جون 2, 2026

لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواست مسترد کردی

لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے موٹر وہیکل آرڈیننس میں کی جانے والی ترامیم کے خلاف دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے آصف شاکر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کم عمر بچوں پر ایف آئی آر درج کرنا اور بھاری جرمانے عائد کرنا درست اقدام نہیں، شہریوں کو پہلے ٹریفک قوانین سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے، اس پر عمل کرنا ہوگا۔ بچوں کی ٹانگیں زمین تک نہیں پہنچتیں اور انہیں موٹر سائیکل دلا دی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے گھر کے بڑوں اور بچوں کے بھی چالان ہوئے ہیں۔

پولیس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ 5 ہزار کم عمر ڈرائیور ون وے کی خلاف ورزی کے باعث زخمی یا جاں بحق ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر دنیا بھر میں بھاری جرمانے ہوتے ہیں، دبئی میں ایک لاکھ درہم تک جرمانہ لگتا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت سب سے ضروری ہے، اس لیے جرمانے زیادہ رکھے گئے ہیں تاکہ لوگ خلاف ورزی نہ کریں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ:

پہلی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا

دوسری بار خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

عدالت نے قرار دیا کہ قانون سوسائٹی کو بہتر بنانے کے لیے بنتے ہیں اور والدین کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کردیا۔