جون 3, 2026

ریاست پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں، بعض افراد کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ وہ کہتے ہیں "میں نہیں تو کچھ نہیں”: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور بعض افراد کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ وہ کہتے ہیں “میں نہیں تو کچھ نہیں”۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پر سب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہیڈکوارٹر کا آغاز ہو چکا ہے، جو طویل عرصے سے درکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد اندرونی طور پر موجود نیشنل سکیورٹی تھریٹ کو اجاگر کرنا ہے، اور وہ شخص جس کی ذات اور خواہشات ریاست سے بڑھ چکی ہیں اب نیشنل سکیورٹی تھریٹ بن چکا ہے اور بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی سیاسی سوچ کی عکاس نہیں ہیں، اور اگر کوئی اپنی سوچ کے تحت فوج پر حملہ آور ہوتا ہے تو افواج جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو اپنی سیاست سے دور رکھیں اور کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ ایلیٹ کلاس سے نہیں آتے بلکہ مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے ہیں، اور اگر کوئی آرمڈ فورسز یا اس کی قیادت پر حملہ کرے گا تو یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام سیاسی شخصیات اور جماعتوں کی عزت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی سیاست کریں، مگر فوج کو اس سے دور رکھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور جو شخص اپنی فوج یا اس کی قیادت پر حملہ کرتا ہے، وہ دراصل کسی اور فوج کے لیے راستہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی فوج خوارجی دہشتگردوں اور عوام کے درمیان کھڑی ہے، اور ہر ملک میں ایک مضبوط فوج ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سا آئین و قانون ہے جس کے تحت ایک مجرم سے ملاقات کی جاتی ہے اور وہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف بیانیہ دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے بیانیہ یہ بنایا گیا کہ ترسیلات زر بند کر دی جائیں تاکہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے، اور پھر اسی لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا جو مضبوط بنیاد پر 8 گنا طاقتور فوج کے سامنے کھڑی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعتی سطح پر بھی یہ نہیں معلوم کہ بیانیہ کہاں سے چل رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے، مگر اس کی حدود ہیں، اور ملک، ریاست یا قومی سلامتی کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس اس بیانیے کو پھیلا رہے ہیں، اور بعض مقامی عناصر بھی فوج اور ریاست کے خلاف بیانیہ چلاتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد انٹرنیشنل اور افغان میڈیا کے ذریعے بھی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اور یہ ایک ترتیب وار اور منظم کوشش ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ کس حیثیت سے بات کر رہے ہیں اور اس کی علامات ذہنی مسائل سے مشابہت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو جی ایچ کیو پر جو واقعہ ہوا، اس میں بھی یہی رویہ دیکھا گیا۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جو فوج کے افسران آئی ایس پی آر جاتے ہیں انہیں بھی غدار قرار دینے کی منطق غلط ہے اور یہ سیاست میں بیوقوف بنانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل پر بات کرنے کے بجائے فوج اور اس کی قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر بھی جھوٹ اور پروپیگنڈا کیا گیا، اور ہر خبر کو غلط بیانیے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ وہ خارجیوں کے ساتھ بات کریں جو ہمارے بچوں اور سپاہیوں کو شہید کر رہے ہیں، اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے بجائے مذاکرات کی ہدایت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ خطرناک ہے، اور عوام کو آپریشن کے خلاف اکسانا قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے علاوہ نہ کوئی پہچان ہے، نہ اوقات اور نہ ہی سیاست، اور جو بھی پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کے خلاف کھڑا ہوگا، وہ حملہ آور بنائے جائیں گے۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج حق پر ہے اور حق پر ہی رہے گی، اور ریاست کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فوج کے بارے میں جنون اور ہنگامہ پیدا کرنے کی ضرورت نہیں، اور پاکستان کی فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج ایک ادارہ ہے، اور جب تک پاکستان ہے، پاکستان کی فوج رہے گی، اور اس کی حفاظت ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