اکتوبر 30, 2026

بھکھی شریف میں سالانہ عرس کی عظیم الشان تقریب ، حسد و کینہ معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، صبر و برداشت وقت کی ضرورت ہے: ڈاکٹر مفتی پیر سید نوید الحسن مشہدی

ڈنگہ (زمان اسلم) درگاہ مقدسہ بھکھی شریف میں غوثِ زماں، مفتیِ اعظم پاکستان علامہ مفتی پیر سید محمد جلال الدین شاہ مشہدی کے چالیسویں سالانہ عرس مبارک اور استاذ العلماء حضرت پیر سید محمد مظہر قیوم شاہ مشہدی کے سولہویں سالانہ عرس کی تقریب بھرپور عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ صدارت سجادہ نشین درگاہ مقدسہ بھکھی شریف، شیخ الحدیث حضرت ڈاکٹر مفتی پیر سید محمد نوید الحسن شاہ مشہدی نے کی۔

تقریب کا آغاز نمازِ فجر کے بعد ختم خواجگان شریف اور خصوصی دعا سے ہوا۔ عرس میں بطور مہمانِ خصوصی جانشین فخر المشائخ میاں ولید احمد جواد سجادہ نشین شرقپور شریف اور علامہ صاحبزادہ حامد رضا سیالکوٹی سابق وزیر مذہبی امور آزاد کشمیر نے خصوصی شرکت کی۔ علمائے کرام، مشائخ عظام، حفاظ و قراء، مفتیان کرام اور ملک بھر سے آئے ہزاروں مریدین نے قافلوں کی صورت میں شرکت کر کے پنڈال کو بھر دیا۔

عرس کی تقریب میں دارالعلوم جلالیہ چیلیانوالہ اسٹیشن کے فارغ التحصیل علمائے کرام، مفتیان عظام اور حفاظ و قراء کی دستار بندی اور جبہ پوشی کی گئی۔ مثالی سیکیورٹی، وسیع پارکنگ اور بہترین انتظامات نے تقریب کو مزید منظم بنایا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین ڈاکٹر مفتی پیر سید محمد نوید الحسن شاہ مشہدی نے کہا کہ حسد، بغض اور کینہ معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہیں، صبر، برداشت اور تزکیہ نفس کے بغیر معاشرتی جرائم سے نجات ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی بگاڑ، اخلاقی انحطاط اور اسلامی اقدار سے دوری نے معاشرے کو نقصان پہنچایا ہے، قرآن و سنت کی اجتماعی زندگی میں عملداری ہی حقیقی فلاح کا راستہ ہے۔ نوجوانوں کی کردار سازی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور والدین، اساتذہ اور ریاستی اداروں کے باہمی تعاون سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

مقررین نے مشائخ بھکھی شریف کی علمی، دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور دارالعلوم جلالیہ کی جانب سے علماء، مفتیان، حفاظ و قراء کی فراغت پر مبارک پیش کی۔ اختتام پر شجرہ شریف پڑھا گیا، ملک و ملت کے لیے خصوصی دعا ہوئی اور زائرین میں لنگر تقسیم کیا گیا۔