لیے نہیں کہ ٹرین بچ گئی یا کوئی بڑا حادثہ ٹل گیا، نہیں صاحب بلکہ اس لیے کہ ہمارے افسران بالا کی مصروفیات کو یہ خبر ذرّہ برابر بھی متاثر نہ کر سکی۔ وہ اب بھی حسبِ سابق بڑے طمطراق سے اسٹیشنوں کا میک اپ کر وا رہے ہیں، دیواروں پر نیا پینٹ چڑھ رہا ہے، بورڈوں پر نئی لائٹس لگ رہی ہیں، اور فوٹو سیشن کے لیے کیمرے نت نئے زاویے تلاش کر رہے ہیں۔ بندن میاں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اللہ کا بڑا کرم ہے جو ہمارے بڑوں کی توجہ کسی حادثے کی طرف نہیں جاتی، ورنہ خدا نہ کرے اصل ترقیاتی کام یعنی رنگ و روغن میں خلل پڑ جاتا۔
بندن میاں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عقل کو جمع کیا اور سوچا کہ اے بندن میاں تجھ میں ہمت کیونکر آئی کہ ایسی پوسٹ پر غور بھی کیا؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ آج کل ریلوے میں کون سا کام ترجیح ہے؟ ترجیح وہی ہے جو اسٹیشن کی دیواروں پر چمک دمک بناتی ہے، وہ نہیں جو ٹرین کے نٹ بولٹ کو مضبوط بناتی ہے۔ آج کل ریلوے میں کام کی تعریف وہ نہیں جو حادثہ روکے بلکہ وہ ہے جو تصویر میں اچھا لگے۔ یوں بندن میاں نے طنز کا پہلا تیر اپنے دل سے نکال کر قلم کی نوک پر رکھا اور سوچا، "بندن میاں، حوصلہ کر تیرے طنز کی بھی شاید کبھی مرمت ہوجائےگی، اگرچہ ٹریک تو ابھی بھی قسمت کے سہارے چل رہا ہے۔
یہ عجب تماشہ ہے کہ ٹرین دو حصوں میں بٹ گئی، مگر میڈیا، وزارت اور افسران کے بیانیوں میں اتحادِ کامل برقرار رہا۔ بندن میاں سوچتا رہ گیا کہ اگر یہی واقعہ کسی مہذب ملک میں ہوتا تو پورا ریلوے سسٹم ہل جاتا، مگر یہاں تو صرف انجن ہلا ہے، باقی نظام تو ماشااللہ اینٹ کی طرح جم کر کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا کیونکہ اس کے کندھوں پر ذمہ داری نہیں، صرف رنگ روغن کا بوجھ ہے۔ افسران کو بھی گھبرانا نہیں چاہیئے۔ آخر کار ٹرین کا بٹ جانا ایسا کون سا انہونا فعل ہے؟ یہ تو پاکستان ریلوے کی محبت بھرے تحائف میں سے ایک ہے، جیسے کبھی دروازہ گر جاتا ہے، کبھی پنکھا آ جاتا ہے، کبھی پٹری غائب ہو جاتی ہے۔ یہاں تو اب ٹرین کا درمیان سے کھل جانا بھی نظام کی روایت بنتا جا رہا ہے۔
بندن میاں نے سکرین پر انگلی پھیری، اور سوچا کہ اگر کسی نے یہ خبر بڑے افسران کے واٹس ایپ گروپ میں شیر کر دی ہوگی تو کتنی بڑی گستاخی سمجھی گئی ہو گی۔ کیونکہ یہاں اصل مجرم وہ نہیں جو پچاس سال سے زنگ آلود ٹریک پر مسافروں کی زندگیوں کا بوجھ ڈالے پھرتا ہے، اصل مجرم وہ ہے جو اس زنگ آلود حقیقت کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر لگا دیتا ہے۔ بندن میاں نے خود سے کہا، بندن میاں، بے وقوف مت بن یہاں حادثے کی ذمہ داری ہمیشہ بتانے والے پر آتی ہے، سبب بننے والے پر نہیں۔
