پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق اہم بل "قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق 2025” کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں بل کے حق میں 160 جبکہ مخالفت میں 79 ووٹ ڈالے گئے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں اقلیتوں کے لیے خصوصی کمیشن کے قیام کی ہدایت دی تھی، جس کے تحت یہ بل لایا گیا ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے ارکان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس بل میں ترامیم دیں۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئین کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب میں کہا کہ کوشش کی جائے کہ آئین کو متنازع نہ بنایا جائے۔ 27ویں آئینی ترمیم میں کسی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ ماضی میں 18ویں آئینی ترمیم 9 ماہ کی مسلسل مشاورت کے بعد تیار ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ترامیم عوام میں تقسیم کا باعث بنیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز بھی شامل نہیں کی گئیں۔
مولانا نے مزید کہا کہ کچھ حالیہ قانون سازیوں میں اقوام متحدہ کی سفارشات کو آئینی تقاضوں پر ترجیح دی گئی، جو قابلِ غور بات ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطاب میں کہا کہ بل دونوں ایوانوں سے پہلے ہی منظور ہو چکا تھا، تاہم صدرِ مملکت نے چند اعتراضات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان اور کامران مرتضیٰ کی ترامیم کو حکومت نے قبول کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومتیں آنی جانی ہیں، کسی کی وراثت نہیں، مگر اہم قومی معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔





