تحریر: محمد انور بھٹی
جنابِ عالی پچھلے دنوں خبر پڑھی کہ ریلوے میں ترقی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ رابطہ پورٹل کھل رہے ہیں، ڈیجیٹل سسٹم جڑ رہے ہیں 56 ٹرینیں نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں، 54 اسٹیشن کمپیوٹروں کی کرامت سے روشن ہو چکے ہیں وائی فائی کی شعاعیں فضا میں تیر رہی ہیں اور اے آئی کیمرے ریلوے کی حالت دیکھ کر خود بھی شرمندہ ہو رہے ہیں۔ مگر بندن میاں نے سر پکڑ کر سوچاٹرین نے چلنا کس پر ہے؟ ٹریک پر کہ وائی فائی کے سگنلز پر؟ اے آئی کیمرے بوگی کے پیچ کس دیں گے یا انجن کی پسٹنیں بدلیں گے؟
یہ ترقی کچھ ایسی لگتی ہے جیسے گھر میں دیواریں رنگوا دی جائیں، نئی لائٹنگ لگا دی جائے، دروازوں کے ہینڈل بدل دیے جائیں، مگر چھت ٹپک رہی ہو، بنیاد یں بیٹھ رہی ہوں دیمک سے کھا ئی لکڑی ہو اور پانی کی ٹونٹیاں سوکھی ہوں۔ بندن میاں کہتے ہیں بھائیوجس گھر میں چولہا بجھا ہو وہاں ایل ای ڈی لگانے سے امارت ثابت نہیں ہوتی۔ مگر ریلوے والوں کا خیال ہے کہ چونکہ دنیا ڈیجیٹل ہو چکی لہٰذا ٹرینیں بھی اب ڈیجیٹلی چلیں گی۔ شاید جلد اعلان ہو کہ وائی فائی ڈاؤن ہو تو ٹرین بھی تاخیر کا شکار ہوگی۔
یہ حال دیکھ کر بندن میاں نے وزیرِ ریلوے سے پوچھنے کی ٹھان لی کہ حضورٹرینوں کو انجن کھینچتے ہیں یا راؤٹر؟ مسافر بوگیوں میں سفر کرتے ہیں یا ویٹنگ روم میں بیٹھ کر اے ٹی ایم مشین کے سامنے سیلفیاں بناتے رہیں؟ اگر ریلوے کا اصل مسئلہ اسٹیشن کی عمارتیں واٹر کولر، ویٹنگ روم، فری وائی فائی اور موبائل چارجنگ پوائنٹس ہی ہیں تو پھر بہتر ہے کہ اسٹیشنوں کو میوزیم کا درجہ دے کر فائیو اسٹار ہوٹل بنا دیا جائے۔ ٹریک چونکہ اس وقت ویسے بھی کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے اور کہیں کہیں گمشدہ کی سی کیفیت میں ہے، لہٰذا مسافروں سے پہلے اس کی تلاش کا اشتہار دے دیا جائے۔بنام گمشدہ ٹریک کی تلاش ،کیونکہ ٹریک آخری بار 1980 میں صحتمند حالت میں دیکھا گیا تھا۔
آخر یہ کون سا ترقیاتی فارمولہ ہے کہ ٹریک بوسیدہ پڑا ہو، بوگیاں زنگ آلود ہوں، انجن ہانپتے پھرتے ہوں، مگر وائی فائی پورے دم خم سے چل رہا ہو؟ یوسفی صاحب ہوتے تو شاید یہ لکھتے کہ ریلوے کا نظام کچھ ایسا ہے جیسے پہلوان ٹنڈ کروا کر مقابلے میں اتر آئے مگر طاقت چائے کے کپ اٹھانے بھر کی باقی ہو۔
بندن میاں نے اپنی آنکھوں سے ریلوے کی یہ ترقی دیکھی ہے۔ بوگی کی چھت میں سے بارش اندر آ رہی ہو تو اندر بیٹھے مسافر ایک دوسرے سے شکایت کرتے ہیں کہ سگنل کیوں نہیں آ رہے۔ پچھلے دنوں ایک صاحب پوری رات ٹرین کے نہ چلنے کا رونا روتے رہے۔ بندن میاں نے پوچھا، بھائی جان ٹرین رُکی ہوئی ہےپہلے یہ چلنے دیں، وائی فائی بعد میں بھی چل جائے گا۔ مسافر نے جواب دیامجھے کیا پتا اخبار میں لکھا تھا ریلوے ڈیجیٹل ہوگئی ہے۔
ارے بھائی ڈیجیٹل ہونے سے مراد یہ نہیں کہ بوگی کی گندی کھڑکی کے اوپر بھی کیو آڑ کوڈ کوڈ لگ جائے۔
