پاکستان نے 2025 میں 1.5 ارب ڈالر مالیت کے سولر پینلز درآمد کرکے دنیا کے تیسرے بڑے سولر پینل درآمد کنندہ ملک کا مقام حاصل کرلیا ہے۔ عالمی تحقیقی ادارے ورلڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان کا سولر انرجی کی طرف سفر حیران کن رفتار سے جاری ہے جو 2015 میں تقریباً صفر سے شروع ہوا اور 2026 تک ملک کے مجموعی بجلی نظام میں 20 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف 2024 میں پاکستان نے 22 گیگا واٹ صلاحیت کے سولر پینلز درآمد کیے جو برطانیہ کی گزشتہ پانچ سال کی مجموعی تنصیبات اور کینیڈا کی پوری تاریخ میں لگائے گئے سولر سسٹمز سے بھی زیادہ ہیں۔
ورلڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 2025 میں ریکارڈ درآمدات کے بعد پاکستان دنیا کے سب سے بڑے سولر پینل درآمد کنندگان میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے، اور ملک اس وقت اپنی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی سطح پر ہونے والی توانائی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔
