بندن میاں کا شہرِ قائد میں جلتی انسانیت کا مرثیہ

تحریر: محمدانوربھٹی

بندن میاں آج صبح سے کانپ رہے ہیں جنابِ عالی بدن پر کپکپی طاری ہے ہاتھوں میں لرزش سانس بھاری دل جیسے کسی نے پنجے میں جکڑ رکھا ہو۔ وجہ؟ وہی وڈیو وہی منظر وہی آگ کا الاؤ جس میں چیختا تڑپتا جلتا ہوا ایک انسان بندن میاں کی روح کو جلا گیا۔ بندن میاں نے زندگی میں بہت کچھ دیکھا ریلوے کی بربادی دیکھی پنشنروں کے آنسو دیکھے، معصوم بچوں کا لاشوں میں بدل جانا دیکھا مگر آج جو دیکھا وہ انسانیت کے جنازے پر پڑنے والی آخری مٹی جیسا تھا۔ اورنگی ٹاؤن کی ایک سڑک پر ایک ڈاکو پکڑا گیا عوام نے غصے میں کھمبے سے باندھا، مارا، پیٹا اور پھر جی ہاں زندہ جلا دیا بندن میاں نے وڈیو دیکھی تو دل پر یوں چوٹ لگی جیسے سینے میں کوئی چھری گھما رہا ہو۔ کوئی بھی ہو کیسا بھی ہو جرم کا کتنا ہی کالا کارنامہ کیوں نہ ہو مگر ایک بندھا ہوا سانس لیتا انسان جب آگ کی لپٹوں میں گھرتا ہے تو بندن میاں کہتے ہیں کہ اس لمحے پوری تہذیب چیختی ہے پوری انسانیت تڑپتی ہے اور پورا معاشرہ جلتا ہے۔
بندن میاں نے اپنے آپ سے سوال کیا کیا ہم یہی بن گئے ہیں؟ کیا یہی انجام ہے اُس قوم کا جو نبی رحمت ﷺ کی اُمت کہلانے پر فخر کرتی ہے؟ کیا ہم اس نہج پر آ پہنچے ہیں کہ ہم نے عدالت کو چوک پر لا کھڑا کیا؟ پولیس کو ہاتھ سے پھینک دیا؟ قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا؟ پھر بندن میاں نے خود ہی جواب دیا ہاں جناب یہی بن گئے ہیں۔ کیونکہ جب ریاست سو جائے، جب عدالتیں سست ہو جائیں، جب انصاف کے دروازے رشوت اور سفارش کے تالے میں بند ہو جائیں جب قاتل ضمانتوں پر دندناتے پھریں اور مظلوم لاشیں اٹھاتا پھرے تو پھر چوک میں عدالت لگتی ہے۔ قانون ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اور آگ انسانی جسم نہیں پورے معاشرے کو جلا دیتی ہے۔
بندن میاں کے ذہن میں وہ منظر ابھی تک جل رہا ہے۔ ایک طرف چیختا ہوا ڈاکو دوسری طرف نعرے لگاتی اور فخر سے ویڈیو بناتی بھیڑ بندن میاں نے کانوں میں انگلیاں ڈالیں مگر چیخیں دل تک اتر گئیں۔ سوچتے رہے کہ یہ لوگ کون ہیں؟ یہی تو ہم ہیں۔ یہی ہمارا سماج ہے۔ یہی ہماری گلیاں یہی محلے یہی لوگ جن کے ہاتھوں میں کبھی تسبیح ہوتی تھی آج پٹرول کی بوتل ہے۔ بندن میاں نے خود کو جھنجھوڑا اور کہا یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ اس آگ کو ہم نے پچیس پچاس برس سے سینچا ہے۔ یہ نفرت یہ غیض و غضب یہ شدت یہ سب ہمارا اپنا بویا ہوا بیج ہے۔
