جون 8, 2026

سندھ حکومت اور گورکھ ہل

کالمکار: جاوید صدیقی

مانا کہ کسی پر اعتراض، تنقید، منفی نشانہ، منفی بحث اور گمراہ کرنا بہت آسان اور سہل کام ھے جو مکمل دین و اخلاقیات سے باہر اور مخالف ھے۔ آپ ﷺ اور خلفائے راشدین کے ادوار میں بھی اعتراض کیا جاتا رھا ھے لیکن وہ اعتراض یا تنقید مثبت اور تعمیری سوچ و فکر کے سبب کی جاتی رہی ہیں اور صاحب اختیار ہو یا صاحب منصب انتہائی خندہ پیشانی اور بہترین اخلاق کیساتھ پیش بھی آتے تھے اور مثبت تنقید کرنے والے کے مشکور بھی ہوتے تھے لیکن آج کے دور میں مثبت اعتراض و تنقید کرنے والے بھی قلیل اور برداشت کرنے والے بھی قلیل ہی نظر آتے ہیں گویا اکثریت دین و اخلاق سے کوسوں دور بیٹھی ھے۔ مجھے خوشی ھے کہ سندھ حکومت سادات یعنی شاہ کے ہاتھوں میں ھے وزیراعلیٰ سندھ سادات گھرانے سے اور بیشتر وزراء و مشراء بھی سادات گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں کئی وزراء و مشراء تو روحانی گھرانے سے ہیں۔ ان سب کی خاندانی تربیت دینی و روحانی اور بہترین اخلاقیات پر مزین ہوتی ھے۔ ان سندھ کے بااثر خاندان ہی سندھ کی ترقی و خوشحالی لاسکتے ہیں مگر شائد انہیں ھم جیسے صحافی میسر نہیں آرھے ہمیں چاہئے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور انکی کابینہ کو بناء مشروط سندھ کی ترقی و خوشحالی میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کو بروکار لاتے ہوئے اچھی اور بہترین تجاویز پیش کرتے رہیں۔ یہاں میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی کا شکریہ ادا کرتا ھوں کہ انھوں نے میری تجاویز پر سنجیدگی دکھاتے ہوئے عملی اقدامات شروع کردیئے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی کو سخی حسن قبرستان کے چاروں اطراف نئی بلند دیوار، چاروں نئے گیٹ، برقی روشنی کیلئے بڑے بڑے بلب نصب کرنا، لواحقین کیلئے نشست کیلئے بینچ، پینے کے پانی کیلئے آر او نل، راہ داری پختہ اور صاف و شفاف، قبرستان کے چاروں اطراف نالوں کی درستگی اور نئی سڑکیں بشمول اسٹریٹ لائٹس شامل تھیں گوکہ اس بابت کام شروع تو ہوگیا ھے مگر سست روی کا شکار ھے اس طرف میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی کو دیکھنا ہوگا۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں جاوید صدیقی جرنلسٹ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی توجہ نارتھ کراچی کے مصروف اور اہم ترین علاقہ انڈہ موڑ کی جانب بھی کرانا چاہتا ھوں کہ یہاں کی شاہراہیں بدترین صورتحال سے دوچار ہیں جو شادمان ٹاؤن، سیون ڈی، سیکٹر ایٹ اور سرسید ٹاؤن علاقے شامل ہیں یہاں کی شاہراہیں نئی بچھانے کی اشد ضرورت ھے اور اس مصروف روٹ پر ریڈ بس کا چلنا ناگزیر ہوچکا ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج کا میرے کالم کا عنوان "سندھ حکومت اور گورکھ ہل” یہ عنوان اس لئے چُنا کہ سندھ سیاحتی طور پر کئی قدرتی اور اہم مقامات کا حامل ھے بس ذرا سی توجہ ان سیاحتی مقامات کو بین الاقوامی سطح پر بام عروج پر پہنچا سکتی ھے۔ ضلع دادو میں واقع قدرتی پہاڑیوں کا ایک خوبصورت پہاڑوں کا سنگ موجود ھے جہاں کا موسم گرمیوں میں بھی ٹھنڈا اور دلکش ھے بس ضرورت ھے تو حکومتی توجہ اور تعمیر و ترقی کی۔ اس علاقے کو حکومت سندھ سیاحتی بنیاد پر ضرور توجہ دے ، کراچی تا گورکھ ہل ایک مخصوص ریلوے ٹریک بجھایا جائے جو الیکٹرک ٹرین پر مشتمل ہو، کراچی تا گورکھ ہل موٹروے بنایا جائے جسکی کوالٹی بین الاقوامی سطح جیسی ھو اور ایک چھوٹا ائرپورٹ بھی بنایا جائے تاکہ تھریب اسٹار ایئر بس لینڈنگ کرسکے اور ہیلی کوپٹر اتر سکیں اسکے علاوہ ون اسٹار سے تھری اسٹار تک کے ہوٹلز، ریسٹورینٹ اور مسافر خانے بھی بنائیں جائیں جو سیاح کیلئے ضروریات زندگی اور تفریح میں معاون ثابت ہوسکیں ان سب سے بڑھ کر سیکیورٹی سخت ترین رکھی جائے تاکہ آزادانہ ماحول میں لوکل اور بین الاقوامی سیاح یہاں کا زیادہ سے زیادہ رخ کرسکیں۔ یاد رکھئے سندھ کی ترقی ہی پاکستان کی ترقی ھے یہی عمل تقریباً کھیر تھر سیاحتی مقام کیلئے بھی کیا جائے۔ ان دونوں مقامات کے بعد رنی کوٹ، عمر کوٹ، نوکوٹ، شاہی قلعہ خیرپورمیرس کو بھی اپ ڈیٹ تزئین و آرائش اور سفری طعام و رہائش کے بہتر سے بہتر انتظامات کرکے سندھ سیاحت کا فروغ ممکن ہوسکے گا۔ میں جاوید صدیقی جرنلسٹ کالمکار ممبر کراچی پریس کلب و ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ اپنی سندھ حکومت کے وزیراعلیٰ سندھ، سینئر وزیر و مشیر اور بااختیار اسران بالا سے یہی امید کرونگا کہ میری ان گزارشات پر سنجیدگی سے غور فرمائیے گا اور خاص کر پی پی پی اسٹینڈنگ کمیٹی سے بھی یہی درخواست ھے کہ اس بابت توجہ فرمائیں تاکہ سندھ میں زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوسکے اور ہمارے سندھ کے لوگوں کو روزگار کا نیا باب روشن ہوسکے تاکہ ایک شہری بھی اس اقدام سے مستفید ہوسکے۔ شکریہ