ایک طرف تو ریلوے کہتی ہے کہ ہم ترقی کی جانب گامزن ہیں، دوسری طرف ٹریک کی حالت ایسی کہ جیسے کسی نے ساری عمر کفایت شعاری کرتے ہوئے اسے مرمت کروانے سے اجتناب کیا ہو۔ پٹریاں ٹیڑھی میڑھی، بولٹ غائب، سلیپر تھکے ہوئے مزدوروں کی طرح ادھ موئے۔ بوگیوں کی حالت بیان کرنے کو جی چاہتا ہے کہ مریض کا آپریشن تو ہو گیا مگر بیماری ویسے کی ویسی۔ ریلوے کے انجنوں کا عالم یہ کہ چلتے کم ہیں کھانستے زیادہ ہیں۔ نصف انجن اسقاطِ محنت کا شکار ہیں باقی آکسیجن ٹینک پر چل رہے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک ریلوے انجن نے بندن میاں سے دردِ دل بیان کیا۔ کہنے لگا ہم بھی مشین ہیں ہمیں بھی سروسنگ چاہیےتیل گریس چاہیے، تھوڑی محبت چاہیے۔ مگر یہاں ہمارے پیچھے ایک کے بعد ایک ٹرین باندھ دی جاتی ہیں جنہیں ہم نے ہر حال میں کھینچنا ہوتا ہے اور اوپر سے الزام بھی ہم ہی پر آ جاتا ہے کہ انجن فیل ہوگیا۔ بندن میاں نے اسے دلاسا دیاپتریہاں آدمی فیل ہو جائے تو دوبارہ لگا دیا جاتا ہے، مگر انجن فیل ہو جائے تو اسے وہیں چھوڑ دیتے ہیں، ٹرین کے ساتھ زنجیر بھی باندھ دیتے ہیں۔
ریلوے انتظامیہ نے صفائی کا نظام بھی آؤٹ سورس کر دیا ہے۔ بندن میاں کے مطابق صفائی والی کمپنی شاید دور ہی بیٹھ کر صفائی کرتی ہے کیونکہ اسٹیشنوں کی حالت ایسی ہے جیسے اناڑی نائ نے داڑھی کے بال اور آنکھوں کی بھویں مونڈ کر ان کو زخمی زخمی سا کر دیا گیا ہو ۔ اے ٹی ایم لگ رہے ہیں ویٹنگ روم بن رہے ہیں مگر ٹرینیں وقت پر نہیں پہنچ رہیں۔ مسافر کہتے ہیں نیٹ چل رہا ہے مگر ٹرین کیوں نہیں چل رہی؟
ایک اسٹیشن پر بندن میاں نے دیکھا کہ اے آئی کیمرے نصب ہیں۔ ایک مسافر نے بڑی حیرت سے پوچھابندن میاں یہ کیا کرتے ہیں بندن میاں بولےیہ دیکھتے ہیں کہ ٹرین کب لیٹ ہو رہی ہےکیوں لیٹ ہو رہی ہےاور جیسے ہی کوئی چوری چکاری ہوتی ہے تو یہ کیمرے حیرت سے اپنی پلکیں جھپکاتے رہتے ہیں۔مسافر نے پوچھا، پھر پکڑتے کیوں نہیں؟بندن میاں نے جواب دیا، کیمرے پکڑیں یا ریلوے والے پکڑیں؟ یہاں تو اصل پکڑ دھکڑ مسافر کی ہوتی ہے جب اسے ایک ٹکٹ لینے کے لیے دس جگہ چکر کاٹنا پڑے۔
ریلوے کی نئی ڈیجیٹل سروس میں آن لائن ٹکٹنگ کا حال یہ ہے کہ بندہ اگر ٹکٹ بک کرنے بیٹھے تو سسٹم اتنا سوچتا ہے جتنا سوچنے کے بعد پوری قوم تھک کر سوجاتی ہے۔ ایک دن بندن میاں نے ٹکٹ بک کرنے کی کوشش کی تو ویب سائٹ نے اتنا لُوڈ لیا کہ بندن میاں نے کہا، بھائی پہلے یہ بتاؤ کہ ٹرین چلے گی یا نہیں، پھر ٹکٹ لے لیں گے۔
پاکستان ریلوے کا ڈھانچہ اس وقت ایسا ہے جیسے ایک عمارت جس کی بنیادیں 1861 میں رکھی گئیں مرمت 1900 کے بعد سے ٹھیک سے نہیں ہوئی اور اب ہم اس پر ٹائلیں لگانے اور گیٹ پر سیکیورٹی کیمرے لگانے میں لگے ہیں۔ بندن میاں پوچھتے ہیں کیا وائی فائی ٹریک سیدھا کرے گا؟ کیا اے آئی کیمرے ٹرین کا بریک ٹھیک کریں گے؟ کیا ڈیجیٹل ویٹنگ روم بوگی کا پنکھا چلائیں گے؟