بندن میاں کو اچھی طرح یاد ہے کہ کبھی کراچی کا نام سنتے ہی روشنیوں کا احساس ہوتا تھا۔مگر آج ہر روشنی کے پیچھے اندھیرا ہر گلی کے پیچھے خوف ہر دروازے کے پیچھے دہشت۔ اور اس کے بیچ ایک سوال کھڑا ہے ریاست کہاں ہے؟ وہ ادارے کہاں ہیں جو شہری کے جان و مال کے محافظ تھے؟ وہ پولیس جو شہری کی ڈھال تھی وہ آج خود ہاتھ کھڑے کرتی نظر آتی ہے۔ وہ عدالتیں جن میں مظلوم اُمید لے کر جاتا تھا وہ آج تاریخ پر تاریخ دیتی ہیں۔ وہ قانون جو شہری کو طاقتور کے سامنے کھڑا کرتا تھا وہ آج کاغذ کے ٹکڑوں میں بکھرا ہوا ہے۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ سب سے بڑا تماشہ یہ ہے کہ ہم سب اس تماشے کے تماشائی بھی ہیں اور اداکار بھی۔ وڈیو دیکھ کر افسوس کرتے ہیں، سینکڑوں گروپس میں آگے بھیجتے ہیں، پھر چائے کی پیالی کے ساتھ اس واقعے پر تبصرے کرتے ہیں، پھر نئی وڈیو کا انتظار۔ جیسے انسانیت نہیں کوئی روزمرہ کا ڈرامہ ہو۔ بندن میاں یہ بات کہتے ہوئے تڑپ اٹھتے ہیں کہ جس شہر میں ایک بندھا ہوا انسان نذرِ آتش ہو جائے اور پورا شہر ویڈیو بنانے میں مصروف رہے اُس شہر کے ماتھے پر انسانیت کا لفظ لکھنا شاید زیادتی ہے۔
اب بندن میاں ایک اور سوال پوچھتے ہیں وہ سوال جس سے سب بھاگتے ہیں ہم یہاں تک پہنچے کیسے؟یہ غصہ صرف اس ڈاکو پر نہیں تھا جناب یہ غصہ اُس پورے نظام پر تھا جس نے عوام کے ہاتھ میں بندوق بھی دے دی، غصہ بھی دے دیا اور بے بسی بھی۔ یہ غصہ اُس معاشی تنگی پر تھا جس نے پیٹ میں رزق کے بدلے دلوں میں بارود بھر دیا۔ یہ غصہ اُس بے روزگاری، اُس غربت، اُس نا امیدی اور اُس سیاسی منافقت پر تھا جس نے عوام کو کچل کر رکھ دیا۔ یہ غصہ اُس حکومت، اُس پولیس، اُس عدالت، اُن ایم این ایز، اُن وزیروں اور اُن بابوؤں پر تھا جو صرف ٹی وی پر بیان دیتے ہیں مگر عوام کے خون میں اُترنے والے زخموں کو نہیں دیکھتے۔ جب زخم بہت گہرے ہو جائیں اور مرہم کوئی نہ دے تو پھر عوام خود مرہم بھی بنتی ہے اور چھری بھی۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ یہ پورا واقعہ ایک تھپڑ ہے اور تھپڑ بھی ایسا کہ آواز پورے ملک میں گونجی ہے۔ یہ تھپڑ پولیس کے منہ پر ہے جو برسوں سے عوام کو تحفظ دینے کے بجائے فائلیں سفارشیں اور ریٹ کے پیچھے بھاگتی رہی۔ یہ تھپڑ عدالتوں کے رخ پر ہے جنہوں نے انصاف کو ایک لمبی قطار بنا کر کھڑا کر دیا۔ یہ تھپڑ حکومتوں کے منہ پر ہے جنہوں نے کبھی جرم کی جڑیں کاٹنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ تھپڑ سیاست دانوں کے چہروں پر ہے جو ہر الیکشن میں وعدے کرتے ہیں مگر پانچ سال بعد ہاتھ جھاڑ کر اگلے الیکشن اگلی وزارت کی تیاری کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑا تھپڑ ہم عوام کے رخ پر ہے جو ظلم، رشوت اور ناانصافی کو برداشت کرتے کرتے اب خود ظالم بن بیٹھے ہیں۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ وہ ڈاکو نہیں جو مارا گیا اصل مسئلہ وہ سوچ ہے جس نے پورے معاشرے کو ڈاکو اور جلاد بنا دیا۔ وہ سوچ جو کہتی ہے کہ قانون تو کچھ کرتا نہیں، لہٰذا ہم خود فیصلہ کر لیں گے۔ بندن میاں پوچھتے ہیں کہ کیا یہی وہ ریاستِ مدینہ ہے جس کے ہم دعوے دار ہیں؟ کیا یہی اسلام کا عدل ہے؟ کیا یہی اصول ہیں؟ کیا یہی تہذیب ہے کہ بندھا ہوا انسان زندہ جلا دیا جائے اور ہم “واہ واہ” کرتے رہیں؟