طنز سے دل ٹھنڈا ہوا تو بندن میاں نے دوسری جانب نظر دوڑائی ٹریک کی جانب۔ ریلوے ٹریک وہ بدنصیب پٹری جو نہ جانے کب سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مجھے مرمت کرو، مجھے مضبوط کرو، میرے جوڑ ڈھیلے پڑ چکے ہیں۔ بندن میاں جانتا تھا کہ ملک بھر کے سینکڑوں کلو میٹر ٹریک آج بھی لکڑی اور کنکریٹ کے سلیپرز کے رحم و کرم پر ہیں، جن کی عمر کب کی پوری ہو چکی ہے، مگر ان کی ریٹائرمنٹ لیٹر اب تک فائلوں میں گم ہے۔ بندن میاں نے ٹریک کے پیچ کھولنے کی وہ ویڈیوز بھی دیکھی ہیں جہاں مزدور انہیں پاؤں کی ٹھوکر سے سیدھا کرتے ہیں، مگر افسران کا کہنا ہے کہ سسٹم ٹھیک چل رہا ہے۔ بندن میاں سوچتا ہے کہ اگر یہ سسٹم ٹھیک چل رہا ہے تو پھر شاید دنیا کا کوئی بھی خراب نظام اس مجموعے کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔
بندن میاں کو وہ دن بھی یاد آئے جب سفر ٹرین کے ذریعے ہوتا تھا تو مسافر اطمینان سے سو بھی لیتے تھے، کھڑکی سے باہر دیکھتے تو سب کچھ چلتا ہوا دکھائی دیتا، مگر آج کل کھڑکی سے باہر کچھ اور نہیں چلتا صرف بندے کی سانس چل رہی ہوتی ہے، باقی سارے عناصر رک رک کر، چھٹ چھٹ کر، ہچکولے کھا کھا کر چلتے ہیں۔ آج ٹرین کے سفر میں نیند نہیں آتی، دل کی دھڑکن بھی اپنی رفتار بدلتی رہتی ہے کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ اسٹیشن پہلے پہنچے گا یا حادثے کی خبر۔
پھر بندن میاں کی نظر مسافر کوچز پر گئی۔ ارے بھائی وہ کوچز جن کا وجود اب بھی اسی دور کی نشانی ہے جس زمانے میں دنیا میں ڈائنو سار گھوم رہے تھے۔ ان کوچز کو اگر میوزیم میں رکھ دیا جائے تو شاید لوگ کہیں کہ بہت پرانی چیز ہے، ہاتھ نہ لگانا۔ ان کی دیواریں، ان کے دروازے، ان کے واش روم سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اب آرام چاہیے۔ بندن میاں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے کچھ کوچز کے درمیان کے جوائنٹ ایسے ہلتے ہیں جیسے دو دشمن زبردستی ایک ساتھ باندھے گئے ہوں۔ بندن میاں کو وہ وقت بھی یاد ہے جب لوگ ٹرین کے فرش پر بیٹھ کر بھی مطمئن سفر کرتے تھے، مگر اب لوگ سیٹ پر بیٹھ کر بھی ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں سیٹ خود ہی زمین بوس نہ ہو جائے۔
ٹرین کا اندرونی ماحول بھی کسی سزا خانہ سے کم نہیں۔ بندن میاں نے ایسے کوچز دیکھے ہیں جن میں ہوا نہیں چلتی، پسینوں کی بھاپ اندر ٹھہری رہتی ہے، پنکھا اگر چل رہا ہو تو آواز ایسی جیسے ریلوے منسٹر کی تقریر ہو لمبی، تھکی ہوئی اور بے ثمر۔ بندن میاں نے تو کئی بار سوچا کہ اگر ایک پرانا پنکھا، ایک خستہ سیٹ، اور ایک ٹوٹی کھڑکی کو آپس میں ملا دیا جائے تو شاید وہ بھی وزارت کے کسی افسر سے بہتر فیصلہ دے دیں کہ ریلوے کو کیا چاہیے۔ مگر ستم یہ ہے کہ یہاں مشینوں اور عوام کی آواز کی کوئی قیمت نہیں، قیمت ہے تو بس ایک چیز کی خوبصورتی کی۔ اسٹیشن خوبصورت ہو، دیواریں چمک رہی ہوں، فوٹو اچھی آئے باقی ٹرین بھاڑ میں جائے۔