نہیں جناب ہر کام کی ایک اصل ہوتی ہے۔ ریلوے کی اصل ٹرین، انجن، ٹریک اور آپریشن ہوتے ہیں۔ اگر یہ چاروں ٹھیک ہوں تو پھر چاہے وائی فائی لگاؤ یا نہ لگاؤ، مسافر خوش رہیں گے۔
مگر یہاں اصل کو چھوڑ کر ظاہری چمک دمک پر توجہ دی جاتی ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ ہم نے فری وائی فائی دے دیا ہے، لوگوں کو سہولت ہے۔ بندن میاں نے کہاصاحب پہلے ٹرین وقت پر دے دیں وائی فائی ہم اپنے موبائل کے پیکیج سے بھی چلا لیں گے۔
بندن میاں نے پورے پاکستان کے ریلوے اسٹیشن دیکھے ہیں۔ کہیں پلیٹ فارم اونچا ہے تو بوگی نیچی، کہیں بوگی اونچی ہے تو پلیٹ فارم نیچا۔ کہیں ٹرین ایسے رکتی ہے جیسے منہ زور گھوڑا اچانک رک جائے۔ کہیں پٹٹری ایسی ہےکہ ٹرین مینڈک کی طرح اچھل رہی ہوتی ہے بندن میاں نے کہایہ ٹریک نہیں، کانٹا ہےاس پر تو خواب بھی نہیں چلیں گےٹرین کا ذکر ہی چھوڑ دیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ریلوے کے اسٹیشنوں کو جدت دینے والے خود کبھی ٹرین میں سفرہی نہیں کرتے۔ وہ صرف افتتاح کرتے ہیں ربن کاٹتے ہیں مسکرا کر تصویر کھنچا دیتے ہیں اور پھر ایئرکنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ بندن میاں نے پوچھاصاحب ایک دن بوگی میں بیٹھ کر کراچی سے لاہور کا سفر کیجئے، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اصل ترقی کہاں ضروری ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ وزیر اور افسر صرف وہی دکھاتے ہیں جوان کی من مرضی سے دکھایا جا نا مطلوب ہومگر وہ نہیں دکھاتے جو دکھائی نہیں دیتا مگر محسوس ہوتا ہےیعنی عوام کا درد، پنشنروں کی فائلیں، ملازمین کے مسائل، اور تباہ ہوتی ریلوے کا اصل حال۔
اگر ریلوے میں واقعی ترقی ہوتی تو آج مسافر ٹکٹ بلا خوف خریدتے، ٹرینیں وقت پر پہنچتیں، بوگیاں صاف ہوتیں، انجن مضبوط ہوتے، ٹریک سیدھا ہوتا، اور سب سے بڑھ کرمسافر مطمئن ہوتا۔ مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ وائی فائی کی رفتار ٹرین کی رفتار سے زیادہ ہےاور اے آئی کیمرے مسافروں کی تیز دوڑ دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ کیوں دوڑ رہے ہیں ؟بندن میاں بتاتے ہیں کیونکہ ٹرین کے آنے کا پلیٹ فارم ٹرین کے پلیٹ فارم پر پہنچنے سے کچھ لمحے پہلے بدل دیا جاتا ہے، اور اعلان ابھی تک نہیں ہوا ہوتا ۔
ریلوے کی ترقی کا اصل مطلب تب ہوگا جب ،ٹریک نئی زندگی پائے،انجن سانس لینا نہ چھوڑیں،بوگیاں مسافروں کے قابل ہوں،ٹرینیں وقت کی پابند ہوں اور مسافر شکایت کے بجائے شکریہ ادا کرنے لگیں۔ڈیجیٹل ترقی اچھی چیز ہےمگر اس کا آغاز بنیادی چیزوں سے ہونا چاہیے۔ ریلوے کا ستون ٹرین ہے، وائی فائی نہیں۔ انجن ہے، کیمرہ نہیں۔ ٹریک ہے، پورٹل نہیں۔
اور بندن میاں آخر میں یہی کہتے ہیں،حضورٹرینیں ٹریک پر چلتی ہیں وائی فائی پر نہیں۔ لہٰذا پہلے وہ درست کریں جس پر چل کر منزل ملتی ہے۔ ورنہ ترقی صرف اشتہاروں میں ہوگی پٹری پر نہیں۔