بندن میاں کے اندر کی آگ بجھ نہیں رہی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسا واقعہ آخری نہیں اگر حالات ایسے رہے تو یہ معمول بن جائے گا۔ ہر گلی میں ایک لٹکتا جسم، ہر محلے میں ایک جلتا انسان ہر چوک میں ایک بھیڑ ہر کیمرے میں ایک وڈیو پھر نہ ریاست بچے گی نہ معاشرہ نہ انسانیت۔
اب بندن میاں بات کو اصلاح کی طرف لے کر آتے ہیں وہ کہتے ہیں جنابِ عالی اگر ہم واقعی اس بربادی کو روکنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں اپنے اندر کی آگ بجھانی ہوگی۔ قانون کو دوبارہ طاقتور بنانا ہوگا۔ پولیس کو سیاسی غلامی سے آزاد کرنا ہوگا۔ عدالتوں کو تیز مؤثر اور شفاف بنانا ہوگا جرم کرنے والے کو مثال بنانا ہوگا مگر قانون کے تحت نہ کہ بھیڑ کے ہاتھوں۔ حکومت کو غربت، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے عفریت سے نمٹنا ہوگا۔ تعلیم کا دروازہ کھولنا ہوگا، نوجوانوں کو راستہ دینا ہوگاسیاست دانوں کو بیان بازی چھوڑ کر عملی کام کرنا ہوگا۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ سب سے اہم چیز “انسانیت” ہے۔ اگر انسانیت ذہنوں سے نکل گئی تو قانون بھی بے کار، عدالتیں بھی بے فائدہ، ریاست بھی بے معنی ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اسلام نے بھی چھوٹی سے چھوٹی سزا کا بھی حق صرف عدالت کو دیا ہے بھیڑ کو نہیں اگر ہم نے یہ اصول کھو دیا تو پھر وحشت کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
آخر میں بندن میاں کہتے ہیں یہ شہر قائد جلتا نہیں جناب یہاں انسانیت جلتی ہے۔ یہاں امید جلتی ہے۔ یہاں انصاف راکھ بنتا ہے۔ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس آگ کو بجھانے والوں میں شامل ہوں گے یا اس آگ کا ایندھن بن کر مزید تڑپتی ہوئی روحوں کو دھواں بنا دیں گے۔ اس ملک کو قانون، عدل، محبت اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔غصے اور انتقام کی نہیں۔
بندن میاں کا دل اب بھی بھاری ہےمگر وہ اُمید رکھتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو اس آگ کو بجھا سکتے ہیں۔ شرط بس اتنی ہے کہ ہم انسانیت کو واپس دلوں میں جگہ دیں اور ریاست کو اُس کی ذمہ داری یاد دلائیں۔ کیونکہ جب ریاست کمزور ہو جائے تو عوام جلاد بنتی ہے اور جب عوام جلاد بن جائے تو معاشرہ قبرستان۔

Exit mobile version