تحریر:الیاس محمد حسین
بھارتی حکمرانوں نے ہمیشہ یہ راگ آلاپاہے کہ انڈیاکا دفاعی سسٹم ناقابل ِ تسخیر ہے اسی بناء پر وہ برصغیر کا تھانیدار بننا چاہتاہے لیکن 2واقعات نے انڈیا کے دفاعی سسٹم کا دھڑن تختہ کرکے رکھ دیاہے جس سے بھارتی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اس کے دفاعی ماہرین کوبھی شرمندہ کرکے رکھ دیا دبئی ایئر شو میں عوامی ایروبیٹک ڈسپلے کے دوران بھارتی طیارے کی تباہی سے پوری دنیا حیران و پریشان ہوگئی اس سے پہلے حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران 8رافیل طیاروں کی تباہی نے بھارت کی دفاعی سسٹم کی قلعی کھول کررکھ دی تھی پیش آیا اب تیجس کے حادثے نے ہوا بازی کے ماہرین اور فوجی تجزیہ کاروں کو نظام کی ناکامیوں کے سلسلے پر غور کرنے پر مجبور کردیا جس نے تیجس پروگرام کو کئی دہائیوں سے دوچار کر رکھا ہے۔ بھارت کے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) اور ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کے تیار کردہ ہلکے وزن والے، دیسی جنگی طیارے تیجس کے حادثے نے لڑاکا جیٹ کی آپریشنل تیاری، حفاظتی معیارات اور دیرینہ تکنیکی دشواریوں کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس طیارے کی کہانی تاخیر، نقائص اور سیاسی دباؤ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اگرچہ صحیح وجہ ابھی تک زیرِ تفتیش ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تکنیکی خرابیوں، ترقی میں نظاماتی مسائل اور آپریشنل دباؤ نے حادثے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تیجس پروگرام، جس کا مقصد ہندوستان کی خود انحصاری کی علامت بننا تھا، اس کے بجائے یہ ایک کیس سٹڈی بن گیا ہے کہ کس طرح بار بار تکنیکی ناکامیاں، سیاسی دباؤ اور انتظامی ناکامیاں تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔ بھارتی خود انحصاری کے تصور کو دھچکا لگا ہے۔ بھارت کے ”آتم نربھرتا بھارت“ (خود پر انحصار کرنے والا بھارت) اور "میک ان انڈیا” اقدامات کے ایک حصے کے طور پر تیجس قومی فخر کی علامت بن گئی ہے بھارتی فضائیہ نے مستقل طور پر اس کی رینج، کارکردگی اور مینٹیننس پر تحفظات ظاہر کئے تھے۔ کہاجارہاہے کہ تکنیکی خامیوں کے باوجود طیارے کو دبئی ایئر شو بھیجنے کا فیصلہ سیاسی دباؤ اور بیانیہ سازی کے تحت کیا گیا تاکہ بھارت دنیا کے سامنے اپنی فوجی نشاۃ ثانیہ پیش کرسکے۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس مکمل تباہی کے صورت میں نکلا۔ تیجس پروگرام، جو 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تھا، کو ہندوستان کا پرچم بردار مقامی لڑاکا قرار دیا گیا، جو جنگی ہوا بازی میں ملک کی خود انحصاری کی علامت ہے۔ تاہم تقریباً چار دہائیوں کی ترقی تاخیر اور تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ طیارہ صرف پچھلی دہائی میں کام کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور اس وقت بھی یہ مسائل سے دوچار ہے۔ ہوابازی اور ایروناٹکس کے ماہرین کے مطابق تیجس کے انجن کے ساتھ جاری مسائل خریداری اور سپلائی چین کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس طیارے کی ٹائم لائن 40 سالوں پر محیط ہے۔ یہ ٹائم لائن غیر مستحکم ڈیزائن کی ضروریات، تکنیکی خلا اور ہوائی جہاز کے لیے حتمی ترتیب کو منجمد کرنے میں ناکامی سے دوچار ہے کئی سالوں میں، HAL کو کوالٹی کنٹرول کے بار بار مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے تیجس کے بیڑے کی حفاظت اور بھروسے سے سمجھوتہ کیا ہے۔ بھاری سرمایہ کاری کے باوجود HAL کی پیداواری صلاحیت IAF کے اندر تیجس طیاروں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ سیال کے لیک ہونے، پینل کی غلط ترتیب، مہروں پر وقت سے پہلے پہننے اور زمینی مسائل کی رپورٹوں نے تیجس کے بیڑے کو پریشان کر رکھا ہے۔ کوالٹی کنٹرول میں آٹومیشن کی کمی نے پیداوار کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے ان حالات و واقعات کی روشنی میں ضروری ہے کہ بھارتی حکمران خطے کا تھانیدار بننے کی بجائے اپنے کروڑوں عوام کی حالت بہتربنانے کیلئے ضروری اقدامات کرے کیونکہ برصغیرمیں نفرت کی سیاست نے اربوں افرادکا مستقبل سوالیہ نشان بنادیاہے جتنا سرمایہ اور وقت پاکستان بھارت جنگی تیاریوں پر صرف کررہے ہیں اس سے پورے خطے سے غربت،بیماری اور نفرت کا خاتمہ کرکے ایک خوشگوارمستقبل کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے بھارت کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچتے ہوئے مقبوضہ کشمیر، آبی معاملات سمیت تمام متنازعہ امور مذاکرات سے حل کرناہوں گے اسی سوچ سے امن کی آشاکے خواب کی تعبیر ممکن ہے۔
