تحریر: محمد انور بھٹی
پاکستان ریلوے کی ترقی کے دعوے آج کل کچھ ایسے لگتے ہیں جیسے کوئی بوسیدہ، دیمک زدہ، بارش میں ٹپکتی چھت والے گھر کو رنگ و روغن کر کے مالک مکان یہ اعلان کرے کہ دیکھو جی ہمارا گھر ماڈرن ہو گیا ہے۔ باہر نئے دروازوں کے ہینڈل اندر سے لکڑی گل سڑ کر آوازیں دے رہی ہو، بجلی کی نئی روشنیاں لگائی جائیں مگر کچن میں چولہا ٹھنڈا پڑا ہو۔ بندن میاں فرماتے ہیں کہ جس گھر میں چولہا بجھا ہو وہاں ایل ای ڈی لگا لینے سے یہ دلیل نہیں بنتی کہ اب گھر شاہی محل بن گیا ہے۔ لیکن ریلوے کے کچھ عزیزانِ گرامی کا خیال ہے کہ چونکہ دنیا ڈیجیٹل ہو چکی ہے ریلوے بھی اب ڈیجیٹل ہی چلے گی، چاہے پٹری ٹیڑھی ہو سگنل بند پڑے ہوں پھاٹک پر سورج غروب ہوتا رہے مگر ذمہ دار بیٹھے ہوں۔
ایک محفل میں بندن میاں نے فرمایا کہ ریلوے کی موجودہ ترقی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی شادی سے ایک دن پہلے اپنے جوتوں کی پالش میں گھنٹے لگا دے، مگر کپڑے ابھی تک سلوائی نہ ہوں اور ولیمہ کے برتن بھی کرائے پر طے نہ ہوئے ہوں۔ سب ہنس پڑے مگر بندن میاں کی آنکھوں میں وہ درد تھا جو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے ریلوے کے زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ حکومت کو لگتا ہے کہ ڈیجیٹل ایپ بن جانے، ٹکٹ پر کیو آر کوڈ لگ جانے اور اسٹیشن کے باہر سیلفی پوائنٹ بنا دینے سے پوری ریلوے ٹھیک ہو گئی۔ جیسے کسی مریض کا آپریشن کیے بغیر صرف پاؤڈر لگا کر اسے صحت مند قرار دے دیا جائے۔
ایک زمانہ تھا جب ریلوے کی عزت اور وقار ایک سرکاری ملازم کے لیے فخر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اب ریلوے میں عزت ڈھونڈیں تو شاید اسٹیشن کے پرانے بورڈوں کے پیچھے کہیں دبکی ہوئی ملے۔ بندن میاں فرماتے ہیں کہ یہ ریلوے انتظامیہ بھی عجیب ہے۔ پٹری پر ٹرین کو چلانا ان کے نزدیک پرانی سوچ ہے نئی سوچ یہ ہے کہ ٹرین کو فیس بک لائیو اور انسٹاگرام اسٹوری پر دوڑایا جائے۔ اگر پٹری ٹوٹی ہوئی ہے تو کوئی بات نہیں بس اتنا کر دیں کہ کیمرے کا زاویہ ایسا ہو کہ ٹوٹی پٹری نظر نہ آئے۔ نوجوان نے اعتراض کیا کہ جناب عکس تو تب بھی نظر آئے گا۔ بندن میاں نے مسکرا کر کہا جب ذمہ داریوں کے عکس باقی نہیں رہے تو ٹوٹی پٹریوں کے عکس کیا چیز ہیں؟
پچھلے دنوں ایک صاحب بڑے فخر سے ریلوے کی ترقیاتی فہرست بتا رہے تھے: اسٹیشن کے باہر رنگ و روغن مکمل، پلیٹ فارم پر نئی لائٹنگ لگ گئی، ٹکٹ ہاؤس کی کھڑکیوں پر خوبصورت فریم لگا دیے جگہ جگہ لگژری پودے رکھ دیے گئے۔ بندن میاں نے پوچھا، جناب پٹریوں کا بھی کچھ کیا؟ بولے ارے سر وہ تو تھوڑا وقت لے گا۔ بندن میاں بولے مطلب گھر سے باہر آنے والے مہمان کے لیے ڈرائنگ روم تیار ہے، مگر گھر کی بنیادیں اسی طرح بیٹھ رہی ہیں۔
یہی وہ ترقی ہے جسے دیکھ کر بندن میاں نے فرمایا کہ ایسا لگتا ہے کہ ریلوے والے کسی عالمی فلمی میلے کے مہمانوں کو متوجہ کرنے کے لیے سرخی پاؤڈر لگا رہے ہیں ورنہ یہ صورتحال تو کسی بھی ہوش مند انسان کو سمجھ آ جاتی ہے کہ چند دن بعد اگر اصل ماہرین آئیں گے تو وہ اس میک اَپ کو ہاتھ سے چھو کر دیکھیں گے اور سارا رنگ اتر جائے گا۔
