وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر دھرنا دے دیا۔ وزیر اعلیٰ اپنے ہمراہ رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک، صوبائی وزراء مینا خان، شفیع جان اور شوکت یوسفزئی کے ساتھ عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے، تاہم پولیس نے ان کے قافلے کو ناکے پر ہی روک دیا۔
اس موقع پر پولیس افسران سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور آٹھویں مرتبہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جیل آئے ہیں، مگر ہر بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کی تذلیل کیوں کی جارہی ہے؟ اگر ہم بھی اسی طرح کا رویہ اپنائیں تو کیا یہ مناسب ہوگا؟ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات کے بغیر وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ اڈیالہ روڈ پر دھرنا دیتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کی اور بتایا کہ عمران خان کی طبیعت ناساز ہونے کی خبریں تشویش بڑھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ فوراً ملاقات ہو تاکہ افواہوں کی حقیقت سامنے آئے، ورنہ بڑھتی ہوئی بے چینی پوری قوم کو سڑکوں پر لے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں اور تمام قانونی و جمہوری راستے اختیار کر چکے ہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر خدشات بڑھ رہے ہیں اور اب آخری راستے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملاقات کے بغیر وہ اور ان کا وفد واپس نہیں جائیں گے۔