اور ابھی یہ سب دردناک خیالات بندن میاں کے دل میں آ رہے تھے کہ اسے وہ مشہور جملہ یاد آیا کوئی بھی شور شرابہ نہ ہو، کوئی بھی ان کے کام میں مخل نہ ہو۔ واہ صاحب یہ جملہ خود ایک تاریخی ستم ظریفی ہے۔ ٹرین دو حصوں میں بٹ جائے، انجن الگ ہو جائے، مسافر چیخیں ماریں مگر خدا کا واسطہ ہے کسی افسر کے میک اپ والے کام میں خلل نہ ڈالیں۔ بندن میاں کو اندازہ ہوا کہ یہ سارا سسٹم اصل میں ایک نخرے والی دلہن ہے جسے صرف مہندی اور میک اپ سے دلچسپی ہے، گھر کے ڈھانچے سے نہیں۔ دیوارگر رہی ہو یا چھت ٹپک رہی ہو بس تصویر اچھی آئے، باقی سب خیر ہے۔
پھر بندن میاں نے حل کی طرف بھی سوچا، کیونکہ طنز کا مقصد صرف کاٹنا نہیں ہوتا، مرہم رکھنا بھی ہوتا ہے۔ بندن میاں کہتا ہے کہ مسئلہ اگر چاہیں تو حل ہو سکتا ہے، ٹریک بھی مضبوط ہو سکتا ہے، کوچز بھی نئے آ سکتے ہیں، انجن بھی قابلِ اعتماد ہو سکتے ہیں، مگر اس کے لیے ایک فیصلہ کرنا پڑے گا خوبصورتی کے شوق کو کچھ دیر کے لیے بھول کر ریلوے کے اصل درد کو سمجھنا ہوگا۔ اگر حکومت واقعی چاہے تو سب سے پہلے ٹریک کی حالت پر ایمرجنسی لگائے، ہر شورہ شدہ بولٹ کو تبدیل کرے، ہر ڈھیلے جوڑ کو ٹھیک کرے، ہر خستہ سلیپر کی جگہ مضبوط سٹیل سلیپر لگائے۔ پھر کوچز کے اندر وہی بنیادی سہولیات فراہم کرے جو کسی مسافر کا بنیادی حق ہیں صاف سیٹ، ٹھیک واش روم، محفوظ دروازے، مضبوط جوائنٹ، درست بریک سسٹم۔ اور اگر کچھ خرچ کرنا ہی ہے تو خدا کے لیے اسٹیشن کی دیواروں پر نہیں، ٹرین کی جان پر خرچ کریں۔ بندن میاں کہتا ہے کہ اگر کوچز اور ٹریک صحیح ہو جائیں تو اسٹیشنوں پر پینٹ اپنی جگہ خود چمکنے لگے گا، مگر اگر یہ سب نہ بدلا تو چاہے اسٹیشن پر آئیفل ٹاور لگا دو، فائدہ کوئی نہیں۔
آخر میں بندن میاں نے اپنے دل کی آخری بات بھی کہہ دی اگر آج بھی ہم خاموش رہے، اگر آج بھی ہم نے سسٹم کی غلطی پر پردہ ڈالا، اگر آج بھی حادثات کو اتفاق سمجھ کر گزر گئے، تو یقین مانیں یہ حادثات کل ہماری دہلیز پر بھی کھڑے ہوں گے۔ بندن میاں کہتا ہے کہ اگر کسی نے اس ظلم پر آواز اٹھائی ہے تو اسے سراہا جائے سزا نہیں دی جائے۔ کیونکہ حقیقی مجرم وہ نہیں جو حقیقت بتاتا ہے بلکہ وہ ہے جو حقیقت کو چھپاتا ہے۔
بندن میاں آج بھی یہی کہہ رہا ہے کہ زکریا ایکسپریس کا انجن الگ نہیں ہوا اصل میں اس نظام کا انجن کب کا الگ ہو چکا ہے۔ باقی پوری ٹرین عوام کے سہارے کھڑی ہے، اور عوام ہی وہ واحد طاقت ہے جو اس ٹرین کو دوبارہ جوڑ بھی سکتی ہے بشرطِ یہ کہ ہم سب مل کر یہ طے کر لیں کہ اب مزید رنگ روغن نہیں، اب نظام کی مرمت ہو گی۔

Exit mobile version