پاکستان ریلوے میں مسائل کی کہانی اتنی پرانی ہے کہ اسے لکھنے بیٹھیں تو کئی باب بنتے ہیں۔ مگر طنز کا بھی ایک مقام ہوتا ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ ہم ریلوے والوں کے ساتھ اس طرح کے مزاح کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے پڑوسی کے بیٹے کی سالگرہ پر ہنس رہا ہو مگر اپنے گھر میں چولہا نہ جل رہا ہو۔ پچھلے سال جب ایک ٹرین کچھ منٹ کی تاخیر سے پہنچنے پر تنقید ہوئی، تو ریلوے کے ایک اعلیٰ افسر نے بڑے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ یہ دیکھیں ہماری ٹرین اب صرف ۲۸ منٹ لیٹ ہے، پچھلی بار ۴۳ منٹ لیٹ تھی۔ بندن میاں نے کہا، جنابِ عالی اگر تاخیر کو ترقی سمجھ لیا جائے تو ریاضی کے استاد کل سے بچوں کو یہ بھی سکھانا شروع کر دیں کہ لیٹ ہونا بھی کامیابی ہے۔
دنیا بھر میں ریلوے کو قومی ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر ہمارے یہاں ریلوے کو مذاکرات، کمیٹیوں، نوٹیفیکیشنوں، سمریوں اور عنقریب متوقع اصلاحات کے جھولے میں ڈال دیا گیا ہے۔ جیسے کوئی بچہ جھولے میں بیٹھ کر بار بار اوپر نیچے ہوتا رہے مگر زمین پر قدم کبھی نہ رکھ سکے۔ بندن میاں کہا کرتے ہیں کہ ریلوے کا ہر اجلاس ایک نئی امید دیتا ہے اور ہر امید ایک نیا دھوکا۔ جیسے کسی میلے میں مداری تماشہ دکھانے کے بعد اگلے شہر چلا جائے اور بچوں کے ہاتھ خالی رہ جائیں۔
حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار کا خیال ہے کہ ریلوے میں اصل خرابی ظاہری شکل و صورت میں ہے نہ کہ نظام میں۔ اس لیے وہ باہر سے عمارتیں خوبصورت بنا کر سمجھتے ہیں کہ ترقی مکمل ہو گئی۔ اگر کسی محکمہ میں ترقی کے لیے سب سے پہلے سیلفی پوائنٹ بنایا جا رہا ہو تو سمجھ لیں کہ وہ محکمہ اب ترقی نہیں کرتا، صرف تصویریں بناتا ہے۔
یہاں بندن میاں کے لہجے میں ایک اور حقیقت بھی سامنے آ جاتی ہے قبضہ ریلوے پر قبضے کے شکوک وشبہات عام ہیں مگر حقیقت ان سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ ریلوے کے کوارٹرزسرکاری کالونیاں یہاں تک کہ ریلوے کی زرعی زمین بھی وقت کے ساتھ ڈاک بنگلوں بڑے شہروں میں کمرشل پلاٹوں، اور شادی ہال، ہوٹلز، پلازوں کے قبضے میں آ چکی ہیں۔ اکثر وپیشتر بند ہونے والے سیکشنوں کی اسٹیشن بلڈنگز اور بڑے ڈاک بنگلے یا تو بااثر افراد کے قبضے میں ہیں یا پھر یہ بلڈنگیں تباہ حال ہو کر بھوت بنگلے کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ بندن میاں فرماتے ہیں ارے بھائی خالی جگہ پر قبضہ تو عام بات ہے، لیکن یہاں تو ہر گوشہ پہلے ہی وعدوں، سہولیات کی کمی اور ٹوٹی امیدوں کے قبضے میں ہے۔
اس قبضے کا اثر صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہا۔ اسٹیشن کی پرانی زمینیں، ورکشاپس، گودام، اور چھوٹے چھوٹے سیکشنز کی جگہیں آج بھی یا تو بنگلوں میں تبدیل ہو گئی ہیں یا کسی بااثر کے قبضے میں ہیں۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ یہ قبضہ محض زمین یا جائیداد تک محدود نہیں بلکہ ریلوے کے اصل نظام، ٹکٹنگ، سروسز اور مسافروں کی سہولت پر بھی ایک چھایا ہوا سایہ ہے۔ جہاں ایک طرف انتظامیہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اپلیکیشن کی کہانی سناتی ہے وہیں اصل زمین اثاثے اور سہولیات کا اصل مالک کوئی اور بن چکا ہے۔
پچھلے دنوں جب بندن میاں نے کسی اسٹیشن کا دورہ کیا تو انہوں نے دیکھا کہ بوگیوں کے پنکھے بندنشستیں ٹوٹی کھڑکیوں کی سلاخیں جگہ جگہ سے نکل چکی ہیں۔ لیکن انتظامیہ کی توجہ ان بوگیوں کی بجائے اسٹیشن کے باہر نصب آرائشی لیمپوں اور نئے لگژری پودوں پرتھی۔ بندن میاں نے فرمایا یہ ترقی وہ نہیں جسے مسافر محسوس کرے یہ صرف وہ ہے جو اعلیٰ افسر اپنی پریزنٹیشن سلائیڈز میں دکھا کر خوش ہوتے ہیں۔
مزید برآں قبضے کی صورتحال میں ریلوے کی حقیقی زمینیں اور اثاثے بڑے شہروں میں غیر قانونی کمرشل استعمال میں آ چکے ہیں، شادی ہال، پلازے، اور ہوٹلز کی صورت میں۔ یہ صرف زمین یا جائیداد کے لیے نہیں بلکہ ریلوے کی اصل خدمات سروسز اور مسافر کی سہولت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ بندن میاں فرماتے ہیں اگر کسی کو لگتا ہے کہ ڈیجیٹل نظام ریلوے کو چلانے کے لیے کافی ہے تو انہیں یہ بھی بتا دیں کہ پٹری پر ٹرین چلتی ہے، خاکے پر نہیں، اور قبضے سے خالی جگہیں نہیں بنتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ریلوے صرف ایک محکمہ نہیں ایک تاریخ ہے۔ ہر پٹری پر سفر کے قصے درج ہیں مگر ہم نے اس تاریخ کو نظر انداز کر کے اسے ماڈرن نظر آنے کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں پٹریوں کی مرمت پر خرچہ نہیں مگر مشاورتی میٹنگوں پر لاکھوں لگ رہے ہیں۔ سگنل کا بلب خریدنے پر بحث مگر اسٹیشن کی دیواروں پر رنگ و روغن فوراً ہو جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ریلوے ڈیجیٹل کیوں نہیں؟ سوال یہ ہے کہ ریلوے چلنے کے قابل کب ہوگی؟ ٹیکنالوجی اچھی چیز ہے، مگر تب جب بنیادیں مضبوط ہوں۔ اگر ریلوے والے واقعی ترقی چاہتے ہیں تو پہلے اپنے گھر کی ٹپکتی ہوئی چھتیں بیٹھتی ہوئی بنیادیں خشک ٹونٹیاں اور دیمک زدہ لکڑیاں ٹھیک کریں۔ نہیں تو سرخی پاؤڈر لگا کر صرف تصویروں میں خوش نظر آنا ممکن ہےحقیقت میں نہیں۔
193 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا خواب دکھانے والے صاحبوں کو شاید کوئی بتانے والا نہیں کہ اصل ترقی رفتار میں نہیں نظام کی شفافیت میں ہوتی ہے۔ برطانیہ، جاپان، چین اور فرانس کی ریلوے کی ترقی کا راز ٹرین کے رنگوں میں نہیں بلکہ قوانین کی پابندی شفاف نظام، مالی ڈسپلن اور ذمہ داری کے احساس میں ہے۔
آخر میں بندن میاں کے الفاظ ایک درد مند اپیل ہیں جناب ریلوے کو میک اَپ کی نہیں مرمت کی ضرورت ہے۔ چہرہ نہیں جسم بیمار ہے۔ آپ ترقی دکھانے کے لیے نہیں ترقی کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اگر کرنی ہے تو وہ مرمت کریں جو صبح کی پہلی ٹرین کے ڈرائیور کی آنکھ میں اُمید جگائے بوگی کے مسافر کے دل میں سکون ڈالے، پھاٹک کے محافظ کے دل میں فخر پیدا کرے۔ بصورت دیگر ایک دن آئے گا جب یہ میک اَپ تو اتر جائے گا مگر ریلوے کی سانسیں بھی ساتھ اُکھڑ جائیں گی۔
